بھارتی عدالت مسلمان مرد اور ہندو عورت کی شادی غیرقانونی قرار دے دی

  • اتوار 02 / جون / 2024

انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت ایک دوسرے سے شادی نہیں کر سکتے۔ فیصلے کے مطابق ایسی شادی کو اسلامی قوانین کی بنیاد پر یا سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اسلامی قانون کسی مسلمان مرد کی کسی ’بت پرست یا آگ کی پوجا کرنے والی‘ ہندو عورت سے شادی کی اجازت نہیں دیتا اور ایسی شادی کو سپیشل میرج ایکٹ کے تحت بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم تجزیہ کار ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سپیشل میرج ایکٹ کے نفاذ کے مقصد کے خلاف ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مسلمان مرد اور ہندو عورت کی شادی، جس میں دونوں شادی کے بعد اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوں، اس شادی کو درست نہیں مانا جا سکتا۔

مدھیہ پردیش کے ایک مسلمان مرد اور ہندو خاتون کے جوڑے نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ دونوں شادی کے بعد دونوں اپنے اپنے مذہب کی پیروی  کرن چاہتے ہیں۔ انہوں نے سپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے پہلے میرج آفیسر کو درخواست دی تھی لیکن دونوں کے خاندانوں کے اعتراضات کی وجہ سے ان کی شادی رجسٹر نہیں ہوسکی۔

دونوں نے عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ اپنی شادی رجسٹر کروا سکیں۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ایسی شادی مسلم پرسنل لا کے تحت درست نہیں ہے۔ اورسپیشل میرج ایکٹ بھی ایسی شادی کو قانونی نہیں بنائے گا، جسے پرسنل لا کے تحت قانونی شناخت حاصل نہ ہو۔

دوسری جانب جوڑے کا موقف تھا کہ سپیشل میرج ایکٹ کے سامنے پرسنل لا کو ترجیح نہیں ہونی چاہیے اور ان کی شادی کو رجسٹر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر شادی پر پابندی ہے تو پھر یہ قانون بھی اس کا جواز نہیں بن سکتا۔

خاندانی معاملات کے بہت سے قانونی ماہرین مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ ن ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے میں سپیشل میرج ایکٹ کے نفاذ کے مقصد کی نفی کی گئی ہے۔ سپیشل میرج ایکٹ کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ ’شادی کرنے والے شخص کی پارٹی یا مذہب سے قطع نظر، یہ قانون تمام ہندوستانیوں کی شادی کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ جب تک فریقین سپیشل میرج ایکٹ کے تقاضوں کی تعمیل کرتے ہیں، وہ شادی کے کسی بھی رواج کو اپنا سکتے ہیں۔ خاندانی قانون کی ماہر وکیل مالویکا راجکوٹیا نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ ’قانون کے مطابق یہ درست فیصلہ نہیں ہے۔ اسے سپریم کورٹ میں پلٹ دیا جائے گا۔ اس فیصلے میں سپیشل میرج ایکٹ کی اصل روح شامل نہیں ہے، جس کا مقصد بین المذہبی شادیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔‘