پنجاب میں قربانی کرنے پر احمدی کمیونٹی کے خلاف پولیس کارروائیاں

  • سوموار 17 / جون / 2024

صوبہ پنجاب میں احمدی کمیونٹی کو جانوروں کی قربانی کرنے پر پولیس کارروائی کا سامنا ہے۔  پاکستانی آئین کے مطابق احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے،  انہیں اسلام شعائر پر عمل سے روکا جاتا ہے۔

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤ الدین، شیخورپورہ، فیصل آباد، وزیر آباد اور حافظ آباد سمیت دیگر اضلاع میں احمدی کمیونٹی کے افراد کو قربانی سے روکنے کے لیے تھانوں میں درخواستیں دی گئی ہیں۔ احمدی کمیونٹی کو جانوروں کی قربانی کرنے کی صورت میں مبینہ طور پرتوہینِ مذہب کے تحت مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ بعض علاقوں میں احمدی افراد کے ساتھ ساتھ ان کے قربانی کے جانوروں (بکروں) کو بھی پولیس نے پکڑ لیا ہے۔

احمدی کمیونٹی کو قربانی سے روکنے کے لیے تھانوں میں دائر بیشتر درخواستیں مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مقامی رہنماؤں نے جمع کرائی ہیں۔ جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ مذہبی عناصر کے دباؤ پر پنجاب پولیس عیدِ قربان کے موقع پر احمدیوں کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور انہیں چار دیواری کے اندر قربانی کے فریضے سے روک رہی ہے۔

مختلف اضلاع میں احمدیوں کو تھانوں میں بلا کر کہا جا رہا ہے کہ قربانی کی صورت میں انہیں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لہذا وہ اپنی سلامتی کی خاطر قربانی کا فرض ادا نہ کریں۔ عامر محمود نے بتایا کہ سیالکوٹ کے علاقے موترہ میں پانچ احمدیوں، لاہور، فیصل آباد، گوجرنوالہ اور تحصیل ڈسکہ میں ایک ایک احمدی کو ان کے بکروں سمیت پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ترجمان احمدیہ کمینوٹی نے پولیس کی ان کارروائیوں کو غیرقانونی وغیر آئینی قرار دیا ہے۔ ترجمان جماعت احمدیہ کے مطابق عید الاضحیٰ کے موقع پر احمدیوں کو قربانی کرنے سے زبردستی روکنے جیسے اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 اور سپریم کورٹ کے 12 جنوری 2022 کو دیے گئے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

 اس سال احمدیوں کو قربانی کرنے سے روکنے کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ شدت محسوس کی گئی ہے۔

احمدی کمیونٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر جب وائس آف امریکہ نے پولیس کے افسران سے رابطہ کیا تو ان کا مؤقف تھا کہ پولیس کی اولین ترجیح امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنا ہے۔ معاملے کی حساسیت کے باعث پولیس افسران کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے، جن کا کہنا تھا کہ احمدیوں کو قربانی سے نہیں روکا جا رہا اور مذہبی افراد کو بھی سختی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ازخود قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