نان فائلرز کی اختراع ختم ہونی چاہئے: وزیر خزانہ

  • جمعرات 13 / جون / 2024

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے نافائلرز کی اصطلاح غلط ہے۔ حکومت نے اس طریقہ کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے لیے کاروباری ٹرانزیکشن کے ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہے، کیونکہ اس میں 3، 4 فیصد اضافہ ناکافی تھا۔ اس کو ہم کئی جگہوں پر 45 فیصد پر لے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ نان فائلرز ضرور سوچیں، یہ نان فائلرز کی اختراع کو ختم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی اور ملک ایسا ہوگا جہاں نان فائلرز کی اختراع نکالی گئی ہو۔ اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ نان فائلرز کے لیے ٹیکس ریٹ میں اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔ جی ڈی پی کا 10 فیصد ٹیکس برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسے 2 سے 3 سالوں میں اسے 13 فیصد تک لے کر جانا ہے، دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو جی ڈی پی کے ساڑھے 9 ٹیکس پر بیرونی امداد کے بغیر مستحکم ہے۔ غیر دستاویزی معیشت کو ختم کرنے کے لیے اس کی ڈیجٹائزیشن کی جائے گی۔ ڈیجٹائزیشن کا مقصد انسانی عمل دخل کو کم سے کم کرنا ہے، اس سے کرپشن میں بھی کمی ہوگی اور کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پروگریسو ٹیکس سسٹم کے تحت زیادہ آمدنی والوں پر زیادہ ٹیکس عائد کے نفاذ میں میرا نہیں خیال کہ اس میں کسی کو کوئی مضائقہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح سے نافائلرز کے لیے کاروباری ٹرانزیکشن کے ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہے۔

پیٹرولیم لیوی سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ جو 60 سے 80 روپے کی تجویز ہے، ہم اسے پہلے دن ہی لگانے نہیں جا رہے۔ اس میں اگلے مالی سال کے دوران بتدریج اضافہ ہوگا، اس میں بھی ہم عالمی قیمتوں پر نظر رکھیں گے اور اس کی مطابقت سے اس کو آگے لے کر چلیں گے۔

سیلری سلیب سے متعلق سوال پر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سیلری ٹیکس سے استثنٰی والی کیٹیگری کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سے جو ٹاپ سلیب ہے، وہ بھی اسی طرح سے برقرار ہے۔ سیلری کلاس کے علاوہ پروفیشنلز کمیونٹی آتی ہے، اس کو تو ہم 45 فیصد پر لے گئے ہیں، سلیب میں رد و بدل ہے۔ مجموعی طور پر یہ نمبر بڑا نظر آتا ہے، انفرادی سطح پر دیکھیں تو اس میں اتنا بڑا بوجھ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ریٹیلرز کا تعلق ہے، اگر ہم اس سمت میں آگے نہیں بڑھیں گے تو کوئی بھی آجائے، اس کو یہی کرنا پڑے گا۔ اس لیے جو ہمارے ریٹیلرز، ہول سیلرز بھائی بہن ہیں ان کو نیٹ میں لانا ضروری ہے تاکہ بوجھ بانٹا جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے یہ جو رجسٹریشن شروع کی وہ رضاکارانہ بنیاد پر تھی۔ اپریل میں خود رجسٹر کریں اور اب تو ایپ ہے اس کے ذریعے رجسٹریشن کرنی تھی تو صرف 75 لوگوں نے یہ کیا، یہ ہوتا ہے جب رضاکارانہ بنیاد پر کام ہو تو۔ پھر مئی میں ہمیں اس کو اس طرف لے کر جانا تھا تو 6 شہروں میں ایف بی آر کی ورک فورس کام پر لگی اور 31ہزار کے قریب ریٹیلرز رجسٹر ہوچکے ہیں اور ہم اسے جاری رکھیں گے کیونکہ جولائی سے ٹیکس کا اطلاق ہونا شروع ہوجائے گا۔

غیر قانون کیش ٹرانزیکشن کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا یہ سب چیزیں ڈیجیٹلائزیشن اور غیر دستاویزی معیشت سے منسلک ہیں۔ اس وقت گردشی نقدی 90 کھرب ہے، تو اس لیے ہم نے کوشش کی ہے کہ اسے دستاویزی کیا جائے۔

بجٹ میں نوجوانوں کو نظر انداز کرنے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سے متعلق پوچھے جانے پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہمارے پاس پوری دنیا میں تیسرے بڑے فری لانسرز موجود ہیں، ہمیں نوکریاں نہیں دینی بلکہ بچے اور بچیاں گھر بیٹھ کے پیسے کمارہے ہیں اور اس میں آئی ٹی سیکٹر کے لیے ہم نے سب سے بڑی رقم مختص کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقاتی بجٹ اور غریب عوام کو ریلیف سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں ہماری ترجیح تھی کہ جو منصوبے چل رہے ہیں ان کو مکمل کیا جائے۔ 81 فیسد رقم ان کو دی جارہی ہے جو مکمل ہونے والے ہیں، اگر یہ پروجیکٹس رکے رہیں گے تو جو اثر آنا تھا وہ نہیں آ پائے گا۔ اسی طرح نئے منصوبوں کو صرف 19 فیصد مختص کیا گیا ہے، کچھ تکینیکی چیزوں کو ہمیں آگے لے کر چلنا ہے۔