ملکی ترقی کے لیے سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا: وفاقی وزیر خزانہ

  • منگل 18 / جون / 2024

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر اس ملک کو آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا۔ اور ریلیف چاہیےتو حکومت کا بوجھ کم کرنا ہوگا۔

کمالیہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں اورکاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے اپنی اچیومنٹس اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ بجٹ میں کچھ اصول اور پرنسپلز کی بات کی تھی۔ پہلی بات تو ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی 9.5 فیصد ہے، یہ سسٹین ایبل نہیں ہے۔ خیرات سے اسکول، یونیورسٹیاں اور ہسپتال تو چل سکتے ہیں، ملک صرف ٹیکس سے چلتے ہیں، ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو بتدریج 13.5 فیصد پر لے کر جانا پڑے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے مختلف اقدامات ہیں۔ پہلا وہ تمام شعبے جو پہلے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں نہیں تھے، انہیں اس میں لایا جائے۔ دوسرا گزشتہ برس 39 کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، ہمیں اس چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں ہم باقی سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، 31، 32 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور جولائی سے ان پر ٹیکس کا اطلاق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم میں جو لیکیجز ہیں، قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن ہم ان کو نافذ نہیں کر پا رہے، اس کے لیے ہمارے ٹیکس اتھارٹی کو آگے بڑھنا پڑے گا۔ اس میں سیلز ٹیکس اور ان کا فراڈ ہے۔ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان ساری چیزوں کا ادارک ہے اور ہم ڈیجاٹزیشن کر رہے ہیں تاکہ انسانی عمل و دخل کم ہو۔ اس کے نتیجے میں شفافیت آئے گی، کرپشن کم ہو گی۔ کیوں لوگ ایف بی آر کے نیٹ میں نہیں آنا چاہتے؟ اس لیے نہیں آنا چاہتے کہ ہمیں جو ہراسمنٹ ہوتی ہے، ہمیں جو نوٹسز آتے ہیں، جو لوگ مجھے آ کر بتاتے ہیں، ان کو اس چیز کا ادارک نہیں ہے کہ میں پرائیویٹ سیکٹر میں رہ کر آیا ہوں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے یہ کہنا کہ ہم ٹیکس نیٹ میں نہیں آئیں گے، یہ بھی درست بات نہیں ہے، ہمیں دونوں چیزوں کو بیلنس کرکے چلنا پڑے گا۔ وزیر اعظم خود مانیٹر کر رہے ہیں کہ ہم آٹومیشن کی طرف کیسے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بات ہو رہی ہے کہ اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کررہے، یہ بات درست ہے۔ حکومتی اخراجات میں دو چیزیں ہیں، جس کے بارے میں ہمیں دیکھنا ہے اور اس کو آگے لے کر جانا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو سب سے آسان چیز ہے کہ جو شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، وہاں وفاقی حکومت کو وزارتیں بند کردینی چاہیں۔ ان محکموں کو ضم کردینا چاہیے تاکہ خرچہ کم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف اخراجات پر غور کر رہے ہیں بلکہ وفاقی سطح پر اس کو کم کریں گے اور بڑے مناسب اقدامات آپ کو اگلے ایک، ڈیڑھ مہینے میں پتا چلیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ ریاستی ملکیتی ادارے ہیں، اس کا خسارہ کون برداشت کررہے ہیں؟ آپ لوگ برداشت رہے ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری ملکیتی اداروں کو چلنے دیا جائے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے 622 ارب روپے کے واجبات حکومت پاکستان کو منتقل ہوئے ہیں۔ اس کا قصور وار کون ہے، لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے تنخواہ دار طبقے کو اور مینوفیکچرنگ کو ریلیف نہیں دیا، کہاں سے ریلیف دیں، اگر یہ 650 ارب روپے بچتے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی بات ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ جولائی، اگست میں ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں بھی نجی شعبے کو دے دیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر اس ملک نے آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا۔ اگر اس ملک کو ریلیف چاہیے، اور انشا اللہ ہم ریلیف دیں گے، تو حکومت کا جتنا بوجھ ہے، ہمیں اس کو کم کرنا ہوگا اور ہم اس کو کم کرنے جا رہے ہیں۔