پاسپورٹ پر پابندی، کیا سانس لینا بھی منع ہوگا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 11 / جون / 2024
وفاقی وزارت داخلہ نے ایسے پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بیرون ملک جاکر سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسے کسی بھی پاکستانی شہری کی طرف سے بیرون ملک پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست بھی مسترد کردی جائے گی۔ اعلان کے مطابق یہ فیصلہ ملکی سلامتی اور سکیورٹی کے تناظر میں کیا گیا ہے لیکن اس کے دیگر عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ان میں سر فہرست امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے سفارتی دباؤ بھی ہوسکتا ہے اور مشکلات میں گھری پاکستانی حکومت ان طاقت ور ممالک کے مطالبے پر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے۔ حالانکہ کوئی ذمہ دار حکومت نہ تو کسی خاص عذر کے بغیر اپنے کسی شہری کو سفری دستاویزات دینے سے انکار کرسکتی ہے اور نہ ہی بیرون ملک مقیم اپنے ہی شہریوں کے پاسپورٹ کی تجدید سے انکار کرکے ان کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہے۔ عملی طور سے اس طریقہ پر عمل کرنے کا یہ مقصد ہوگا کہ حکومت پاکستان ایسے ہزاروں پاکستانی شہریوں کو بے آسرا بنانے کا اعلان کررہی ہے جو کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے کسی مغربی ملک میں جاکر پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ اپنے ہی شہریوں کو ’سٹیٹ لیس‘ قرار دینے کی یہ انوکھی مثال قائم کی جائے گی۔
کوئی شہری نہ تو اپنا ملک چھوڑنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ دربدر ہونے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک میں ایسے حالات رونما ہورہے ہیں تو اس کی ذمہ داری وہاں کے نظام اور معاشی حالات پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے اقتدار کو پروٹوکول اور سہولتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہؤا ہے اور نام نہاد حفاظتی دیواروں کے ذریعے خود کو عام لوگوں سے اس قدر دور کرلیا ہے کہ انہیں ان کے شب و روز، مسائل، بے چینی و پریشان حالی کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی لیڈروں کے بیانات بے معنی نعروں یا مخالفین کے بارے میں الزام تراشی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یا وہ ان کوششوں میں رہتے ہیں کہ کیسے اقتدار پر زیادہ سے زیادہ گرفت مضبوط کرکے خود اور اپنے قریبی لوگوں کے لیے سہولتیں اور مراعات سمیٹی جائیں۔
حالانکہ کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ روانہ ہونا چاہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں اپنے ملک سے محبت نہیں یا وہ اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر جانے میں کوئی راحت محسوس کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے نااہل اور ناکام حکومتوں نے عوام کی اکثریت سے ان کی امیدیں چھین لی ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کمزوری کا احساس کرنے کی بجائے نام نہاد پابندیوں اور سختیوں کے ذریعے مایوسی و بے چینی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ سیاسی پناہ کے لیے جانے والے شہریوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا حکم نامہ واضح کرتا ہے کہ حکومت شہریوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پورا کرنے میں ناکام ہے ۔ اس ناکامی کو سمجھ کر بہتری کے اقدام کرنے کی بجائے، اب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ شہریوں کو سفری دستاویزات یعنی پاسپورٹ دینے سے انکار کرکے انہیں مزید ہراساں کیا جائے۔
