قومی بجٹ’ مرے کو مارے شاہ مدار ‘کے مثل ہے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے  آئیندہ تین سال کے دوران میں ٹیکس نیٹ کو مجموعی قومی پیداوار کے 13فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس وقت ملک میں جی ڈی پی کے 9 فیصد کے لگ بھگ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے جسے نئے  بجٹ میں 10 فیصد کیا جائے گا۔ البتہ وزیر خزانہ نے اس شرح کو  بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا  ہےکہ تین سال کی مدت میں اسے جی ڈی پی  کے 13 فیصد تک لے جانا ضروری ہے۔

کوئی ذی شعور اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ قومی آمدنی میں اضافہ ہونا چاہئے۔ لیکن حکومت  نے آمدنی میں اضافہ کا جو طریقہ بجٹ میں اور آج وزیر خزانہ کی بعد از بجٹ پریس کانفرنس میں تجویز کیا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت کے پاس عام  شہری کو زیر بار کرنے کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔  اور وہ ہر بار کی طرح اس بجٹ میں بھی ایسی  تجاویز سامنے لائی گئی ہیں  جن کا بوجھ صرف عام لوگوں کو ادا کرنا پڑے گا۔  بجٹ میں تنخواہ دار طبقے  پر انکم ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے اور 50 ہزار روپے ماہانہ سے زائد آمدنی والے تمام ملازمین پر انکم ٹیکس کی شرح میں مرحلہ وار اضافہ ہوگا۔

گو کہ وزیر خزانہ  محمد اورنگ زیب نے آج وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک اور فیڈرل بورڈ آف ریوینو کے چئیرمین ملک امجدزبیر ٹوانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تنخواہ دار طبقے  پر ٹیکس کا بوجھ معمولی ہوگا اور اگر انفرادی طور پر دیکھیں تو یہ اضافہ زیادہ نہیں ہوگا۔ لیکن اس بات پر یقین کرنے سے پہلے حکومت کی مجبوری کا اندازہ کرنا چاہئے جو 50 ہزار ماہانہ آمدنی سے زائد پر ہی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالانکہ ملک میں مہنگائی اور روپے کی ارزانی کی موجودہ صورت حال میں کم از کم آمدنی کی شرح ایک لاکھ سے زائد مقرر ہونی چاہئے ۔ البتہ حکومت  مہنگائی کی شرح کے مطابق آمدنی بڑھانے کا کوئی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے اسی طبقے کو زیر بار کرنے کا اعلان کررہی ہے جو پہلے ہی  اپنی کم آمدنی پر ٹیکس ادا کرکے حکومتی  وسائل کا بیشتر حصہ اپنی قلیل آمدن  میں سے  ادا کرتا ہے۔

یہ حصہ وصول کرنے کے بعد بھی حکومت غریب لوگوں کے بچوں کے لیے تعلیم یا صحت کی سہولتوں میں اضافہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ بجٹ پیش کرنے اور بجٹ پر مثبت رائے زنی کرنے کے سارے عمل میں کسی وزیر یا اہلکار کے منہ سے  تعلیم یا صحت پر  ہونے والے مصارف کا تذکرہ سنائی نہیں دیا کیوں کہ یہ دونوں شعبے مسلسل حکومتی ترجیحات میں بہت نیچے ہیں۔  80 کی دہائی میں  تقریباً گیارہ  سو افراد کے لیے ایک پرائمری اسکول تھا، اب پندرہ سو افراد کو ایک پرائمری اسکول پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔  یہ کمیابی مڈل اور ہائی اسکول کے معاملہ میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ    اس وقت ملک میں 68 ہزار افراد کے لیے ایک ہائی اسکول دستیاب ہے۔  یہی صورت صحت کے شعبے میں بھی  موجود ہے۔ مثال کے طور پر 1980 کی دہائی میں ایک لاکھ 17 ہزار 926 افراد کے لیے ایک ہسپتال تھا لیکن 2023 میں یہ عدد بڑھ کر ایک لاکھ 88 ہزار ہوچکا ہے۔  دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طرف عام  باشندوں کی شہری سہولتیں کم ہورہی ہیں لیکن دوسری طرف  قومی آمدنی میں اضافہ کے لیے تنخواہ دار طبقے  پر بوجھ میں اضافہ کیا  جارہا ہے۔

یہ درست ہے کہ تنخواہ میں اضافہ کے حساب سے ہی ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہوگا یعنی کم تنخواہ والے افراد کے انکم ٹیکس میں اضافہ ، زیادہ تنخواہ لینے  والے لوگوں کے مقابلے میں کم تر ہوگا ۔لیکن بڑی تصویر میں دیکھنے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دو لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جبکہ بہت بڑی اکثریت اس  حد سے کہیں کم آمدنی پر کام کرنے پر مجبور ہے۔ اس طرح عملی طور  سے جی ڈی پی    کے حساب سے ٹیکس ومحاصل بڑھانے کا حقیقی بوجھ ملک کے غریب اورنچلے متوسط طبقہ کے لوگ ہی  اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

موجودہ حکومت ہی نہیں، ماضی قریب میں اقتدار سنبھالنے والی کوئی حکومت بھی ملک میں ٹیکس نیٹ  بڑھانے کا مقصد حاصل نہیں کرسکی۔ یعنی وہ تنخواہ دار طبقہ کے علاوہ  مختلف طریقوں سے روزگار پیداکرنے والے لوگوں  سے ٹیکس وصول کرنے میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔ اس کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ  حکومتیں  عوام میں سرکاری مشینری اور ریاستی انتظام پر  اعتماد پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ لوگوں  کو یقین ہے کہ کسی مشکل کی صورت میں انہیں  اپنے معاملات خود ہی درست کرنا ہوں گے۔ حکومتی ادارے نہ ان کے بچوں کی تعلیم کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی انہیں علاج معالجے کی سہولت دے سکتے ہیں۔

البتہ عوامی عدم اعتماد کا یہ محض ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو  ناقص اور داغدار انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں اصلاح کا  کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتا۔ حتی کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل کرنے  کے بارے میں جو دلائل دیے، ان میں سر فہرست یہی تھا کہ  اس طرح کرپشن کا خاتمہ ہوگا کیوں کہ اس میں انسانی مداخلت کم ہوجائے گی۔ گویا حکومت سرکاری طور سے  نظام میں پائی جانے والی کرپشن کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کی اصلاح کے لیے کوئی اقدام کرنے میں ناکام ہے۔  حالانکہ حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ ڈیجیٹل نظام بہر حال انسان ہی بنائیں گے اور اسے انہی لوگوں نے چلانا ہے۔ اگر نظام میں  قومی آمدنی وصول کرنے والے نظام میں ہی  جھول ہوگا تو  اسے مشینوں کے سپرد کرکے درست نہیں کیا جاسکتا۔

ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے وزیر خزانہ نے  جس سب سے مؤثر طریقے کا حوالہ دیا ہے، وہ نان فائلرز  کی تعداد میں کمی  کرناہے۔ یعنی ایسے لوگوں کی تعداد کم سے کم کی جائے جو کسی بھی طرح ٹیکس نیٹ میں  موجود نہیں ہیں۔ اس کے لیے البتہ کوئی انتظامی طریقہ کار وضع کرنے کی بجائے نان فائلرز پر مختلف سہولتیں لینے کے لیے  محاصل کی شرح بڑھانے کا اقدام  کیا جارہاہے۔ جیسے جائیداد کی خرید و فروخت  یا کار  کی خریداری  وغیرہ۔   حکومت یہ باور کرنے میں ناکام ہے کہ  عام  شہری  کیوں یہ سمجھتا ہے کہ  ٹیکس نیٹ میں رجسٹر ہونے کی صورت میں اسے مسلسل  اپنی آمدنی پر ٹیکس دینا پڑے لیکن جائیداد یا کار وغیرہ کی خریداری پر ایک بار ٹیکس دے کر گلو خلاصی  ہوسکتی ہے۔ اس کا تعلق بھی حکومت اور سرکاری مشینری پر عدم اعتماد سے ہے۔ کرپشن اور اقربا پروری  کی وجہ سے یہ نظام اس حد تک ناقص اور  غیر فعال ہوچکا ہے کہ شہری اس پر اعتبار  کرنے پر آمادہ نہیں  ہیں اور حکومت اس مسئلہ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کا کوئی علاج تجویز کرنے میں ناکام ہے۔

ایسے میں   دو ہی طریقے قابل عمل ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ متعدد دیگر ممالک کی طرح ہر شہری کو ٹیکس نیٹ میں رجسٹر کیا جائے خواہ اس کی  آمدنی صفر ہو۔  اس نظام میں جن لوگوں کی آمدنی  نہیں ہوتی یا بہت کم ہوتی ہے ، ان کا گوشوارہ خالی رہتا ہے اور ان سے ٹیکس نہیں مانگا جاتا لیکن جو لوگ کسی  بھی طریقے  سے آمدن  حاصل کرتے ہیں، انہیں اس پر ٹیکس دینا  پڑتا ہے۔ یوں  ٹیکس نظام ایک آٹو سسٹم کے تحت کام کرنے لگتا  ہے۔ لیکن یہ طریقہ شاید  اس شعبہ کی بیوروکریسی کے لیے قابل قبول نہ ہو کیوں کہ ان کا ’روزگار‘ بھی نظام میں موجود کمزوریوں  ہی کا محتاج ہے۔

