ہندوستان کے انتخابی نتائج پر تبصرہ
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 05 / جون / 2024
چار جون کو ہندوستان کے انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں ۔ تمام ایگزٹ پول کے مطابق بی جے پی کی بڑی فتح کےلیے کی گئی پیشگوئیاں شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں اور حکومتی اتحاد 2019 کے مقابلے میں لوک سبھا کی پچاس سے زیادہ نشستوں سے ہار گیا۔
اپوزیشن جماعتوں پرمشتمل انڈیا اتحاد نے ایک سو نئی نشستیں جیت لیں۔ بی جی پی کی حکومت بننے کے امکان کی موجودگی کے باوجود سب سے بڑا جھٹکا بی جے پی کی لوک سبھا میں اکثریت کا خاتمہ ہے۔ اور اب اسے حکومت تشکیل دینے کے لیے ہر حال میں اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی جس میں تیلگو دیسم پارٹی، جنتا دل یونائیٹیڈ، بال ٹھاکرے کی شیو سنہا، لوک جانشکتی پارٹی کے ساتھ چند چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔ نئی مودی حکومت پہلے جیسی مستحکم نہیں ہو گی۔ دوسری طرف اپوزیشن کی مقبولیت میں اضافہ کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں صرف پچاس نشستوں کا فرق رہ گیا ہے۔
معزز قاریئن اگر آپ کو اس عنوان سے متعلق میری پانچ دن قبل والی پوسٹ یاد ہو تو میں نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ بی جے پی کی متوقع جیت مجھے واضع نظر نہیں آ رہی۔ میں نے فروری میں بھارت میں مختصر قیام کے دوران سیاسی نبض کو ٹٹولتے ہوئے محسوس کیا تھا کہ میڈیا میں سیاسی تصویر کشی زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں لہذا انتخابات بی جے پی کےلیے ایک حیرت کا سندیسہ لا سکتے ہیں۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی میرے تجزیہ کے مطابق واضع ہوگیا ہے کہ بی جے پی کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے آیا ہے۔ اور نریندرہ مودی کا نیا پانچ سالہ اقتدار اب اتحادی جماعتوں کا محتاج ہے۔
حکومت کی تشکیل سازی تھکا دینے والی مشق ثابت ہو سکتی ہے۔ بی جے پی انڈین پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت تو ہے لیکن حکومت کے لیے مطلوبہ اکثریت سے محروم ہے جسے پارلیمانی نظام حکومت میں جیت کا نام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ پارلیمان کے اندر موجود چھوٹی جماعتیں کسی وقت بھی مل کر عددی اکثریت کا پلٹا بدل سکتی ہیں۔ میرا اندازہ بحثیت نجومی نہیں تھا بلکہ وہاں پر قیام کے دوران عوام کے موڈ کو سیاسی تنظر میں پرکھتے ہوئے قائم کیا گیا تھا ۔ ایک طویل عرصہ ناروے میں عملی سیاست میں گزارنے کے بعد عوام کے رویے کو بھانپنے کی مشق بھارتی رائے دہندگان کے سیاسی مزاج میں آتی ہوئی تبدیلی کوسمجھنے میں معاون بنی۔ اس میں سب سے زیادہ دخل بی جے پی کی حمایت میں گرمجوشی کےعنصر کا مفقودہونا تھا اور پارٹی کے سپورٹروں کا سیاسی اعتقاد بڑی حد تک متزلزل دکھائی دیتا تھا۔
ایسی صورتحال میں ہر سیاسی جماعت کے لیے کوئی بڑا انتخابی معرکہ سر کرنا دشوار ہوتا ہے۔ جس کی واضع مثال اب بی جے پی کی انتخابات میں کمزور کارکردگی ہے۔ حالانکہ بی جے پی واحد جماعت تھی جس کو مالی وسائل کی دستیابی کے ساتھ میڈیا پر مکمل کنٹرول تھا جو سرعام جانبداری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ بی جے پی کے پاس اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ فعال اور طاقتور تنظیم موجود ہے اور وزیراعظم مودی جیسی قدآور اور مقبول قومی لیڈر کی پرکشش شخصیت کی موجودگی برتری کا باعث بنی ہوئی تھی۔
برصیغیر کے خطہ میں شخصیت پرستی حکمرانی کا عنصر خاص ہے۔ ہم کتنے ہی جمہوریت پسند کیوں نہ ہو جائیں راہنماؤں کو بادشاہ کے روپ میں دیکھنے کی عادت کو نہیں بدل پائے۔ اگر ہم پاکستان کی سیاست پرنظر ڈالیں تو وہاں بھی ہمیں سیاست شخصیات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے اور سیاسی قائدین کی مقبولیت ہی پارٹیوں کی مقبولیت کا باعث بنتی ہے جس کی تازہ مثال پی ٹی آئی ہے جس کا محور عمران خان کی ذات بنی ہوئی ہے۔ برصغیر کے عوام کے اس رویہ میں کوئی حرج بھی نہیں بشرطیکہ اسے تعمیری سوچ میں ڈھال دیا جائے۔ انڈیا کے حالیہ انتخابات میں حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف کے اتحاد کے درمیان قوت اور طاقت کا عدم توازن، اور بی جے پی کی طرف سے مسلمان مخالف بیانیہ اور گروہی منافرت کے استعمال کے باوجود اکثریت کھو جانا بھارتی جمہوریت کے گوہر جوہر کا ہی مظہر ہے۔ اور رائے دہندگان کی سیاسی بلوغت کا ثبوت ہے۔ ان انتخابات کے نتائج آنے کے بعد تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ تمام خامیوں اور مشکلات کے باوجود ستتر سالہ جمہوری تسلسل سے بھارت میں سیاسی شعور گہری جڑیں پکڑ چکا ہے اور عوام مشکل سے مشکل حالات اور جبر کے باوجود بھی قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لہذا ان نتائج کو بی جے پی کی طرف سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد آئین کی تبدیلی کے عزم کو رائے دہندگان کی طرف سے رد کیےجانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی عوام نے اپنے جمہوری شعور کے بل بوتے پر قومی مفاد کا تحفظ کرکے جمہوریت کا سر بلند کر لیا ہے اور آنے والی نسلوں کا جمہوریت پر اعتماد کو مزید پختہ بنا دیا ہے۔