تاج محل اور مغل شہشنشاہوں کی ناکامی (5)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 12 / جون / 2024
آئیے تاج محل کا ذکر سمیٹتے ہوئے تاریخ کے چند ورق اُلٹتے ہیں۔ تاج محل کا نام ارجمند بانو تھا اور شہنشاہ جہانگیر کی لاڈلی بیگم نورجہاں کے بھائی ابوالحسن آصف خان کی بیٹی تھی۔ اس کے حُسن وجمال، فہم و فراست، خوش اخلاقی اور شائستگی کا چرچا چہار عالم پھیلا ہوا تھا۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ ملکہ جہاں اور ملکہ الزمانی کے خطابات پانے والی ملکہ غریب پروری، ادب شناسی، مزاج دانی اور خدمت گزاری کی بدولت شاہجہاں کے دل کی ملکہ تھی اور شاہی دربار میں اثرورسوخ رکھنے کےباوجود اپنی پھوپھی نورجہاں کے بر عکس ملکی امورمیں عدم مداخلت سے وفاداری و اعلیٰ ظرفی کی مثال تھی۔ عالمی شہرت یافتہ بنگالی شاعر رابندرناتھ ٹیگور کے خوبصورت الفاظ کے ساتھ یہ باب بند کرتے ہیں کہ تاج محل شاہجہاں کا اپنی محبوب بیگم کے غم میں بہایا جانے والا آنسو ہے۔
تاج محل کے سامنے دریا جمنا کے شمالی کنارے پر ایک نامکمل عمارت کی بنیادیں دکھائی دیتی ہیں جہاں پر شاہجہاں تاج محل کی طرح کا سیاہ سنگ مرمر سے اپنے لیے مقبرہ تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اپنے بیٹے اورنگزیب عالمگیر کے ہاتھوں اقتدار سے معزول ہونے پر منصوبہ مکمل نہ کرسکا اور آگرہ قلعے میں قید تنہائی کی زحمتیں اُٹھاتے اپنی بیٹی جہاں آرا کی نگہداشت میں آخری ایام گزار کراس جہان فانی سے رخصت ہوا۔ شاہجہاں کا بیٹا اورنگزیب عالمگیر جو اپنے تین بھائیوں کو قتل کرکےاقتدار پر قابض ہوا تھا، رعایا کے منفی ردعمل سے اتنا خائف تھا کہ اُس نے بہن کی لاکھ التجاؤں کے باوجود شاہجہان کو شاہی شان وشوکت کے مطابق دفنانے کی بجائے خاموشی سے چند لوگوں سے جنازہ پڑھوا کر تاج محل کے اندر دفنا دیا۔
تاج محل کی سیر کا مشکل ترین مرحلہ وہاں موجود نام نہاد منظور شدہ گائیڈز سے جان چھڑانا ہے جو گائیڈ سے زیادہ گفٹ شاپس کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ اور اندر جاتے ہوئے ہی نہیں باہر آنے پر بھی گھیر لیتے ہیں اور خریداری کے لیے قائل کرتے ہیں۔ آگرہ سے اگلی منزل جے پور تھا لیکن راستے میں فتح پور سیکری رُک کر مختصر قیام کیا۔ یہ شہراکبر بادشاہ کا پایہ تخت رہا تھا اور اور دوسری وجہ شہرت وہاں بابا سلیم چشتی کی درگاہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جب اکبر بادشاہ اولاد نہ ہونے پر مختلف درگاہوں پہ حاضری دے رہا تھا تو اُسے بشارت ملی کہ فتح پورسیکری کے ایک ٹیلے پہ بیٹھے درویشوں سے رجوع کرو۔ یہاں پہنچ کر بابا سلیم چشتی سے دعا کے لیے عرض کی۔ اور جب بیٹا پیدا ہوا تو ا سکا نام شہزادہ سلیم رکھا جو بعد میں جہانگیر بادشاہ کے لقب سے مشہور ہوا۔ کہتے ہیں کہ اکبر بادشاہ جب بھی فتح پور سیکری میں ہوتا تو اپنے محل سے ننگے پاؤں چل کر بابا سلیم چشتی کے در پہ حاضری دیتا ۔
فتح پور سیکری کا شاہی محل روایتی مغل فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ اس کا مینا بازار خاص توجہ کا حامل ہے۔ مینا بازار مغل زمانے کی ایجاد ہے جب شاہی خاندان کی خواتین کو بازار جانے کی زحمت سے بچانے کے لیے محل کے اندر بازار سجایا جاتا تھا۔ فتح پور سیکری کی عظیم الشان جامع مسجد کا بلند دروازہ ایشیا میں سب سے بلند محرابی دروازہ گردانا جاتا ہے۔ اس مسجد کے صحن میں سلیم چشتی کا دربار ہے جہاں زائرین کا تانتا بندھا ہواتھا۔
برصغیر کے طول و عرض میں پھیلی مغل حکمرانوں کی تمام یادگاروں کے تذکرہ کے ساتھ ذہن میں ایک سوال اُٹھتا ہے کہ تین سو سال سے زیادہ عرصہ ہندوستان پر حکمرانی کا چھوڑا ہوا ورثہ فقط یہ مقبرے، قلعے، مساجد، باغات اورمحلات ہی کیوں ہیں ۔ اور یورپ کے ہمعصر حکمرانوں کی طرح کوئی ایک بھی اعلیٰ علمی درسگاہ بطور یادگارکیوں نہ چھوڑ سکے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگراکسفورڈ یا یونیورسٹی آف پیرس کی طرح کی کسی یونیورسٹی آف آگرہ یا دہلی کی بنیاد یہ شہنشاہ رکھ کر برصغیر میں جدیدعلوم کی راہیں ہموار کر جاتے۔ توشاید برصغیر کی تاریخ بھی سو سالہ غلامی سے پاک ہوتی۔
اٹلی، برطانیہ، فرانس اور سپین کے بادشاہ بھی تو شان و شوکت اور عیش وعشرت میں کسی سے کم نہ تھے لیکن اس کے باوجود اُسی زمانے میں وہاں ایسی درسگاہوں کی بنیاد رکھی گئی جو آج کے دور کی شہرہ آفاق یونیورسٹیاں بن چکی ہیں۔ اور جہاں سے جدید علوم کے پھوٹتے چشموں سے پورا عالم اور انسانیت مستفید ہو رہی ہے۔ جبکہ سُرخ پتھراور سفید سنگ مرمر کے مقبروں کی سرزمین پہ بسنے والے سو سالہ غلامی سے نجات کے بعد بھی یورپ کو حاصل علمی برتری کے ہاتھوں مجبور آج بھی سابقہ آقاؤں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ اورمقبروں و محلات کی مسحوورکُن داستانیں سناتے اور لکھتے ہیں۔