اسرائیلی جرائم کی سرپرستی

قاہرہ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا بیان  اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کی  افسوسناک بلکہ شرمناک کوشش ہے۔ 8 ماہ  سے   اسرائیلی جنگی مشینری غزہ میں شہریوں کے قتل عام میں مصروف ہے ۔  اسرائیل عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو مسترد کرچکا ہے اور غزہ کے شہریوں کو بنیادی امداد کی فراہمی میں غیر انسانی رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے ۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ عرب ملکوں  کو حماس پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ  جنگ بندی کا اہتمام کرنے کے لیے ایک  بار پھر اسرائیل پہنچے ہیں۔ اس سے پہلے  انہوں نے  مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قیام کیا تھا اور  واضح کیا تھا کہ حماس کو امریکی صدر جو بائیڈن کا پیش کیا ہؤا  امن منصوبہ  مان لینا چاہئے۔  ان کا خیال ہے کہ جنگ بند کرنے اور غزہ کے لوگوں کی مدد کرنے کا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ حالانکہ حقیقی صورت حال یہی ہے کہ اسرائیل نے یک و  تنہا غزہ پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ امریکہ ہر دم اور ہر مرحلے پر اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ تعاون محض سفارتی یا اقوام متحدہ میں   جنگ بندی کی قرار دادوں کو  مسترد کرنے کے لیے ویٹو کے استعمال تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ امریکی حکومت اس پوری مدت میں اسرائیل کو جدید اسلحہ، گولہ بارود اور ہتھیار  فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکی کانگرس نے سے  اسرائیل کی فوجی امداد کے لیے کئی ارب ڈالر کی خصوصی منظوری دی اور  امریکی بحری  بیڑا بحیرہ  احمر میں  اسرائیلی مفادات کی حفاظت کے لیے موجود  رہا ہے۔

غزہ میں 37000 سے زائد انسانوں کے بے رحمانہ و سفاکانہ قتل اور ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم شہریوں کے زخمی ہونے کے  باوجود  امریکہ اور اس کے حلیف  اسرائیل کی مذمت کرنے اور اسے اپنے گھناؤنے جنگی جرائم سے باز رہنے کی تلقین کرنے میں ناکام ہیں۔ امریکہ کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی اسرائیلی حکومت اس ناجائز اور انسانیت سوز ظلم کا ارتکاب نہیں کرسکتی تھی۔ اگرچہ امریکہ اور اس کے  مغربی حلیف مسلسل غزہ میں ہونے والے مظالم کو جنگ کا نام دینے پر مصر ہیں لیکن یہ کارروائی روز اول سے یک طرفہ اور غزہ کے 25 لاکھ نہتے اور مظلوم شہریوں کے خلاف ہوری ہے۔ اسرائیلی فوج  کی پہلے دن سے یہی حکمت عملی رہی ہے کہ غزہ کے شہریوں کو ہلاک کیا جائے یا انہیں اتنا مجبور کیا جائے کہ وہ اس علاقے کو چھوڑ دیں۔ جب  یہ ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہوئے تو  حماس کی سپلائی روکنے کے نام پر غزہ کے شہریوں کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیا کی فراہمی بند کی گئی اور اب بھی پانی جیسی بنیادی ضرورت کی سپلائی سے بھی انکار کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرنے والی متعدد عالمی تنظیمیں امداد  فراہم کرنے  کے لیے موجود ہیں لیکن اسرائیلی حکومت اور فوج ان کے راستے کی دیوار بنی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف غزہ میں اسکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کو بے دریغ بمباری اور فوجی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔  اسی ویک اینڈ پر غزہ میں پناہ گزین  کیمپ  نصیرات  کے ایک گنجان آباد محلے میں فوجی آپریشن  کیا گیا تھا  ۔ گنجان آبادی کے  اندر تک  اسرائیلی ٹینک شہریوں اور ان کے گھروں  کو روندتے ہوئے چلے گئے ۔ اس کے علاوہ فضائی بمباری سے عام لوگوں کو جان بچانے کا موقع تک فراہم کرنے سے انکار کیا گیا۔ امریکہ بظاہر دعوے کرتا رہاہے کہ  وہ  اسرائیل  پر شہریوں کی   حفاظت  کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے لیکن اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز جب 274 شہریوں کو ہلاک کرکے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کروایا تو اس پر  خوشی کا اظہار کرنے والوں میں صدر جو بائیڈن سر فہرست تھے۔ اس وقت بائیڈن پیرس کا دورہ کررہے تھے ۔ انہوں  نے چار یرغمالیوں کی رہائی کاخیر مقدم کرتے ہوئے  اسے درست اقدام کہا۔ البتہ جنگ بندی  کی ضرورت پر بھی  زور دیا۔  لیکن جنگ بندی کی یہ خواہش غزہ کے لاکھوں انسانوں کی حفاظت سے زیادہ ایک سو کے لگ بھگ باقی ماندہ  اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کروانے  کے لیے ہے۔ اب یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ  یرغمالیوں میں شامل 5 امریکی شہریوں کو رہا کروانے کے لیے  براہ راست حماس سے  مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