وزیر داخلہ کا اعلان اس لحاظ سے بھی ناقص ہے کہ پاسپورٹ جاری کرنے والی اتھارٹی کو کیسے علم ہوگا کہ کوئی شہری کیوں پاسپورٹ لینا چاہتا ہے اور وہ کسی ملک میں کس مقصد سے سفر اختیار کرنا چاہتا ہے؟ البتہ یہ حکم جاری کرکے کہ سیاسی پناہ کے لیے جانے والوں کو پاسپورٹ نہ دیا جائے، پاسپورٹ دفاتر میں کام کرنے والوں کے ’اختیارات‘ میں غیر ضروری اضافہ کے ذریعے سائلین کی مشکلات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس عجلت میں کیے گئے ، ایک ناقص فیصلہ کے نتیجہ میں پاسپورٹ کے حصول کے لیے رشوت کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں۔ ملک کے سماجی حالات اور رشوت ستانی کی صورت حال میں وزیر داخلہ کو اپنے فیصلہ کے حقیقی عواقب کے بارے میں آگاہ ہونا چاہئے تھا۔
یا اس فیصلہ کی وجہ سے وہ لوگ متاثر ہوں گے جو پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں اور کسی عذر کی بنیاد پر کسی مغربی ملک میں سیاسی پناہ لے کر وہاں قیام کی کوشش کررہے ہیں۔ اب اگر پاکستان بھی ان شہریوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا تو سفری دستاویزات نہ ہونے کی صورت میں وہ کس کا آسرا تلاش کریں گے؟ اس اقدام سے ملک کی نیک نامی کی بجائے اس کی شہرت کو نقصان پہنچے گا اور ملک کے شہری موجودہ نظام اور حکومتی ہتھکنڈوں سے مزید نالاں ہوں گے۔
حکومت پاکستان اور اس کے ہونہار وزیر داخلہ کے علم میں ہونا چاہئے کہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ پر داخلہ تقریباً ناممکن ہوچکا ہے۔ بیشتر ممالک پاکستانی پاسپورٹ والے افراد کو ویزا دینے سے انکار کرتے ہیں۔ جبکہ عوام کی ذمہ داری قبول کرنے والے ممالک کے پاسپورٹوں پر لگ بھگ ہر ملک میں بغیر ویز ا کے سفر ممکن ہوتا ہے یا معمولی کارروائی پر ویز مل جاتا ہے۔ اس کی وجہ محض کسی ملک کی قومی پیداوار کی صلاحیت یا آمدنی کی صورت حال نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک کے شہری کس حد تک اپنے ملک کے وفادار ہیں اور ان کی حکومتیں کس حد تک ان کی ضرورتوں اور مفادات کا خیال رکھتی ہیں۔ جو حکومت اپنے شہریوں کو ایک ناقص عذر پر پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا حکم جاری کرتی ہے، اس پر شہریوں کے علاوہ دنیا بھر کے لوگوں کا اعتبار و اعتماد متاثر ہوگا۔ ایسی ہی بداعتمادی پاکستانی پاسپورٹ کو ناکارہ اور بے وقعت دستاویز بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہؤا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو لوگ پاسپورٹ اور ویزا لے کر باقاعدہ قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے، وہ انسانوں کو اسمگل کرنے والے مافیا گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ گروہ ضرورت مندوں سے کثیر رقم بھی وصول کرتے ہیں اور انہیں انتہائی پرصعوبت سفر کے بعد کسی نہ کسی ملک میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتاہے۔ حکومت پاکستان نے کبھی ملک میں کام کرنے والے ایسے گروہوں کا قلع قمع کرنے کا اقدام نہیں کیا۔ انسانوں کو اسمگل کرنے والے گروہ ملک کے کونے کونے میں سرگرم رہتے ہیں اور شکار پھنسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ملکی نظام اور کنٹرول کے طریقوں کو دیکھتے ہوئے یہ باور کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ یہ گروہ سرکاری اہلکاروں اور انتظامی مشینری کے تعاون سے کام کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں طاقت ور سیاسی عناصر بھی ایسے انسانی اسمگلروں کے پشت پناہ ہوتے ہیں۔ چند لوگ اپنے اثاثوں میں اضافے کے لیے انسانی زندگیوں اور جذبات و احساسات سے کھیلتے ہیں۔ اس دوران میں اگر کسی دور دراز سمندر میں کشتی ڈوبنے یا سرحدی محافظوں کے ساتھ جھڑپ میں مظلوم پاکستانی شہری مارے جاتے ہیں تو بات سیاسی بیانات سے بڑھ نہیں پاتی۔ اب حکومت ایسے لوگوں سے پاسپورٹ رکھنے کا حق چھین کر انہیں مزید رسوا اور خراب کرنے کا اہتمام کررہی ہے۔
