جے پور کا گلابی رنگ اور خستہ حالی (6)

فتح پور سیکری سے جےپور کو نکلتے شام ڈھل چکی تھی۔ لہٰذا دوران سفر سڑک کے دائیں بائیں کسی قسم کی منظرکشی ممکن نہ رہی۔ بس کہیں دور کوئی ٹمٹاتی روشنی نظر آتی۔

جےپور پہنچتےنصف شب گزر چکی تھی۔ بے شک رات کا سفر دن کے مقابلے زیادہ وقت لیتا ہے لیکن یہاں تو سڑک کی حالت بھی کوئی قابل تعریف نہ تھی۔  پھر پاکستان کی طرح شام ہوتے ہی سڑک پر ٹرکوں کا راج اور اوپر سے وہی ٹریفک کی بدنظمی اور ہر لحمہ کہیں سے بغیر لائٹ کے کسی گاڑی کا سامنے سے نمودار ہونا اور اورلوڈڈ ٹرکوں کا ایک دوسرے کو سُست رفتاری کے ساتھ کراس کرتے رکاوٹ بن جانا۔ جےپور میں داخل ہوتے وقت شہر تقریباً ویران تھا۔ سڑکوں پہ گھومتے آوارہ کُتے اور کئی جگہوں پہ گائیں بیٹھی نظر آیئں۔

یہ مقدس گائیں گلی بازاروں میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں، جن کا بہت احترام کیا جاتاہے اور اگر سڑک پہ آجائیں تو تمام گاڑیاں رُک جاتی ہیں۔ رات کوسنسان سڑکوں پر سے گزرتے دائیں بائیں کا منظر واضع تھا۔ گو اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کافی مدہم تھی لیکن دن کی بھیڑ کی عدم موجودگی میں ہر شہ قدرے زیادہ نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔ پہلی جھلک میں جے پور دوسرے شہروں کی طرح ہی لگ رہا تھا۔

رات کی تاریکی میں پچھلے پہر کو جو ایک پریشان کُن تجربہ ہوا وہ انڈین انٹرنیٹ کی ناقص سروس تھی۔ دنیا بھر میں اس وقت بڑی کمپنیوں میں انڈین سی او کی تعیناتی سے ذہن میں یہ تصور تھا کہ یہاں انٹرنیٹ کی سروس اعلیٰ اور میعاری ہوگی۔ لیکن یہ انٹرنیٹ سروس ناروے تو کیا پاکستان سے بھی کمتر لگ رہی تھی۔ اس کا تجربہ اپنے ہوٹل پر پہنچنے کے لیے گوگل میپ کو استعمال کرتے ہوئے ہوا، جس میں بار بار خلل آجاتا۔ آدھی رات کے وقت ایک اجنبی شہر میں راستہ ڈھونڈنے میں دشواری، باعث پریشانی بھی تھی۔ کیونکہ دن کے وقت راہ چلتے راہگیروں سے ملنے والی مدد اب ممکن نہ تھی۔

رات کے وقت کوئی راہگیر نظرنہیں آ رہا تھا اور ڈرائیور بھی ضرورت سے زیادہ محتاط تھا۔ بقول اُس کے رات کے پچھلے پہر اجنبی شہر میں خود کو اجنبی ظاہر کرنا خطرے کا موجب بھی بن سکتاہے۔ بالآخر گوگل میپ نے کچھ ناز نخروں کے بعد راہنمائی فرماتے ہوئے بخیر و عافیت ہوٹل تک پہنچا دیا۔ ہوٹل ایک خوبصورت پرانی محل نما حویلی میں تھا جس کا ڈیزائن انتہائی دلکش اور پُرکشش تھا۔ ہوٹل میں پہنچ کر اول ترجیح صرف آرام تھی کیونکہ ایک تو سفر لمبا اور اوپر سے سڑک کی خراب حالت نے تھکاوٹ بڑھانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ بستر پر لیٹتے ہی آنکھ لگ گئی اور فجر کے وقت پہلی بار انڈیا میں اذان کی گونجتی آواز کان میں پڑنے پر آنکھ کھلی۔

کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سیر کی کوشش میں صبع جلدی ہی اُٹھ کر ہوٹل کی چھت پہ ایک خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ناشتہ کر کے شہر کی سیر کو نکلنا ہوا۔ جےپور کو محلات کا شہر کہا جاتا ہے اور یہ راجستھان کا درالحکومت ہے۔ شہر کی بنیاد سوائی جے سنگھ نے 1727 میں رکھی۔ یہ شہر برطانوی راج کے دوران سب سے پہلا پلاننگ کے تحت تعمیر ہونے والا ماڈرن شہر ہے۔ 1876 میں جب ملکہ وکٹوریہ جےپور تشریف لائیں تو مہاراجہ آف جےپور نے ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے شہر کی بیشتر عمارات کو گلابی رنگ میں رنگ دیا جو مہمان نوازی کی علامت تصور ہوتا ہے۔ تب سے جےپور گلابی شہر (pink city ) کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔

آج بھی جےپور شہر کا پرانا بازار جو ایک لمبی سڑک کے دونوں اطراف آباد ہے کی تمام عمارتیں گلابی رنگ میں ہی ہیں لیکن بوسیدگی کا شکار ہونے کی وجہ سے گلابی رنگ کے علاوہ کوئی خاص کشش نہیں رکھتیں ۔ جے پور میں تقریباً ہر گلی کے کونے پہ ایک پرانی محل نما حویلی طرز کی عمارت موجود ہے۔ لیکن حیران کُن بات یہ ہے کہ یہاں کی شہری انتظامیہ نے ہمارے شہر اوسلو کی طرح کوئی ایسا قانون شاید متعارف نہیں کروا رکھا جس کی بنیاد پر نئی تعمیرات کو علاقے میں پہلے سے موجود پرانے ڈیزائن کو ملحوظ نظر رکھ کر ترتیب دیا جائے۔ تاکہ پرانی اور نئی عمارتوں کے تضاد سے شہر کی ثقافتی شناخت ماند نہ پڑے۔ یہاں کی تعمیر نو پرانے ثقافتی ورثہ سے لاتعلقی کی آئینہ دار دکھائی دی۔ ارباب اقتدار اپنی ثقافتی یاداشت سے محروم نظر آئے۔

اس شہر باکمال کی پرانی عمارتوں کے حُسن کو نئے کمرشل آرکیٹیکچر کے سامنے بے بس دیکھ کر افسوس بھی ہوا۔