بھارت میں انتخابات کے تمام مراحل مکمل، حکمران اتحاد کی جیت کا امکان

  • اتوار 02 / جون / 2024

بھارتی لوک سبھا انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پولز  کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد مقامی نشریاتی ادارے 'این ڈی ٹی وی' نے دو ایگزٹ پولز کا خلاصہ جاری کیا ہے جس کے مطابق حکمراں اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو لوک سبھا کی 543 میں سے 350 سے زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں۔ این ڈی اے اتحاد نے 2019 کے انتخابات میں 353 نشستیں حاصل کی تھیں۔

بھارت میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ایگزٹ پولز کے مطابق کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 'انڈیا' کو 120 سے زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایگزٹ پولز سے مراد ووٹرز کی رائے ہے اور یہ رائے جاننے کے لیے مختلف کمپنیاں پولنگ اسٹیشنز کے باہر اپنے نمائندوں کے ذریعے ووٹ دینے کے بیان کی روشنی میں مرتب کرتی ہیں۔ البتہ بھارت میں ایگزٹ پولز کے ریکارڈ قابلِ اطمینان نہیں ہے کیوں کہ ماضی میں کئی پولز کے نتائج غلط نکلے ہیں۔

بھارت کا الیکشن کمیشن چار جون کو ووٹوں کی گنتی کرے گا اور اسی روز سرکاری نتیجے کا اعلان متوقع ہے۔

بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ چار جون کو حکمراں اتحاد این ڈی اے کو 400 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جب کہ اپوزیشن کے اتحاد 'انڈیا' نے بھی 273 سے زائد نشستیں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں حکومت سازی کے لیے 543 میں سے 273 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

اپوزیشن اتحاد نے ہفتے کو پولنگ مکمل ہونے کے بعد حلیف جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں آئندہ کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم مودی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے وارانسی سے امیدوار ہیں اور اس حلقے سے وہ تیسری مرتبہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار اجے رائے سے ہے جن کی حمایت ریاست کی ایک بااثر جماعت سماج وادی پارٹی کر رہی ہے۔ ریاست میں دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد ہے۔

وزیرِ اعظم مودی کے حلقے میں ووٹنگ کا عمل جاری رہا لیکن وہ ریاست تمل ناڈو کے کنیا کماری میں واقع وویکانند میموریل میں مراقبہ کر رہے ہیں جو ہفتے کی شام تک جاری رہے گا۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی کے مراقبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ووٹنگ کے روز انتخابی مہم قرار دیا ہے اور اس کی شکایت الیکشن کمیشن سے بھی کی ہے۔

ہفتے کو ہونے والی ووٹنگ میں ریاست ہماچل پردیش کے منڈی حلقے سے بی جے پی کے ٹکٹ پر متنازع بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت میدان میں ہیں جب کہ ریاست بہار کے پاٹلی پترا سے سابق وزیرِ اعلیٰ لالو پرساد یادو کی بیٹی میسا بھارتی الیکشن لڑ رہی ہیں۔ بہار سے ہی سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد بھی میدان میں ہیں۔