یورپی ممالک نے پاکستان کے لیے ویزا دینے کی پالیسی سخت کی ہوئی ہے۔ ہزاروں لوگوں کی درخواستیں وصول کرنے کے باوجود انہیں ویزا جاری کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر ان معاملات کا جائزہ لینے والے ایک ادارے لاگو کولیکٹو نے ایک سروے میں بتایا ہے کہ 2023 میں یورپی یونین کے ممالک نے ایسے پاکستانی شہریوں سے 34 لاکھ یورو کے لگ بھگ ویزا فیس وصول کی جنہیں بعد میں ویزا دینے سے انکار کردیا گیا لیکن ویز افیس واپس نہیں کی گئی۔ اسی طرح برطانیہ کا ویزا لینے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں نے گزشتہ سال 53 لاکھ اسٹرلنگ پاؤنڈ ویزا فیس میں ادا کیے لیکن انہیں ویزے نہیں دیے گئے۔ حکومت پاکستان اس صورت حال کو بہتر بنانے اور مغربی ممالک پر ویزا دینے کاطریقہ کار بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بجائے اب اپنے ہی شہریوں پر مزید پابندیاں عائد کررہی ہے۔
یہ درست ہے کہ بہت سے پاکستانی بیرون ملک جاکر سیاسی پناہ کی درخواستیں دیتے ہیں لیکن ان کے مقاصد سیاسی کی بجائے معاشی ہوتے ہیں۔ انہین عام طور سے معاشی پناہ گزین قرار دیا جاتا ہے اور اکثر یورپی ممالک ان لوگوں کو رعایت نہیں دیتے جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ محض روزگار کی سہولت کے لئے یورپ آئے ہیں۔ البتہ سیاسی مقاصد سے ملک چھوڑنے والے لوگوں کو عام طور سے عارضی یا مستقل رہائشی اجازت نامہ دے دیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں دو اہم پہلو نوٹ کرنا ضروری ہے:
ایک: پاکستان میں سیاسی بنیادوں پر مخالفین کو ہراساں کرنے کی موجودہ صورت حال میں بہت سے شہری جائز طور سے اپنی یا اپنے اہل خاندان کی حفاظت کے لیے بیرون ملک منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ ان میں خاص طور سے مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہوسکتے ہیں جنہیں آئے دن مذہبی شد ت پسندوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہوتا ہے۔ اب حکومت سیاسی پناہ کے لیے سفر پر پابندی لگانے کا اعلان کررہی ہے۔ اس کا ایک ہی مقصد ہوگا کہ مخالف سیاسی گروہ یا اقلیتی مذہب سے تعلق کی بنیاد پر سفر سے انکار کیا جائے گا۔ اس طرح یہ طریقہ براہ راست ریاستی جبر قرار پائے گا۔ سیاسی طور سے تنہائی کا شکار حکومت کو ایسے حساس اقدام سے گریز کرنا چاہئے۔
دوئم: بیرون ملک جاکر سیاسی بنیادوں پر پناہ لینے میں کامیاب ہونے والے بیشتر لوگ ’جعلی دستاویزات‘ کی بنیاد پر یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یعنی مقامی پولیس اور دیگر سرکاری دفاتر ایسی جھوٹی دستاویزات تیار کرنے میں معاون ہوتے ہیں جو کسی شخص کو کسی غیر ملکی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں معاونت کرسکے۔ اس طرح جس نظام کے ذریعے سیاسی پناہ کا راستہ روکنے کی کوشش ہورہی ہے، درحقیقت وہی نظام سیاسی پناہ لینے کے لیے جعل سازی کے ذریعے ان عناصر کا مددگار بھی ہوتا ہے۔
حکومت کو ان دونوں پہلوؤں پر غور کرکے اصلاح احوال کے لیے اقدام کرنا چاہئے۔ شہریوں کو پاسپورٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اس حکم نامے سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت جلد ہی سانس لینے پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ بہتر ہوگا حکومت شہریوں کی حفاظت کی ضامن بنے اور ان میں اعتماد اور امید کی کرن روشن کی جائے۔