حماس ایک انتہا پسند گروہ ہے  جس نے دہشت  گردی کے اقدامات کرتے ہوئے  فلسطینی کاز کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ گزشتہ سال 7 اکتوبر  کے روزاسرائیل پر متعدد حملے کرکے 1200 کے لگ بھگ افراد کو ہلاک کیا گیا اور اڑھائی سے زیادہ لوگ یرغمال بنا لیے گئے۔ یہ اقدام بلاشبہ غیر انسانی اور ناقابل قبول ہے ۔ لیکن کیا اس دہشت گرد کارروائی کا انتقام لینے کے لیے حماس کو ختم کرنے کے نام پر غزہ کے شہریوں پر مسلط کی گئی جنگ کو خود حفاظتی کا نام دیاجاسکتا ہے؟  دنیا بھر کے لوگ اس بے بنیاد اور کمزور مؤقف کو مسترد کرچکے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں  تسلسل سے جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے واضح کرتے ہیں کہ امریکی و یورپی ممالک  کے لیڈروں کی پالیسی وہاں کے لوگوں کی خواہشات کی عکاس نہیں ہیں۔ دنیا کے لوگ  دیکھ رہے ہیں کہ اس معاملہ میں کون ظالم اور کون مظلوم ہے۔ اسرائیل حماس کا نام لے کر غزہ میں شہریوں کو ہلاک کررہا ہے لیکن دنیا کا کوئی ماہر یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتا کہ ایک چھوٹے سے انتہا پسند  مسلح گروہ کو کیسے ایک فوج کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی جنگ جوئی کو جس میں دنیا کی مسلمہ  فوجی طاقت اسرائیل،  تمام تر جدید ہتھیاروں اور مہلک  گولہ بارود کے ساتھ  نہتے اور بے بس انسانوں کو مارنے کا اہتمام کررہی ہے، کیسے اور کیوں کر  جنگ کی  تعریف پر پورا سمجھا جاسکتا ہے۔ جنگ دو افواج میں ہوتی ہے۔ غزہ میں ہونے والی جنگ جوئی میں  اسرائیلی فوج لوگوں کو ہلاک کرنے یا بھوک سے مارنے کی  سر توڑ کوشش کررہی  ہے۔ پھر بھی اسرائیل کو امن پسند اور انسانیت دوست اور حماس کو دہشت گرد قرار دے کر اسے جائز قرار دینے کی کوشش ہوتی ہے۔

صدر جوبائیڈن نے  ہفتہ عشرہ پہلے جنگ بندی کا جو منصوبہ پیش کیا تھا ، اس پر  اسرائیلی حکومت  نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے باوجود اسے مان لیا جائے گا۔ حالانکہ یہ منصوبہ سو فیصد انہیں خطوط پر استوار ہے جو اسرائیل کی  طرف سے پیش کی گئی درجنوں تجاویز میں سامنے آچکا ہے۔  اسرائیل عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کرتا ہے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ سر فہرست ہوتا ہے لیکن غزہ سے افواج واپس بلانے یا مستقل جنگ بند کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا جاتا۔ جو بائیڈن کے منصوبہ میں بھی یہی  مطالبہ مختلف انداز میں پیش کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی طرح اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لا کر اسرائیل میں حکومت مخالف تحریک کو  ختم کروایا جاسکے۔ البتہ یہ مقصد حاصل کرنے  کے لیے  نہ تو مستقل امن کی تجویز میز پر رکھی گئی ہے اور نہ ہی  اسرائیل کو اس بات کا پابند کیا جارہا ہے کہ ان آٹھ  ماہ کے دوران غزہ پر چڑھائی کے دوران میں  اس نے غزہ کے علاوہ مغربی کنارے  سے جن ہزاروں  فلسطینیوں کو اٹھایا ہے، انہیں بھی رہا کیا جائے۔

