نسبت مجھے اس خاک سے ہے
- تحریر ڈاکٹر صائمہ ذیشان انصاری
- ہفتہ 15 / جون / 2024
ڈاکٹر فرحت جبیں ورک کی یہ تصنیف، "پروین شاکر کا سیاسی اورعصر ی شعور : نسبت مجھے اس خاک سے ہے"، پروین شاکر ٹرسٹ کے زیر اہتمام، محترمہ پروین قادر آغا کی سرپرستی و رہنمائی میں ۲۰۱۴ میں شائع ہوئی۔
کتاب کا نام اس کی بین المتونیت اظہارات سے معمور ہے کہ خود پروین ؔ کا یہی بیانیہ (Narrative) رہا کہ:
بخت سے کوئی شکایت ہے، نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
پروین ؔ شاکر کے سیاسی و عصری شعور کے تعین کے لیے فرحت صاحبہ نے ان کے کالموں کا انتخاب کیا ہے جوکہ حب الوطنیت کے متون اور فرد ِ کائنات کی جہانگیری و جہاں بانی کی تلاش سے عبارت رہی کہ یہی پروین کے سیاق کے تناظرات کا منتہا و مدعا تھا۔ آپ کے فلسفۂ تخلیقیت و تلازماتی قوت کے مبادیات یہی رہے کہ جذبہ ٔ حریت و شدت ِ احساس کی ہم آہنگی سے مزین جذبۂ وطنیت ہی معاشرت، معیشت، سماجیاتی نظام اور اخلاقیات کی بلند و متوقع ہمواریت کا سبب ہوا کرتی ہے اور یہی روحانی اضطراب دراصل انسانی جواہر کی لامحدودیت ہے جو اسے تسلسل وکاوش ِ پیہم کی جانب مائل رکھتا ہے۔
پروین ؔ نے شعری رویوں کی طرح اپنی نثر میں بھی اس معنیاتی تعبیر کا اظہار کیا ہے جو ان کے عصری وسماجی اور سیاسی و وطنی شعور یت (Consciousness) کی رو نمائی ہےاور اس میں کسی طرح بھی مابعد ا لطبیعاتی یاسیت، احساسِ بے چارگی ، بہم اسباب سے محرومی یا اظہار ِ مایوسی نہیں بل کہ ان سب گریز کرتی ہوئی انسانی سطوت و کمال کی بقائیت کے لیے فکر مندی ِحالات ، ایک نسل کی زیاں گزیدگی ،دردمندی ِ انسان اور فلاحِ آدمیت کا احساس اپنے وسیع تر و ہمہ گیر دائرے میں ایک کائناتی و تہذیبی مظہرمیں ڈھل جاتی ہے۔
فرحت صاحبہ نے اپنی اس کتاب کا انتساب بھی "وطن سے محبت کرنے والوں کے نام" کیا ہےاور رقم طراز ہیں کہ "نثر کی صورت میں جب وہ بحیثیت نثر نگار اپنے ہم وطنوں کے مسائل ، چاہے وہ فراہمی آب ہو یا آب و ہوا یا شہروں میں امن و امان کی بابت بیان کرتی ہیں توگویا یہ بھی اپنے عصر اور مٹی سے وفا کا ثبوت ہی تو ہے"۔ کتاب کو ابواب میں منقسم کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے تہ در تہ معنویت اور تاثریت کو ملحوظ رکھا ہے۔ "پروین شاکر کے دور کا سیاسی منظر نامہ" کے عنوان کے تحت ذیلی عنوانات کی ترتیب معنی خیزیت ا ور ارتقائی تناظر کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
"پروین شاکر کا جذبہ ٔ حب الوطنی" اور " پروین شاکر کا سیاسی و عصری شعور " کے موضوعات پروین شاکر کی شعری و نثری جہات میں جواہر ِ انسانیت کی دوامیت و تسلسل کا شعوری احساس ہے اور بلاشبہ ڈاکٹر صاحبہ نے اس عنوان کے ذیل میں آپ کی شعری سرمائے اور آپ کے کالموں میں موجود اعلیٰ انسانی اقدارو اثبات،ظلم و ستم و استحصال کی منفیت ، اجتماعی انسانی فلاح ، جمہور دوستی ، رجائیت پسندی اور تصور ِ مساوات کے عناصر کی وابستگی کو نہایت عمدگی اور تجزیاتی انداز میں پیش کیا ہے۔شعری مثالوں میں ڈاکٹر صاحبہ کا انتخاب پروین شاکر کی وصف ِ ابلاغ سے مزین معاصر جہد ِ مسلسل اور شاعرانہ مثالیت پسندی کی اختصاصی مبادیات کو نہایت مرتکز انداز میں سامنے لاتا ہے ۔
"پروین شاکر کی کالم نگاری" کےباب میں پروین شاکرکےتحریر کردہ کالم جوکہ" گوشۂ چشم" کے تخلیقی سماجی عمل کے مثالی اوربامعنی عنوان کے تحت لکھے گئے تھے، ان پر توازن و تحمل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔"پروین شاکر کا سیاسی شعور، مقالے'سقوط ڈھاکا ' کے پس منظر میں " کے عنوان کو مزید ذیلی عنوانات میں منقسم کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے اس باب میں معروضیت ، وسعت نظری،محققانہ ذمہ داری اور استناد کو ملحوظ رکھا ہے اور اس حقیقت کی بازیافت کی کاوش وجستجو کی ہے کہ حیاتیاتی سطح پر انسان کی بقا کا توانا احساس اور سچائی کی عمومیت کے ان منفرد و بصیرت افروز تجربات کی تشکیلات، پروین شاکر نے کن خطوط اور کن زاویۂ نقد و نظرکی اساسیت پر قائم کیں۔
محترمہ پروین قادر آغا کے یہ فکری الفاظ اس کتاب کی روشناسی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ "اب سے پہلےپروین شاکر جیسی محب وطن و حساس شاعرہ کو صرف نوجوان نسل کے لیے ' محبت کی سفیر' سمجھا گیا، اس بات پر کم توجہ دی گئی کہ وہ اس محبت میں کس قدر غم ِ دوراں رکھتی ہیں ۔ کیسا سیاسی و عصری شعور ان کے دل و دماغ کی دنیا میں تڑپ رہا ہے؟ پروین شاکر کی شاعری کا مشاہدہ کرنے والےاس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ان کے شعر و نثر کی سطر سطراس سماج کے دکھوں کی سیاہی سے تحریر کردہ ہے۔ ڈاکٹر فرحت جبیں ورک کی یہ کتاب پروین شاکر کی تحریر کے اس پہلو پر لکھی گئی ایک انتہائی اہم کتاب ہےجس سے دنیائے ادیب یقیناً مستفید ہوگی۔