حکومت بے اختیار ہے، اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی: عمران خان

  • جمعہ 14 / جون / 2024

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کیا مذاکرات کریں ان کے پاس تو اختیار ہی نہیں۔ پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دینے والے ججز پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا بجٹ نے تنخواہ دار طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ پارٹی میں گروپ بندی کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ سخت ایکشن لوں گا۔

انہوں نے کہا کہ سرگودھا کے جج نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ کیسے خفیہ ادارے نے اس پر دباؤ ڈالا۔ اس جج کے گھر کی گیس کاٹ دی گئی، پی ٹی آئی کے ججوں پر پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جو جج ہمیں انصاف دینے لگتا ہے اسے پریشرائز کیا جاتا ہے۔ جو صحافی پی ٹی آئی کے حق میں بولتا ہے اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔ رؤف حسن پر حملہ کرکے اس کا منہ کاٹ دیا گیا، علی زمان پر تشدد کیا گیا، اس سب میں معاملات میں خفیہ ادارہ شامل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے فوجی اور پولیس والے ہر روز شہید ہورہے ہیں۔ آئی ایس آئی کا کام ہمیں تحفظ دینا ہے لیکن اسے پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر لگادیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کو پیغام ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کروائیں۔ چیف جسٹس کے سامنے قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے۔ ہمارا پارٹی دفتر توڑ دیا گیا ہے۔ قوم سرگودھا کے ایک جج، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز اور سپریم کورٹ کے 3 ججز کو سلام پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مطابق ہمیں 13 ہزار ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنا ہے جس میں سے 9 ہزار 8 سو ارب قرض کا سود ادا کرنا ہے۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ہمیں ساڑھے 7 ہزار ارب کا قرض لینا پڑے گا۔ پاکستان تو ڈوب چکا ہے، یہ ملک صرف سرمایہ کاری سے بچے گا جو قانونی کی حکمرانی سے ہی آئے گی کیوں کہ 50 سال میں سب سے کم سرمایہ کاری اس سال آئی۔ ملک کا مستقبل اندھیرے میں چلا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے معاملے پر غلط بیانی نہ کی جائے کہ ہم مذاکرات نہیں چاہتے۔ جب فیصلے اوپر سے بڑے صاحب کریں گے تو پھر ان سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟ جسٹس بندیال کے کہنے پر پی ڈی ایم سے مذاکرات کیے تو کہا گیا بڑے صاحب نے فیصلہ کیا ہے جب تک بندیال ہے الیکشن نہیں ہوں گے۔ سیاست دان ہمیشہ مذاکرات میں ہی جاتا ہے۔ ہم نے مشرف دور میں بھی اس کے نمائندے سے مذاکرات کیے لیکن حکومت سے نہیں کیے۔

عمران  خان نے کہا کہ پارٹی کو پیغام ہے کہ گروپنگ ختم کرکے اکھٹے ہوجاؤ۔ یہ پاکستان کی زندگی و موت کا فیصلہ ہے۔ اب پارٹی میں جو گروپنگ کرے گا، اسے نہیں چھوڑوں گا، اس کے خلاف سخت الیکشن لوں گا۔

صحافی نے سوال کیا خان صاحب آپ کیا چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے لیے نمائیندہ مقرر کرے، تب ہی آپ مذاکرات کریں گے؟ بانی پی ٹی آئی صحافی کے اس سوال کا جواب دیے بغیر چلے گئے۔