جے پور کا ہوا محل اور مسلمانوں کا احساس فخر (7)

جےپور کی سب سے مشہور اور خوبصورت عمارت بلا شُبہ ہوامحل ہے جو بین الاقوامی سطح پہ اس شہر کی شناخت ہے، جسے دیکھنے کےلیے دنیا بھر سےسیاح ادھر کا رُخ کرتے ہیں۔

ہوا محل شہر کے عین وسط میں سٹی پیلس کا حصہ ہے لیکن اس کا نظارہ باہر کی طرف سے ایک بازار میں کھڑے ہو کر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کو دلفریب اور پر کشش بنانے والا منظر اس کا عقبی حصہ ہے جس کا رُخ باہر بازار کی جانب ہے۔ 953 جھروکوں پرمشتمل 1799 میں تعمیر کیےگئے اس ہوامحل کا مقصد شاہی خاندان کی خواتین کو ان جھروکوں سے شہر کی روزمرہ کی زندگی اور گہماگہمی کا نظارہ کرانا تھا۔ اور جب مختلف مذہبی اور ثقافتی تہوار منائے جاتے تو ان میں شاہی خاندان کی خواتین کی شرکت ان جھروکوں سے جھانکنے تک محدود تھی۔ کیونکہ اس وقت کے رواج کے مطابق شاہی خاندان کی خواتین کو بغیر پردہ کے عوام میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ محل بھگوان کرشنا کے سر کے تاج کی شکل میں راجپوتانہ اور مغل فن تعمیر کا مجموعہ ہے۔ اس کےاندر ایسے سوراخ ہیں جن سے گزرتی ہوئی ہوا ٹھنڈی ہوکر ہوا محل کے اندر درجہ حرارت کو شدید گرمی کے باوجود معتدل رکھتی ہے۔ اس محل کا اصل نظارہ بازار کی طرف سے ہی ہے جہاں سے سیاح اس یادگار عمارت کو دیکھتے اورتصاویر بناتے ہیں۔ اس طرف سیاحوں کے لیے کوئی خاص سہولت یا منظرکشی کے لیے کوئی چبوترا نہیں بنایا گیا۔ بہرحال ہوا محل انتہائی منفرد اور دنیا بھر کی پرانی یادگاروں میں ایک الگ چیز دکھائی دیتا ہے۔

جےپور کا سٹی پیلس خود بھی قابل دید یادگار ہے جو جے پور کے حکمرانوں کا ذاتی محل تھا اور جس کے ایک حصے میں آج بھی مہاراجہ کا خاندان آباد ہے۔ جےپور کے آخری مہاراجہ مان سنگھ دوئم کی پوتی مہارانی دیاکماری آج کل راجستھان کی نائب وزیراعلی ہے۔ سٹی پیلس سے متصل جے پور کا منتر جنتر پارک بھی بہت دلچسپ پارک ہے جہاں خلائی سیاروں اور ستاروں کی نقل وحرکت اور مقام کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے قدیم سائنسی آلات کے ڈھانچے تعمیر کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تعمیر کا مقصد اسلامی فلکیاتی علم کو بہتر بناتے ہوئے مذہب اور سائنس میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

جےپور کا جل محل ایک اور شاہکار عمارت ہے۔ جل محل مصنوعی طور پر بنائی گئی ساگر جھیل کے اندر 1699 میں امبر کے مہاراجہ نے تعمیر کرایا تھا جس کی اٹھارہویں صدی میں تعمیرنو کی گئی۔ اورمختلف ادوار میں اس کی تزئین و آرائش اور تعمیرکا کام جاری رہا۔ اس خوبصورت اور رات کے وقت قمقموں کی روشنی میں دلکش منظر کے حامل محل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا بیشتر حصہ زیر آب ہے اور صرف دو بالائی منازل سطح آب سے اوپر دکھائی دیتی ہیں۔ اور پانی میں منعکس ہو کر بہت دلکش لگتا ہے۔

شام کے وقت بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی تفریح کے لیے ساگر جھیل کے کنارے چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ شام کے وقت جل محل برقی روشنیوں میں جگمگاتے ہوئے زیادہ خوبصورت اور دلفریب جاذبیت کا روپ دھار لیتا ہے جس سے نگاہ ہٹانے کو جی نہیں چاہتا۔ گو کہ ساگر جھیل کا پانی آلودگی کا بھی شکار ہے۔ لیکن پانی کی کثافت اس کی سحر انگیزی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ ساگر جھیل کے کنارے جل محل کا نظارہ کرتے احساس ہوا کہ جےپور میں مسلم آبادی اچھی تعداد میں ہوگی کیونکہ یہاں پر بیشتر ریڑھی بان اور ٹھیلوں پہ اشیا فروخت کرنے والے مغرب کی اذان کے بلند ہوتے ہی کاروبار روک کر وہیں اپنے اپنے جائےنماز نکال کر نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئے۔

ان سے گفتگو کرتےمعلوم ہوا کہ جےپور میں مسلم آبادی تقریبا اٹھارہ فی صد ہے جو روایتی معاشی مشکلات کا شکوہ رکھنے کے باوجود اپنی بھارتی شناخت کو باعث افتخاراور دنیا میں بھارت کےبڑھتے ہوئے مقام پہ بھارتی شہری ہونا فخر مانتے ہیں۔ وہ پچھلے چند سالوں سے بڑھتی ہوئی ہندو شدت پسندی کا نشانہ بننے کا شکوہ رکھتے ہوئے اپنے بہتر مستقبل کے لیے بلکل نا اُمید نہیں۔ وہ بھارت کو فخریہ اپنے آباؤاجداد کی سرزمین اور اپنا وطن کہتے ہیں۔ وہ قومی وقار اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے اور ملک کی خاطر ہر قربانی دینا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ بھارتی مسلمان آئین کو اپنا محافظ اور حقوق کا ضامن مانتے ہیں۔ (جاری ہے)