حماس کا حملہ دہشت گردی اور اس کی طرف سے اسرائیلی شہریوں کو اٹھانا یرغمال  کہا جاتا ہے۔ اسے مان لینے میں کوئی حرج  بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ اسرائیل جن  فلسطینی شہریوں کو اٹھا کر کسی باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر تشدد اور ظلم کا نشانہ بناتا ہے ، وہ عین انسانی و مہذب طریقہ ہے۔     دہشت گرد گروہ ہونے کے ناتے   حماس کی مذمت ہونی چاہئے اور تمام مہذب ممالک کو اس سے قطع تعلق بھی کرنا چاہئے لیکن اگر امریکہ اپنے شہریوں کی رہائی کے لئے ایک دہشت گرد گروہ سے معاہدہ ضروری سمجھے تو اسے جائز  اور مناسب فیصلہ کیسے مان لیا جائے؟ امریکہ کی اس  دوہری حکمت عملی اور اسرائیلی جرائم کی سرپرستی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ لیکن  گزشتہ 8 ماہ کے دوران  میں جیسے اسرائیلی  فوج نے وحشیانہ جنگی کارروائیوں میں  عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، اسے  کسی بھی عالمی معیار سے قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود امریکی و یورپی لیڈر ہولو کوسٹ کا حوالہ دے کر اسرائیل کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہولوکسٹ کی صورت  میں یورپ کے ایک ملک  نے یہودیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ 80 سال پہلے  رونما ہونے والے نازیوں کے اس جرم کا انتقام 2024 میں غزہ کے شہریوں  سے  کیسے لیا جاسکتا ہے؟

انٹونی بلنکن نے قاہرہ میں قیام کے دوران میں  دعویٰ کیا کہ’   اسرائیل کے علاوہ، غزہ اور مغربی کنارے پر رہنے والے  شہریوں کی اکثریت ایک ایسے مستقبل کی خواہاں ہے جہاں اسرائیلی اور فلسطینی اچھے ہمسایوں  کی طرح ساتھ ساتھ رہ سکیں‘۔  البتہ جب  دو ہفتے قبل ناروے کے علاوہ سپین اور آئرلینڈ نے فلسطین کو خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کرتے  ہوئے   اسرائیل کے زیر تسلط مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا تو صدر بائیڈن چیں بچیں ہوئے تھے اور اسرائیل  نے  سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔ پوری دنیا مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل پر متفق ہے۔  تاکہ فلسطینی شہری اپنے علاقے میں امن و حفاظت کے  ساتھ رہ سکیں۔ لیکن اسرائیل نے اپنے دفاع کے نام نہاد عذر کے نام پر مسلسل مقبوضہ علاقوں سے فوجیں واپس بلانے سے انکار کیا ہے اور وہ  دو ریاستی حل کو ماننے پر بھی تیار نہیں ہے۔ امریکہ اسرائیلی انکار کو عالمی رائے سے متصادم قرار دے کر یہ دباؤ نہیں ڈالتا کہ اسے  مسلمہ بین الاقوامی چارٹر اور معاہدوں کے مطابق مقبوضہ علاقے خالی کرنے  چاہئیں۔ نہ ہی کبھی امریکی حکومت نے  مقبوضہ علاقوں میں  ناجائز یہودی آبادیوں کو انسانیت کے خلاف جرم کہا ہے۔

اسرائیل فلسطین تنازعہ  تب ہی حل ہوسکتا ہے جب فلسطینیوں کو ایک آزاد مملکت نصیب ہو۔ امریکی حکومتیں  اس متفقہ مطالبہ کو تسلیم کرانے  کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کے برعکس  فلسطینی شہریوں کے خلاف اس کے ہر جرم کی وضاحت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  امریکہ اگر  دو ریاستی حل میں مخلص ہے تو وہ بھی ناروے و سپین کی طرح فلسطینی ریاست کو قبول کرے اور  اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کے   مقبوضہ علاقوں سے فوجیں  نکالنے  پر مجبور کیا جائے۔ صرف سیاسی بیان  دے کر ملمع سازی کرنے سے مشرق وسطیٰ میں بھڑکی ہوئی آگ ٹھنڈی نہیں ہوسکتی۔