سفر نامہ ہندوستان: علیگڑھ سے آگرہ (3)

دلی میں وقت گزارنے کے بعد اگلی منزل آگرہ کی طرف سفر کا آغاز کیا تو گوگل میپ پر سفر کے لیے دیے گئے وقت کا چالیس فی صد دلی کی سڑکوں پر بھیڑ کی نظر ہوگیا۔ اور دلی آگرہ موٹروے پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت صرف ہوا۔

جس سے دل میں پریشانی ہوئی کیونکہ آگرہ جاتے ہوئے علیگڑھ میں بھی مختصر قیام کی خواھش تھی۔ کیونکہ علیگڑھ راستے میں پڑتا ہے۔ لہٰذا ہندوپاک کی جدید تاریخ اور سیاسی بیداری کے حامل اس شہر کو دیکھنے کا اشتیاق تھا اور اس کی وجہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی تھی جہاں کے فارغ التحصیل راہنماؤں نے برصیغیر کی تاریخ پہ انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ دلی آگرہ موٹر وے پرانی تھی یا کہ نئی پتہ نہیں چلتا کیونکہ سڑک کی حالت کوئی خاص قابل تعریف نہیں تھی۔ جی ٹی روڈ کے اسٹینڈرڈ کی سی تھی۔ بس اس کے دونوں اطراف جنگلا تھا۔

دونوں اطراف میں یوپی کے وسیع وعریض گندم کےسرسبز لہلاتے کھیت تھے جو کہ اُتر پردیش کی بے مثال زراعت کےعکاس تھے۔ دونوں اطراف کا منظر بڑی حد تک پاکستانی پنجاب میں سے گزرنے کا تاثر دے رہا تھا۔ بالکل اُسی طرح کی سرزمین اور خاص کر کیکر کے درختوں کی موجودگی اس تاثر کو تقویت بخش رہی تھی۔ اور دائیں بائیں نظر آتے گاؤں بھی بالکل پنجاب کےنہری علاقوں کے چکوں کی طرح تھے۔ کھیتوں کے درمیان سے جاتی سڑک اور چھوٹے چھوٹے ایک منزلہ مکان۔

ایک فرق یہ تھا کہ جہاں پاکستان میں سڑک کنارے نظر آتے گاؤں میں مساجد کے مینار نظر آتے ہیں، وہاں بھارت کے ان دیہات میں مندروں کے پگھٹ دکھائی دیتے ہیں جو کم بلند تھے۔ موٹر وے سے علیگڑھ کی سمت بڑھتےایک عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی کہ یہ وہ شہر ہے جسے کبھی علم و ادب کا مینار کہا جاتا تھا اور جس کو سرسید احمدخان نے 1875 میں اینگلو محمدن اورئینٹل کالج کی داغ بیل ڈال کر تاریخی بنا دیا۔

سر سید احمد نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کی بد حالی کو دیکھ اُن کی حالت زار کو بدلنے کا بیڑا اُٹھایا تو انہیں بے پناہ مشکلات سے گزرنا پڑا۔ اپنوں کے ہاتھوں بھی اذیتیں اُٹھائیں لیکن مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنے عزم کو نہ ٹوٹنے دیا۔ انہوں نےاس تعلیمی ادارے کے ذریعے مسلمانان ہند کو جدید عصری علوم کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسلامی علوم و فنون کی ترویج سے بھی منسلک کیا۔ اور دانشمندانہ مہارت سے اردو زبان کو ایک بڑے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے زبان وادب کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں زبان کے کردار کو نمایاں بھی بنا دیا۔

سر سیداحمد خان نے اردو زبان کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو ترقی کی راہ پر ڈالا۔ علی گڑھ تحریک نے اردو کے ذریعے ہندوستانی عوام اور خاص کر مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ثقافت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعد کے کئی اہل دانش اور تاریخ دانوں نے تو اسی کاوش کو پاکستان کی تشکیل کی بنیاد تک گردانا ۔ بہرحال علیگڑھ شہر دیکھنے میں کوئی خاص اور منفرد دکھائی نہیں دیتا اور برصغیر کے باقی شہروں جیسا ہی ہے۔ البتہ علیگڑھ یونیورسٹی اپنا ایک رُعب رکھتی ہے۔ وہاں پر قدم رکھتے ہوئے، اس شہر میں تعلیم کے لیے مقیم رہنے والی عظیم ہستیوں کی تصویر ذہن میں اُبھرتی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے برصغیر کے عوام کے حقوق کی خاطر جان و مال کی قربانیاں دے کر تحریکیں چلائیں اور سیاسی بیداری اور شعور کے علم اُٹھا کر برطانوی راج سے آزادی کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کی۔

اس علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نے بہت سے نامور مجاہد آزادی، اعلیٰ پائے کے ادیب و شاعر صحافی اور پاکستان و ہندوستان کے قومی راہنما پیدا کیے۔ تحریک آزادی کے راہنما علی برادران، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، خان عبدالغفار خان، مولانا حسرت موہانی، ذاکر حسین، راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ، چودھری خلیق الزمان، شیخ عبداللہ وغیر ہ نے یہاں تعلیم پائی۔ ویسے تو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے سپوتوں کی فہرست بہت لمبی ہے جنہوں نے آزادی کے لیے اور اس کے بعد بھی اس دھرتی کی خدمت میں ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ لہٰذا یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ اس تاریخی یونیورسٹی کو آج کل بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عام تاثر ہے کہ آزادی کے بعد اس سے سوتیلے پن کا سلوک کیا جاتا رہا ہے اور اب مسلم مخالفت کی لہر نے تو اس کے لیےاپنی شناخت برقرار رکھنامحال کر رکھاہے۔

ہندوستانی طلبا کے ساتھ بین الااقوامی طلبا بھی خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ برحال یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اُمید ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ اپنی علمی ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ بہرحال علیگڑھ کی سر زمین کو تاریخی بنانے والی یہ علمی درسگاہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور حقیقت تو انمٹ ہوتی ہے۔ اس ادارے کی تعلیمی، مذہبی، معاشرتی، ادبی، سماجی، ادبی اور تمدنی بیداری کی خدمات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا اور ہندوستان جیسے تعلیم دوست ملک میں ایسی درسگاہ ناگزیر ہے۔ مختصر وقت کے باعث علیگڑھ کی سیاحت ادھوری رہی یونیورسٹی لائبریری یا کسی شعبہ میں جانے کا موقع نہ ملا اور نہ ہی وہاں پر فرزندان یونیورسٹی کی قائم شدہ یادگاری گیلری دیکھی جا سکی۔

شام کے ڈھلنے سے پہلے آگرہ پہنچنے کی فکر کے پیش نظر بہت سی خواہشات کو اُدھورا چھوڑ کر آگرہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ (جاری)