امانتیں کئی سال کی: محنت اور محبت کے کئی برس
- تحریر مختار چوہدری
- اتوار 02 / جون / 2024
اس خاکسار نے چندہ ماہ پہلے ایک کالم کے میں تین نامور کالم نگاروں کے حوالے سے لکھا تھا جو میری نظر میں نہایت ایمانداری اور سچائی سے لکھتے ہیں، جن کا متمح نظر پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری ہوتا ہے۔ ان میں ایک مجاہد علی ہیں۔
وہ ستر کی دہائی سے ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے لکھ رہے ہیں۔ نارویجین اخبار میں لکھتے رہے، ریڈیو کی اردو سروس سے بولتے رہے اور پھر 80 کی دہائی کے اوائل سے "کاروان" کے نام سے اردو ماہنامہ کا آغاز کیا اور یہ کارواں بڑھتا گیا۔ اور 2012 سے معلومات کے جدید دور میں داخل ہو کر آن لائن روزنامہ کی شکل اختیار کر گیا۔ مجاہد صاحب روزانہ کی بنیاد پر اپنا اداریہ لکھنے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر تبصرے تجزیے اور کالم بھی لکھ رہے ہیں۔
مجاہد علی شاہ صاحب پاکستان میں وجاہت مسعود صاحب کی ویب سائٹ "ہم سب" میں بھی روزانہ ہی لکھتے ہیں۔ شاہ صاحب کے لکھنے کا انداز پاکستان کے بیشتر لکھاریوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ وطن عزیز میں بیشتر صحافیوں اور لکھاریوں کا کام ان کے پیٹ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کوئی دوسرا روزگار نہیں ہوتا اور پاکستان معاشی طور پر ایسا ملک ہے جہاں بندے کے پاس جتنی بھی دولت ہو وہ پھر بھی بھوکا ہی رہتا ہے. جبکہ مجاہد علی شاہ صاحب ناروے جیسی فلاحی ریاست میں رہتے ہوئے معاش سے بے فکر اور رگوں میں چلنے والے سیدی خون کی وجہ سے نڈر صحافی ہیں۔
ویسے بھی بندہ جس بیباکی سے بیرون ملک بیٹھ کر لکھ سکتا ہے، وہ پاکستان میں رہ کر ممکن نہیں ہے۔ مجاہد علی شاہ تنقید بھی بے جگری سے کرتے ہیں لیکن صحافتی اصولوں کے پابند اس طرح ہیں کہ ان کی تنقید میں ذرہ برابر بھی کسی بھی قسم کا تعصب نظر آ سکتا ہے، نہ ان کی کوئی ذاتی پسند نا پسند ہوتی ہے۔ صحافت شاہ صاحب کے جینز میں شامل ہے اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہوا ناروے کی نامور صحافی بیٹی ماہ رخ علی کی صورت میں نظر آتا ہے۔
میں نے اپنے کالم میں دوستوں کو لکھا تھا کہ شاہ صاحب کی تحریریں پڑھنے کے لیے کاروان یا ہم سب کی ویب سائٹ دیکھیں لیکن اب یہ اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ کیونکہ سید مجاہد علی کے پچھلی ایک دہانی کے تبصرے، تجزیے، کالمز اور اداریوں پر مشتمل کتاب "امانتیں کئی سال کی" کی صورت میں سامنے آ گئے ہیں۔ یہ کتاب دس جلدوں پر مشتمل ہے، اس کی تقریب رونمائی گزشتہ روز عطا الحق قاسمی کی زیر صدارت لاہور کے الحمرا ہال میں ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی نامور صحافی، تجزیہ نگار، کالم نگار اور مشہور اینکر سہیل وڑائچ صاحب تھے۔
اس محفل کو چار چاند لگانے اور اظہار خیال کرنے والوں میں میرے پسندیدہ کالم نگار صدارتی ایوارڈ یافتہ جناب وجاہت مسعود بھی شامل تھے. اس تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر نعیم ورک نے ادا کیے اور جناب سجاد میر، جناب ڈاکٹر نجیب جمال اور جناب ڈاکٹر سعادت سعید نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے سید مجاہد علی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ان کی تصانیف کو پاکستان کے لیے اہم قرار دیا۔
یہ کہنے کو ایک کتاب ہے لیکن موٹی موٹی دس جلدوں پر مشتمل وہ تحریری خزانہ ہے جسے پڑھ کر اور اس پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کو درست راہ پر چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں پر تو پٹی ہوتی ہے، ان تک اپنے خوشامدیوں کے ذریعہ سب اچھا اور ہر طرف ہریالی کی نوید ہی پہنچتی ہے۔ لیکن میں عام پاکستانیوں کو زور دے کر کہتا ہوں کہ مجاہد علی کی کئی سال کی محنت سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کتاب کو پڑھیں اور محنت کے ان موتیوں کو اپنے دوستوں اور احباب تک بھی پہنچائیں۔
شاہ صاحب کی اس ساری ریاضت کو کتابی شکل دینے میں جو محنت "عکس پبلیکیشنز" کے نوجوان ایم ڈی فہد صاحب نے کی ہے اس کو خراج تحسین پیش کیے بغیر اس کتاب کا حوالہ مکمل نہیں ہوتا۔ محمد فہد کا ادب کے ساتھ گہرا لگاؤ ہے جس نے فہد کو لاہور کے پبلیکیشنز میں سرفہرست کر دیا ہے۔
گو کہ میرے وطن میں لوگوں کی اکثریت کتاب سے دور ہو چکی ہے اور سوشل میڈیا پر انتہائی مصروف ہو کر بھی کوئی سودمند مواد سے دور ہے لیکن پھر بھی میری گزارش ہے کہ کتاب "امانتیں کئی سال کی" ضرور پڑھئے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ آزاد کشمیر میں بھی اس کتاب کی تقریب رونمائی کا اہتمام کریں۔ لیکن اس سے پہلے آپ اس کتاب کی تمام جلدیں رعایتی قیمت پر "عکس پبلیکیشنز" لاہور سے منگوا سکتے ہیں۔ ناروے اور یورپ میں رہنے والے دوست یہ کتاب براہ راست سید مجاہد علی سے رابطہ کر کے لے سکتے ہیں۔ ناروے میں بھی اس کتاب کی تقریب رونمائی جلد منعقد کی جائے گی۔ انشاءاللہ۔