یونانی کوسٹ گارڈز پر تارکینِ وطن کو بحیرہِ روم میں پھینکنے کا الزام
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 18 / جون / 2024
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈز تین سال کے عرصے میں بحیرہِ روم میں درجنوں تارکین وطن کی ہلاکت کا سبب بن چکے ہیں، جن میں سے نو افراد کو جان بوجھ کر پانی میں پھینک دیا گیا تھا۔
بی بی سی کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نو افراد ان 40 سے زائد افراد میں شامل تھے جو مبینہ طور پر یونان کی سمندری حدود سے بے دخل کیے جانے یا یونانی جزیروں پر پہنچنے کے بعد سمندر کی جانب واپس دھکیل دیے جانے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔
یونانی کوسٹ گارڈ نے بی بی سی کی تحقیقات کے دوران اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔ ہم نے یونانی کوسٹ گارڈ کے ایک سابق سینیئر افسر کو وہ فوٹیج دکھائی کہ جس میں ایک یونانی کوسٹ گارڈ 12 افراد کو کشتی میں لاد کر ایک ڈنکی پر چھوڑ آتے ہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد جب وہ جانے کے لیے اپنی کرسی سے اٹھے تو اُن کے گریبان پر لگا مائیک ابھی چل رہا تھا، جس پر اُن کے یہ جُملے ریکارڈ ہوئے اور واضح طور پر سُنے گئے کہ یہ ’واضح طور پر غیر قانونی‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کے تحت سنگین جُرم‘ ہے۔ واضح رہے کہ ڈنکی لکڑی یا ربڑ سے بنی ایک چھوٹی کشتی کو کہتے ہیں۔
یونانی حکومت پر طویل عرصے سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ جبری طور پر تارکینِ وطن کو مُلک میں داخل ہونے سے روکتے ہوئے انھیں ترکی کی جانب دھکیل دیتے ہیں، جہاں کی سرحد وہ پہلے ہی پار کر چکے ہوتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔
لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بی بی سی نے ان واقعات کی تعداد کا اندازہ لگایا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ ہم نے مئی 2020 سے مئی 2023 کے درمیان پیش اںے والے 15 واقعات کا تجزیہ کیا جن کے نتیجے میں 43 لوگوں کی موت ہوئی۔ ابتدائی ذرائع بنیادی طور پر مقامی میڈیا، این جی اوز اور ترک کوسٹ گارڈ تھے۔
اس طرح کے بیانات کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے بیانات دینے والے گواہ اکثر غائب ہو جاتے ہیں یا پھر بولنے سے ڈرتے ہیں۔ تاہم ہم چار معاملات میں عینی شاہدین سے بات کرکے بیانات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہے۔