ہنوز دلی دور است
- تحریر خالد محمود اوسلو
- اتوار 02 / جون / 2024
چودہ فروری کی صبع دلی ائیرپورٹ پر پہنچا تو ائیرپورٹ کا ماحول بڑا ہی پُر سکون تھا۔ دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کی راجدھانی کے ائیرپورٹ پر بھیڑ نہ ہونے کے برابر تھی۔
ویسی گہما گہمی مفقود تھی جو ترقی یافتہ ممالک کے ائیرپورٹ پہ صبع کے وقت دیکھنے کو ملتی ہے۔ دلی پہنچ کر ذہن میں تاریخ کے ابواب کھلنا فطری سا عمل ہے۔ دلی کی شاہراہوں پر گھومتے ہوئے ہر موڑ پہ اُن شہنشاہوں کی شہنشاہیت کے آثار دکھائی دیتے ہیں جن کا یہ شہر مسند اقتدار رہا۔
دلی شاید اس کرہ ارضی کا واحد شہر ہے جس نے کئی رنگ دیکھے ہیں اور کئی تہذیبوں کو اپنی گود میں پناہ دی ہے۔ اس کا عروج بھی بے مثال رہا ہے اور اس نے بے رحم حملہ آوروں کے طمانچے بھی بے پناہ سہے ۔ اس کے در و دیوار نے گریہ وزاری بھی کی اور بھلے وقتوں میں رومانس اور رعنائیوں کی آمجگاہ بھی بنا۔ یہ شہرمغلوں کے ذوق اور حسن پرستی سے بہرہ مند بھی ہوا تو نادر شاہ کی رچائی ہوئی خون ریزی اور 1857کے شہدا کے خون پر اشکبار بھی ہوا۔ لیکن دلی آج بھی زندہ و آبادہے اور اس کو اجاڑنے والے مر گئے۔
یہ شہر کئی تہذیبوں اور ادوار کی تاریخ کو اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ بے شک آج بھی دلی اپنی اصل روح و شناخت کو برقرار رکھنے میں نئے معرکوں سے نبرد آزما ہے۔ برحال دلی میں گھومتے ہوئے آپ اس کے کثیر الثقافتی، کثیرالمذہبی ، کثیرالسانی اور کثیر الاقومی چہرے کا عکس قدم قدم پر دیکھتے ہیں۔ دلی پہنچ کر ہمارے ذہن میں سب سے پہلے تو حضرت نظام الدین اولیاء کے کہے ہوئے الفاظ کہ: ہنوز دلی دور است، یاد آتے ہیں ۔ اور خود کو دلی میں پا کر لگتا ہے کہ دلی دور ہونے کا نہ جانے کتنے دلوں میں ملال رہا ہو گا ۔ حالانکہ نظام الدین اولیاء نے تو ان الفاظ کو اپنی مصیبت کے دور ہونے کے استعارے کے طور پہ استعمال کیا تھا جب شہنشاہ غیاث الدین تغلق نے انہیں دلی سے نکالنے کی ٹھانی تھی۔
دلی میں اُن کے نام سے منسوب حضرت نظام الدین بستی ایک منفرد بستی ہے جس کے ایک کنارے ہمایوں بادشاہ کا مقبرہ ہے تو دوسرے کنارے اُن کی درگاہ ہے۔ اور اس کے درمیان امیر خسرو، اسد اللہ غالب، خواجہ حسن نظامی اور کئی ہستیاں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ اور دلی کی اس بستی میں مذہبی عقیدت، ادب اور ثقافت کی آمیزش نمایاں ہے۔
حضرت کی درگاہ پر پہنچ کرسمجھ آتی ہے کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلی دور است کیا معنویت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مزار پہ زائرین کی بھیڑ بتا رہی تھی کہ انہیں دلی سے دور رکھنے کی خواہش رکھنےوالے تو کہیں گوشہ گمنامی میں تہ خاک پڑے ہیں جبکہ حضرت کی مرقد اقدس کے پررونق ماحول میں کئی زندوں کے در سے بھی زیادہ زندگی ہے:
جنہاں عشق نمازاں پڑھیاں او کدی نہیں مردے
در اُنہاں دے آ کے ویکھ لو آج وی دیوے بلدے
مزاروں پہ حاضری سے متعلق بحث سے اجتناب کرتے ہوئے ایک حقیقت کو ماننا پڑتاہے کہ ان برگزیدہ ہستیوں کی حیات میں کوئی تو خاص ڈھنگ تھا جس نےا نکی ذات کو امر کر دیا۔ اُن کی مرقد سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود عقیدت مندوں کی اُمنگوں کا مرکز ہیں۔ اُن کی زندگی کوئی کمال تو رکھتی ہوگی۔ کوئی تو بے مثال وصف ہوگا جس کی بدولت مرنے کے بعد بھی اُن کے آستانوں سے انسانیت کا درس جاری و ساری ہے جبکہ زندہ انسانوں کے ہاتھوں انسانیت آج بھی سسک رہی ہے۔
ویسے دیکھا جائے توان کے آستانے سےکئی خاندانوں کی روزی بھی وابستہ ہے۔ حضرت کی خانقاہ پر پہنچتے ہی دہائیوں افراد آپ کو گھیر لیتے ہیں اور ہر کوئی ان کا اصلی گدی نشین ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے خانقاہ کے لیے صدقہ و نیاز کی استدعا کرتا ہے۔ مختلف درگاہوں پر حاضری کے تجربہ کی بدولت ایسا مرحلہ بغیر کسی مشکل کے طےہو ہی جاتا ہے۔ بقول شاعر:
کچھ اس طرح سے میں نے زندگی کو آسان کر لیا
کسی سے معافی مانگ لی اور کسی کو معاف کر دیا
درگاہ نظام الدین اولیاء کے قریب ہی غالب کا بھی مزار ہے اور ساتھ غالب کی اکیڈمی بھی ۔ دلی میں آپ ہوں اور غالب کا خیال نہ آئے یہ ممکن نہیں ۔ غالب نے بھی دلی کو ہر رنگ میں دیکھا ہے۔ اُس نے اس شہر میں آسودگی بھی دیکھی اور دکھ بھری آہیں بھی بھریں ۔ اس کے شاد آباد ہونے سے لطف اندوز ہوا اور اُس نےاُجڑے ہوئے دلی پہ ماتم بھی کیا۔ آج کا دلی تو بس ایک گنجان آبادی اور انسانوں کی بھیڑ کا شہر ہی لگتا ہے لہٰذا غالب والے دلی کی تصویر تو تصور میں ہی سجائے جا سکتی ہے۔ ویسے بھی ہر زمانہ اپنے رنگ و ڈھنگ کا حامل ہوتا ہے۔ یقیناً آج بھی کوئی اس شہر کا غالب تو ضرور ہو گا لیکن اس کو آج کے دلی کی بھیڑ میں سے نمایاں ہو کراُبھرنے کیلئے شاید غالب جیسی ہی مشق درکار ہو۔ پھر کہیں شاید آج کے دلی والوں کے درد کو الفاظ کا پیرہن مل سکے۔
دلی میں ویسے تو دیکھنے کو بہت کچھ ہے اور چند نہیں کئی دن درکار ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ غالب کی یادگار، لال قلعہ، پرانے دلی میں جامع مسجد، مقبرہ ہمایوں، قطب مینار اور انڈیا گیٹ دیکھ لیں تو آپ دلی کو دیکھنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں ۔
خوش خوراک سیاحوں کے لیے پرانے دلی دریا گنج کے علاقے اور چاندنی چوک کی یاترا لازم ہے۔ دلی میں مختصر وقت گزارنے کے بعد اپنی اگلی منزل کا رخ کر لیا۔ (جاری)