 دوسرا طریقہ وسیع بنیادوں پر عوام میں شعور پیدا کرنے کا ہوسکتا ہے۔ البتہ اس کے لیے کسی بھی حکومت کو خود ذمہ دار اور باشعور ہونا پڑے گا۔ جس ملک کا وزیر اعظم ہر لحظہ جذباتی تقریروں سے لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہو، اس نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہونے کا کوئی امکان نہیں۔  یوں بھی ملک کے نظام تعلیم میں شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے چند دینی حوالوں اور مذہبی سلوگن کے علاوہ کوئی ایسا نصاب موجود نہیں ہے جو طالب علموں کو ہر سطح پر یہ سکھا سکے کہ کوئی مہذب معاشرہ معاشی و سیاسی طور سے کیسے کام کرتا ہے۔ جو حکومت ملک میں تعلیم کی ذمہ دار ہی قبول نہ کرتی ہو اور جہاں پونے تین کروڑ بچے اسکول کی سہولت سے محروم ہوں ، وہاں ایسی کسی تحریک کا کامیاب ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

آمدنی میں اضافے کا شور مچانے کے باوجودقومی بجٹ میں کوئی ایسا اقدام دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ ہی وزیر خارجہ کی بجٹ تقریر یا پریس کانفرنس میں اس کا حوالہ سننے کو ملا ہے کہ   معاشی لحاظ سے ملک کے توانا طبقے  پر محاصل یا ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کیا جائے گا۔ یعنی پاکستان کے قومی بجٹ میں  عام طور سے تسلیم شدہ یہ اصول معدوم ہے کہ معاشرے کے امیر  افراد قومی آمدنی میں زیادہ حصہ ڈالیں اور کم آمدنی والوں پر ان کی آمدنی کے  مطابق ہی  بوجھ ڈالا جائے۔ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ چھوٹے اور اوسط تاجروں کو  ٹیکس نیٹ  میں لانے  کی بات کی گئی ہے۔ لیکن وزیر خزانہ نے اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ ہرگز حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ   اس سال مئی  کے آخر تک 31 ہزار ریٹیلرز نے رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کروائی ہے ۔ البتہ حکومت اب اس حوالے سے مزید کارروائی کرے گی  تاکہ اس تعداد میں اضافہ ہوسکے۔

25 کروڑ لوگوں کے ملک میں حکومتی  حوصلہ افزائی کے باوجود صرف اکتیس ہزار دکانداروں یا تاجروں نے  ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کا  عندیہ دیا ہے۔ اس تعداد سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ  ایک بار پھر ٹیکس نیٹ میں اضافے کے حکومتی  دعوے پورے نہیں ہوں گے۔  وزیر خزانہ کے الفاظ میں ’ یہ  ہمارے بہن بھائی ہیں۔ انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کا مقصد ان کا بوجھ کم کرنا ہے‘۔  البتہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ حکومت کیسے ان لوگوں سے ٹیکس وصول کرکے ان کی مدد کرے گی؟ ویسے بھی ٹیکس وصول کرنے کا ذمہ دار وزیر جب آمدنی کے باوجود ٹیکس دینے سے گریزاں لوگوں کے ساتھ ’رشتہ داری‘ استوار کرے گا اور پروفیشنل انداز میں ان کی قانونی اور سماجی ذمہ داری کی نشاندہی نہیں کرے گا تو یہ لوگ کیوں ٹیکس دیں گے؟ حکومت اس کے علاوہ  ایسا کوئی مکینزم لانے میں ناکام ہے جس تاجر ہو یا صنعت کار، انہیں براہ راست مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ دونوں طبقات ٹیکس عائد ہونے کی صورت میں اس بوجھ کو صارفین تک منتقل کرکے خود ’سرخرو ‘ ہوجاتے ہیں اور  عام شہری تمام سرکاری مصارف کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔

حکومت  شاید اگلے مالی سال میں  12970 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن یہ بات یقینی  ہے کہ یہ وزن بھی انہیں لوگوں کے کاندھوں پر ڈالا جائے گا جو پہلے ہی قلیل آمدنی کے  باوجود محاصل و ٹیکسز کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ امیر طبقات اس بار بھی کوئی قومی  ومعاشی ذمہ داری قبول کرنے سے محفوظ رہے ہیں۔ پاکستان میں غریب  طبقات کا حال اس اردو  مثل جیسا ہے کہ مرے کو  مارے شاہ مدار۔