امریکہ جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے: حماس

  • سوموار 10 / جون / 2024

حماس کے ایک سینئر عہدے دار نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔

حماس کی جانب سے یہ مطالبہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پیر سے خطے کے دورے پر ہیں۔

بلنکن  اس دورے میں مصر اور اسرائیل جا رہے ہیں۔ ان کے دورے کا ایک مقصد یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ جنگ کا دائرہ لبنان تک نہ پھیلے، جس کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں اور اسرائیل حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان کا عسکری گروپ حزب اللہ حماس کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ اور میزائل داغتا رہتا ہے۔ً اسرائیلی فوجی طیارے لبنان کے اندر جا کر اس کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

حماس کے سینئر عہدیدار سامی ابو زہری نے کہا ہے کہ ہم امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ روکنے کے لیے  قابضین پر دباؤ ڈالے۔ جنگ کے خاتمے سے متعلق حماس کسی بھی پیش رفت پر مثبت انداز میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے یہ خطے میں امریکی وزیر خارجہ کا آٹھواں دورہ ہے، جس کے دوران وہ قطر اور اردن بھی جائیں گے۔

جنوبی اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کے لگ بھگ یرغمال بنا لیے گئے تھے۔ اسرائیل کی جوائی کارروائی میں جو ابھی تک جاری ہے، غزہ میں حماس کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 37000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو اس جنگ زدہ خطے کی لڑائیوں کا سب سے طویل اور خوبی باب ہے۔