آگرہ کے تاج محل کی چکا چوند (4)

تاج محل میں آپ جنوب کی طرف سے عالیشان محرابی دروازہ سے داخل ہوتے ہیں۔ آپ جیسے ہی دروازہ سے داخل ہوتے ہیں تو اپنی شہرہ آفاق رعنائی کے حامل اور فن تعمیر کے شاہکار تاج محل کے سحر انگیزمنظر سے چند لحمےبے خودی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تاج محل کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کا تصاویری اور تحریروں میں بیان ممکن نہیں بلکہ  ایسی لفاظی حقیق حُسن کے سامنے ماند دکھائی دیتی ہے۔ دوپہر کو آسمان پہ چمکتے سورج کے باوجود لگتا ہے کہ سورج نہیں بلکہ تاج محل اجالے کا منبع  ہے جس سے گردونواح میں روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ شاہجہاں کی اپنی بیگم کی محبت میں تعمیر کردہ لافانی یادگار دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتی ہے اور پورے خطہ ارضی پہ محبت کی علامت کا روپ دھارے ہے۔

دنیا بھر سے لوگوں اپنی محبوباؤں کو ساتھ لے کر محبت کی یقین دہانی کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔ میں اتفاق سے چودہ فروری کو وہاں پہنچا جو کہ دنیا میں ویلنٹائن ڈے سے مشہور ہے۔ اور اسی وجہ سے بہت زیادہ بھیڑ تھی۔ تاج محل کے کمپاؤنڈ کے ہر کونے میں جوڑے ایک دوسرے کو مخاطب کر کے اقرار محبت کے روایتی فقرے دہرا رہے تھے اور خوشی خوشی تصاویر کے ساتھ سیلفیاں لے رہے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں نو بہیاتا جوڑے فوٹو شوٹ لے کر اپنی یادوں کو تاج محل کو گواہ بنا کر امر کرنے میں مصروف تھے۔

ویسے تو تاج محل پہ دنیا کی ہر زبان میں شاعری اور نثر میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ الفاظ میں اس کی خوبصورتی کا احاطہ کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔ تاج محل کے گرد گھومتے ذہن میں خیال اُبھر رہا تھا کہ تاج محل کے حوالےسے شاہ جہان کی اپنی بیگم کی محبت کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ ملکہ ممتاز کون کون سی خاص خوبیوں کی بدولت عظیم سلطنت کے سلطان کی بے پناہ محبت کی حقدار ٹھری۔ جس نے محبت میں سرشار ہو کراتنا گراں قیمت مقبرہ تعمیر کیا ۔ اکیلی ظاہری خوبصورتی کے علاوہ بھی ملکہ ممتاز میں کچھ اور خصوصیات ضرور ہوں گی جس کااظہار فن تعمیر کی یہ شاہکار عمارت بنی۔

یہاں کی سیر کروانے والے گائیڈ شاہ جہان اور ممتاز کی بے مثال محبت کا مختصر ذکر کر کے تاج محل کی فن تعمیر کی خصوصیات بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر سنگ مرمر کس اعلیٰ اور نایاب کوالٹی کا کام ہے اور اس کو کیسے اور کہاں سے لایا گیا اور پھر اس کے اندر جڑے ہوئے ہیرے جواہرات کہاں سے درآمد کیے گئے اور کس خوبصورتی اور نفاست کے ساتھ پتھر میں جڑے گئے۔ اور کس اعلیٰ مہارت کے ساتھ مقبرے کی مرمریں دیواروں پر رنگ برنگے اور قیمتی پتھروں کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے پچکاری کی صورت میں قرآن کی مقدس آیات کو نقش کیا گیا ہے۔

کیا ہی عجب بات ہے کہ شہنشاہ جس خوبصورت مقبرہ کی تعمیر کو کارنامہ سمجھتا تھا اس کی کہانی بیان کرنے والے اس کے معماروں اور اس میں لگے پتھروں کی قیمت بتاکر لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔بر حال فن تعمیر کے اعتبار سے آج سے تقریبا تین سو پچھتر (375)سال قبل تعمیر ہونے والی اس عمارت کا کوئی ثانی نہیں۔ جس نفاست اور ہنرمندی سے ایک ایک سنگ مرمر کی اینٹ لگی ہوئی ہے، وہ آج کے کمپوٹرایزڈ سسٹم کی ہم پلہ ہے جو اس وقت کے ماہر تعمیرات کی اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت ہے۔

یہ بھی زبان زد عام ہے کہ جس ممتازکے لیے یہ تاج محل بنا اور جس کی محبت کے چرچے دنیا کے ہر کونے میں ہیں اور پورے جہاں کے لوگ جس پہ رشک کرتے ہیں، وہ خود اس کو نہ دیکھ پائی۔ تاج محل کا کمپاؤنڈ ایک خوبصورت باغ کے اندر دریا جمنا کے کنارے ہے۔ تاج محل مقبرہ کے مغربی کونے میں ایک دلکش مسجد ہے جہاں پر اب صرف جمعہ کی نماز ہوتی ہے اور اس کے مشرقی کونے میں شاہی مہمان خانہ ہے۔ اور شمال میں دریا جمنا بہتا ہے۔ (جاری)