سلامتی کونسل: غزہ جنگ بندی کے لئے قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز ایک امریکی قرارداد متفقہ طور سے منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی سمجھوتے کی حمایت کی گئی ہے۔ روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
حماس نے پیر کے روز کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کرنے والی امریکی مسودہ قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کرتا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں ایک بار پھر مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کی علاقے سے مکمل واپسی کے مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک، سلامتی کونسل کی قرار داد کا خیر مقدم کرتی ہے اور ان اصولوں کے نفاذ کے لئے براہ راست مذاکرات میں ثالثوں کے ساتھ تعاون پر رضا مند ہے۔
امریکہ پر غزہ میں جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی کئی قرار داوں کا راستہ روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ صدر بائیڈن نے گزشتہ ماہ کے آخر میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے لئے ایک نئی امریکی کوشش کا آغاز کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے اجلاس کے بعد امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ آج ہم نے امن کے لئے ووٹ دیا ہے۔ آج اس کونسل نے حماس کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کر لو۔ اسرائیل پہلے ہی اس سمجھوتے پر رضا مند ہو چکا ہے ، اور اگر حماس بھی یہ ہی کرے تو جنگ آج بند ہو سکتی ہے۔
پیش کردہ تجویز کے تحت اسرائیل غزہ کے آبادی مراکز سے واپس چلا جائے گا اور حماس یرغمالوں کو رہا کردے گی۔ جنگ بندی ابتدائی چھ ہفتے قائم رہے گی جس کے دوران میں دشمنی کے مستقل خاتمے کے لئے مذاکرات ہوں گے۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں فوری اور مکمل جنگ بندی ہو گی۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمال رہا کئے جائیں گے۔ اور غزہ کے آباد علاقوں سے اسرائیلی فوجیں واپس چلی جائیں گی۔