الحمرا لاہور میں ’امانتیں کئی سال کی‘ کی تقریب
- تحریر مظہر چوہدری
- اتوار 02 / جون / 2024
. معروف صحافی و لکھاری سید مجاہد علی کے دس جلدوں پر مشتمل کالمی و ادارتی مجموعے کی تقریب رونمائی کا الحمراء ادبی بیٹھک میں نہایت ہی اہتمام سے منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمان خصوصی سہیل وڑائچ تھے جب کہ صدارت عطاء الحق قاسمی صاحب کے ذمہ تھی۔
اظہار خیال کرنے والوں میں وجاہت مسعود، ڈاکٹر سعادت سعید، نجیب جمال اور سجاد میر شامل تھے۔ ڈاکٹر نعیم ورک نظامت کا فریضہ سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ سید مجاہد علی کے علمی و تحقیقی کام پر بھی روشنی ڈالتے رہے۔
مقررین کی گفتگو کا لب لباب بیان کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ دس جلدوں پر مشتمل سید مجاہد علی کے کالموں اور اداریوں کی اس کتاب کو عکس پبلیکیشنز ٹیمپل روڑ لاہور نے شائع کیا ہے۔ اور آج کی تقریب بھی پبلشرز کے زیر اہتمام ہوئی۔ تقریب کے آغاز میں عکس پبلیکیشنز کے روح رواں محمد فہد نے کہا کہ زیر بحث کتاب کی دس جلدیں پاکستان کی دس سالہ (2014 سے 2024 ) سیاسی تاریخ کی غیر جانبدارانہ تصویر کشی ہے۔ دیکھا جائے تو گزشتہ دس سال ملکی تاریخ کے تنازعات سے بھر پور لیکن اہم ترین سالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
عکس پبلی کیشنز نے دس سالوں کی تاریخ کو دس جلدوں میں کمال خوب صورتی سے محفوظ کر کے جو تاریخی کارنامہ سر انجام دیا ہے، اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔
تقریب کے مہمان خصوصی سہیل وڑائچ نے اخبار میں اداریے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اداریہ اخبار کی پالیسی کا عکاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید مجاہد علی کے اداریوں کے موضوعات منفرد نوعیت کے ہوتے ہیں اور وہ ناروے میں بیٹھ کر پاکستان کی جمہوریت اور جمہوری اداروں پر جس دبنگ انداز میں لکھتے ہیں، وہ ہم پاکستان میں رہ کر نہیں لکھ سکتے۔ ان کے مطابق اردو زبان میں اتنے بڑے پیمانے پر اداریے پہلی بار شائع ہو رہے ہیں۔ سید مجاہد علی کے اداریے نہ صرف سیاست و صحافت سے جڑے اساتذہ اور طلبہ کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں، بل کہ پاکستانی سیاست کو درست تناظر میں سمجھنے کے خواہاں عام افراد بھی اس سے یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔
وجاہت مسعود نے اداریوں کی دس جلدیں شائع کرنے پر عکس پبلیکیشنز کے محمد فہد اور نوفل جیلانی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے سید مجاہد علی کے سبھی اداریے پڑھے ہیں۔ مجاہد علی کی خوبی یہ رہی کہ انہوں نے دس سالوں میں لکھے گئے اداریوں میں اپنی غیر جانب داری پر آنچ نہیں آنے دی۔ انہوں نے 2014 میں ہونے والے تاریخی دھرنوں کے پس پشت قوتوں پر بھی تنقید کی تھی اور 9 مئی کے واقعات کے نتیجے میں ملک میں جمہوریت اور جمہوری عمل کمزور ہونے پر بھی وہ دل گرفتاں ہیں۔
ڈاکٹر نجیب جمال نے کہا کہ سید مجاہد علی کے اداریے پاکستان کی متوازی تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے سید مجاہد علی کے ناروے میں" کارواں " سے شروع ہونے والے صحافتی سفر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سید صاحب چار دہائیوں سے زائد کے عرصے میں مسلسل چلتے رہے، کھوجتے رہے، جستجو کرتے رہے۔ مصائب کے باوجود وہ تھکے نہیں، وہ اپنی ذات میں کارواں بنے رہے ہیں۔
ڈاکٹر سعادت سعید اور سجاد میر نے بھی سید مجاہد علی کے عظیم تحقیقی اور صحافتی کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اداریوں کی دس جلدیں دراصل ملکی سیاست کے آخری دس سالوں کی غیر جانب دارانہ تاریخ ہے۔ ریسرچ سکالرز کے لیے یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا سے کم نہیں۔
کتاب کے مصنف سید مجاہد علی نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ناروے میں اپنے صحافتی سفر کی یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ عکس پبلیکیشنز کے کام کو سراہا۔ تقریب کی صدارت کا فریضہ سنبھالنے والے سئینر لکھاری عطاء الحق قاسمی صاحب کا کہنا تھا کہ سید مجاہد علی نے اپنے اداریوں میں کسی مخصوص سیاسی جماعت یا نظریے کی بجائے پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہ عکس پبلیکیشنز نے دس جلدوں پر مشتمل سید مجاہد علی کے کالم اور اداریے نہایت دیدہ زیب صفحات پر چھاپے ہیں۔ پبلک و نجی یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں یہ کتاب ریسرچ سکالرز کے لیے موجود ہونی چاہیے۔ صحافت و سیاست سے جڑے افراد کے علاوہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والے احباب کو یہ کتاب گاہے بگاہے مطالعہ کی غرض سے ضرور اپنے پاس رکھنی چاہیے کہ یہ گزشتہ دس سالہ تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔
یہ ایک یا چند نشستوں میں پڑھے جانے والا سلسلہ نہیں، اسے آپ جب فرصت ملے یا جب کبھی کسی سال کی سیاسی پیش رفت اور مسائل بارے غیر جانب دارانہ نقطہ نظر معلوم کرنے کی ضرورت پڑے، پڑھ سکتے ہیں۔ کتاب کے حصول کے لیے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
03004827500
04236294000