پذیرائی

دسمبر ۲۰۰۰میں شائع ہونے والی یہ کتاب ، پروین شاکر کی شخصیت اور فن شعر گوئی پر ڈاکٹر سلطانہ بخش صاحبہ کی دوسری پیش کش ہے جس میں ممتاز اہل قلم اور ناقدین ادب کی آرا کو یک جا کرکے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلے حصے کو "فکر و فن-تنقیدی آرا" کا عنوان دیا گیا ہے، جس میں ڈاکٹر سلطانہ صاحبہ سمیت کل ۲۲ ناقدین کے مضامین شامل ہیں۔ سب سےپہلے اسلوب انصاری صاحب ایک محتاط رویہ اپناتے ہوئےپروین شاکر کو محض خوش گو شاعرہ تک محدود سمجھتے ہیں اور پروین کے فن کے سلسلے میں کوئی بلند وبانگ دعوے سے قبل تحقیق کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی افسردہ نظر آتے ہیں کہ پروین شاکر کی شاعری میں مزید وزن اور وقار پیدا ہونے کا وقت میسر نہ آسکا ۔

ڈاکٹر محمد علی صدیقی صاحب چوں کہ پروین شاکر کے محکمہ جاتی جریدے Douances کے مدیر اعلیٰ بھی تھے اور خود بھی ایک نہایت فکری و نظری ادب کی تخلیق پر قادر ہیں، ا س لیے انہیں پروین کے خیالات پر خود پروین سے مباحثے کے مواقع میسر آئے جس کے باعث ان کا مضمون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ شہزاد احمد صاحب نے پروین کے کلام پر عورت اور مرد کے مابین آرکی ٹائپ، آئیڈیل ازم اور مرکزی کردا ر کی مختلف امیجز میں تقسیم پر بحث کی ہے۔ پروفیسر محسن احسان صاحب پروین کے کلام میں موت کا کوئی مربوط فلسفہ تلاش کرتے نظر آ تے ہیں۔ پروفیسر حسن سجاد ، ہارون الرشید ، فتح محمد ملک، مسرت حفیظ بزدار ، انور عنایت اللہ، منور حسین، راحت ملک، حیدر قریشی، حمایت علی شاعر، صفدر علی شاہ ، اسماعیل گوہر، عشرت ظفر اور ڈاکٹر سلطانہ بخش ، ان تمام صاحبان نے محققانہ انداز میں پروین شاکر کے تمام شعری مجموعوں اور ان کی شاعری کے مختلف مراحل پر تنقید ی نوعیت کے مضامین تحریر کیےہیں۔

اختر حسین جعفری صاحب کا مختصر مضمون ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پروین نے مظاہرات کا مشاہدہ کرکے اپنا شعری تجربہ کس تکنیک سے بیان کیاہے۔ افتخار عارف صاحب نے پروین کی غزلوں کو ان کا اصل میدان قرار دیا ہے اور اسی میدان کی تشریح عالیہ جلیل شاہ صاحبہ نے اپنے وقیع مضمون "پروین شاکر کی غزل" میں تفصیل کے ساتھ پیش کی ہے۔ غلام محمد قاصر نے پروین کے کلام کو ان کی زندگی کے روز و شب سے تعبیر کیا ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ ہر اصل اور قرار ِ واقعی شعرا کی طرح پروین کی شاعری کے شعری سفرکی منزل بھی ان کی موت ہی تھی۔ ڈاکٹر سعادت سعید صاحب نے اپنے نظریاتی و تجزیاتی انداز میں پروین کے کلام میں حکایت اور تجزیاتی اسلوب کو منتخب کرکے اس سے سیاسی و سماجی نوعیت کے اہم نتائج اخذ کیے ہیں۔

دوسرےحصے کو "شخصیت و فن-تاثرات" کا عنوان دیا گیا ہےجس میں پہلے پہل خود پروین شاکر کا اپنےبارے میں ایک مضمون بہ عنوان "کہانی میری" شامل ہے۔ اس کے بعد محترمہ پروین قادر آغا صاحبہ کا مشہور تاثراتی مضمون "پھول شہزادی" شامل تصنیف ہے۔ مہتاب راشدی صاحبہ نے کراچی سے چین تک کے سفر میں بننے والی ان کی نئی سہیلی پروین شاکر کے بارے میں اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ رفعت حیدر اور زاہد فخری کے مضامین عقیدت مندانہ اظہار کا ثبوت ہیں۔ خالدہ حسین نے پروین شاکر کے جان لیوا حادثے سے ایک گھنٹا قبل ان سے لاسلکی گفتگو کی تھی اور اس مضمون میں انہوں نے پروین شاکر کےخلوص کو بہت یاد کیا ہے۔

کرنل دل نواز خان نے پروین شاکر کو حسن اخلاق کی بہترین مثال قرار دیا ہے اور پروین سے جنوری ۱۹۹۵ کے کسی ہفتے کے روزطے شدہ ملاقات کو یاد کیا ہے ، وہ ملاقات جو کبھی ہو نہ پائی کہ اس سے قبل ہی پروین شاکر کا انتقال ہوگیا تھا۔ سرفراز سید صاحب نے پروین شاکر کے انتقال کے روز کئی نامور شعرا اور ادبا کو فون کیا اوران کے تاثرات نوٹ کیے۔ انہوں نے اس بس ڈرائیور کی جانب بھی اشارہ کیا ہے جس کی ذرا سی غفلت ، ذرا سی کوتاہی اور چند لمحوں کی غیر ضروری عجلت نے ہمیں پروین شاکر سے جدا کردیا۔ بے شک چند لمحوں کی غلطی ناقابل تلافی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ فوزیہ چودھری صاحبہ کا مضمون قدرے جذباتی اور متاثر کن ہے کیوں کہ انہوں نے امجد اسلام امجد اور احمد فراز کی طرح پروین شاکر کوبھی اپنے نگار خانہ دل کے سنگھاسن پر بٹھالیا تھا ۔ نجیب احمد صاحب کا مختصر مضمون مکالماتی، ادراکی اور تجزیاتی نوعیت کا ہے۔

کتاب کا آخری حصہ پروین شاکر کی تمام شعری تصانیف سے منتخب نظمیں اور غزلیات پر مشتمل ہے جنہیں سن اشاعت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس انتخاب میں یوں محسوس ہوتا ہےکسی باریک بین مرتب نےوقت کے ساتھ پروین شاکر کے بدلتے دل کی کیفیات اشعار کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دی ہیں جس میں ایک بات تو طے ہے پروین شاکر کا اپنے خالق ، پروردگار کائنات سے قلبی تعلق از حد مضبوط، توانا اور قابل ستائش تھا۔