عمران خان، شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں بری ہوگئے

  • سوموار 03 / جون / 2024

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کردیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں سزا کی خلاف اپیلوں پر مختصر فیصلہ سنایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان، شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرلیں۔ آج عدالت نے سائفر کیس میں اپیلوں پر سماعت مکمل کرلی تھی، عدالتی عملے نے بتایا تھا کہ سائفر کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں حاضر تھے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر عمران خان کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز نہیں، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس سے متعلق تو آپ کے کلائنٹ کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے۔ سلمان صفدر نے بتایا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں۔ وکیل نے بتایا کہ رات 12 بجے تک بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں، صبح 8 بجے ملزمان کو 342 کے بیان کے لیے بلا لیا، جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔

اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ 11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہونا شروع ہو اور 1 بجے تک جاری رہا، جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گئے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ 2 کونسلز جنہوں نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ٹرائل کورٹ میں جراح کی کیا انہوں نے کبھی کریمنل کیس لڑا ہے؟ اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں۔

بعد ازاں عمران خان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاپرواہی کا الزام جو بانی چیئرمین پر لگا ہے یہ الزام ان پر لگتا ہی نہیں۔ 4 گواہان کے مطابق سائفر کی حفاظت اعظم خان کی ذمہ داری تھی، دو سال تحقیقات ہوئیں اس کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی۔ باقی 8 کاپیاں بھی ایف آئی کی کارروائی کے بعد وآپس ہوئیں، جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ جب ثبوت ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے لیکن سائفر تو ان کے پاس موجود ہے۔

اسی دوران سائفر کیس میں پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت پہنچ گئے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کیس کو ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیں، اس میں خامیاں ہیں ۔ سلمان صفدر صاحب آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں؟ وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ آج ہمیں اس کیس میں تین ماہ ہو گئے ہیں، ہم بہت اگے نکل گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار علی نقوی کی جانب سے کہا گیا کیس میرٹ پر نہیں سنا جا سکتا، ہم آپ سے قانونی طور پر معاونت چاہتے ہیں۔

سلمان صفدر نے کہا کہ سر مجھے تین سے چار منٹ دیں ایک مزے کی ججمنٹ پیش کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلا نے کیس ریمانڈ بیک کرنے کی مخالفت کردی۔

بعد ازاں پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے گواہ اعظم خان کا بیان عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اگر انہوں نے کہا کہ ملٹری سیکریٹری کو ڈھونڈنے کے لیے بتایا تو جان بوجھ کر تو نہیں ہوا ناں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ ان کو چھوڑیں۔ کیس آپ کا تھا تو آپ نے ثابت کرنا ہے، جان بوجھ کر سائفر کاپی عمران خان نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں۔

جسٹس عامر فاروق نے مزید دریافت کیا کہ کیا پراسیکیوشن کے پاس اعظم خان کے بیان کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟ پراسیکوشن کا کیس تب آسان ہوتا اگر سائفر کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کرتے۔ اس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس تھے، اسی وجہ سے ہم نے پیش نہیں کیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے کوئی کلاسیفائیڈ دستاویز نہیں ہوتی، سائفر میں کیا افسانہ تھا عدالت کو جمع کرواتے تو پتہ چلتا کہ افسانہ ہے کیا،

واضح رہے کہ رواں سال 30 جنوری کو سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