’میرا شوہر مجرم تھا‘: دولتِ اسلامیہ کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ
- تحریر بی بی سی اردو
- سوموار 10 / جون / 2024
اُمِ حذیفہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی پہلی بیوی ہیں اور وہ اس وقت بھی ان کے نکاح میں تھیں جب شام اور عراق کے بڑے حصے پر اس گروہ کا قبضہ تھا۔
اب وہ ایک عراقی جیل میں قید ہیں جہاں ان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث ہونے جیسے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بی بی سی نے جیل میں قید اُمِ حذیفہ کا انٹرویو کیا ہے۔ 2014 کے موسمِ گرما میں وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے گڑھ سمجھے جانے والے شامی شہر رقہ میں اپنے شوہر ابوبکر الغدادی کے ساتھ رہائش پزیر تھیں۔
چونکہ ابوبکر البغدادی ایک انتہا پسند گروہ سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب سربراہ تھے اس لیے انہیں خود کو بچانے کے لیے متعدد مقامات پر رہنا پڑتا تھا۔
ایسے ہی ایک وقت میں ابوبکر البغدادی نے اپنے ایک محافظ کو اپنے گھر بھیجا تاکہ وہ ان کے دو بیٹوں کو ان کے پاس لا سکے۔
اُمِ حذیفہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ سیر پر جا رہے ہیں جہاں بچوں کو تیراکی سکھائی جائے گی۔‘ اُمِ حذیفہ کے گھر پر ایک ٹی وی بھی تھا جو وہ چُھپ کر دیکھا کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ ٹی وی کھول لیا کرتی تھی جب وہ (ابوبکر البغدادی) گھر پر نہیں ہوتے تھے۔‘
ان کے مطابق ان کے شوہر نے انہیں حقیقی دُنیا سے بالکل کاٹ کر رکھ دیا تھا، ابوبکر البغدادی انہیں ٹی وی دیکھنے دیتے تھے اور نہ ہی 2007 کے بعد سے انہیں موبائل فون سمیت کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت تھی۔
محافظ کے بچوں کو لے جانے کے کچھ دنوں بعد جب اُمِ حذیفہ نے اپنا ٹی وی کھولا تو انہیں ایک ’بڑا سرپرائز‘ ملا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو عراقی شہر موصل کی نوری مسجد میں بطور نام نہاد اسلامی خلافت کے سربراہ خطاب کرتے ہوئے دیکھا۔
کچھ دن پہلے ہے ان کے گروہ سے منسلک جنگجوؤں نے موصل پر قبضہ کیا تھا۔
برسوں بعد دنیا نے ابوبکر البغدادی کی پہلی جھلک اسی ویڈیو میں دیکھی تھی۔ ان کے چہرے پر لمبی داڑھی تھی، جسم پر سیاہ جبہ پہنا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں سے اطاعت کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے دنیا بھر میں دیکھا گیا اور اس وقت نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق اور شام کے بڑے حصے پرقبضہ کر چکی تھی۔
اُم حذیفہ کہتی ہیں کہ وہ یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ ان کے بیٹے دریائے فرات میں تیراکی سیکھنے کے بجائے موصل میں ہیں۔
یہ تمام مناظر اُمِ حذیفہ بغداد کے ایک پُرہجوم جیل میں بیان کر رہی تھیں، جہاں ان کے خلاف نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیے گئے جرائم اور ان کے کردار کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس جیل میں کافی شور سُنا جا سکتا ہے جہاں منشیات کے استعمال اور جسم فروشی سمیت دیگر جرائم میں ملوث افراد اور باہر سے کھانے پینے کا سامان بھی لایا جا رہا ہے۔
ہم نے جیل کی لائبریری میں ایک خاموش مقام ڈھونڈا اور اُمِ حذیفہ سے تقریباً دو گھنٹے گفتگو کی۔ ہماری بات چیت کے دوران انہوں نے خود کو بطور ایک متاثرہ خاتون پیش کیا، جس نے کئی مرتبہ اپنے شوہر سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔ وہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی متشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بھی تردید کرتی ہیں۔
تاہم ان کا مؤقف یزیدی برادری کی طرف سے دائر کیے گئے عدالتی کیس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یزیدی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے اراکین کی جانب سے اغوا کیا گیا اور جنسی غلام بنایا گیا اور ان کا الزام ہے کہ اُمِ حذیفہ لڑکیوں اور خواتین کو جنسی غلام بنانے کے عمل میں ملوث تھیں۔
انٹرویو کے دوران اُمِ حذیقہ نے ایک بھی بار اپنا سر نہیں اُٹھایا۔ وہ سیاح لباس پہنے ہوئی تھیں جس میں صرف ان کے چہرے کا کچھ حصہ نظر آ رہا تھا۔
اُمِ حذیفہ 1976 میں عراق کے ایک تنگ نظر خاندان میں پیدا ہوئیں تھیں اور 1999 میں انہوں نے ابراہیم عواد البدری (ابوبکر البغدادی) سے شادی کی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت ان کے شوہر نے بغداد یونیورسٹی سے شریعت یعنی اسلامی قوانین کی تعلیم حاصل کی تھی۔
امِ حذیفہ کے مطابق اس وقت ان کے شوہر ’مذہبی ضرور تھے لیکن انتہا پسند نہیں۔ تنگ نظر تھے لیکن کُھلے دماغ کے مالک بھی تھے۔‘ پھر 2004 میں عراق پر امریکہ کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد امریکی فوج نے ابوبکر البغدادی کو گرفتار کر لیا اور وہ تقریباً ایک برس تک امریکی فوج کے زیرِ انتظام حراستی مرکز کیمپ ’بوکا‘ میں قید رہے۔
کیمپ بوکا میں مزید ایسی شخصیات بھی موجود تھیں جو بعد میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ اور دیگر جہادی گروہوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہیں۔ امِ حذیفہ کا دعویٰ ہے کہ حراستی مرکز سے رہائی کے بعد ان کے شوہر میں تبدیلی آئی: ’وہ غصے کے تیز ہو گئے تھے۔‘
وہ دیگر لوگ جو ابوبکر البغدادی کو جانتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کیمپ بوکا میں قید ہونے سے قبل بھی ابوبکر البغدادی القاعدہ کا حصہ تھے۔ لیکن ان کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ کیمپ بوکا ان کے شوہر کی زندگی کا وہ موڑ تھا جب وہ شدید انتہا پسند ہو گئے۔
اُمِ حذیفہ اپنے شوہر کے بارے میں مزید بتاتی ہیں کہ ’انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔‘ جب اُم حذیفہ نے مسائل کی وجہ پوچھی تو ابو بکر البغدادی نے انہیں بتایا کہ: ’وہ کچھ ایسی چیزوں کا سامنا کرکے آئے ہیں جو وہ (اُمِ حذیفہ) نہیں سمجھ سکتیں۔‘
ابوبکر البغدادی نے کبھی صاف صاف تو نہیں کہا لیکن اُمِ حذیفہ کا ماننا ہے کہ ’حراست کے دوران ان پر جنسی تشدد کیا گیا تھا۔‘
اس زمانے میں امریکہ کے زیرِ انتظام ایک اور حراستی مرکز ’ابو غریب‘ کی تصاویر منظرِ عام پر آئی تھی جن میں قیدیوں کو جنسی حرکات کرنے پر مجبور ہوتے ہوئے اور ہتک آمیز حالت میں دیکھا جا سکتا تھا۔ ہم نے اُمِ حذیفہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات امریکی محکمہ دفاع کے سامنے بھی رکھے لیکن ان کی طرف سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی)