آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی

  • جمعرات 20 / جون / 2024

سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں، آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس نعیم اختر نے درخواست پر سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر اور پی ٹی آئی وکیل سلمان اکرم راجا عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے نے بتایا کہ کیس میں آئین کے آرٹیکل 219(سی) کی تشریح کا معاملہ ہے۔ 14 فروری کو الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کے لیے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے۔ ٹربیونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، تمام ہائی کورٹس سے خطوط کے ذریعے ججز کے ناموں کی فہرستیں مانگی گئیں۔ خطوط میں ججز کے ناموں کے پینلز مانگے گئے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججز کے نام دیے گئے، دونوں ججز کو الیکشن ٹربیونلز کے لیے نوٹیفائی کردیا گیا۔

26 اپریل کو مزید دو ججز کو بطور الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے گئے۔ 4 ٹربیونلز کی تشکیل تک کوئی تنازع نہیں ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے دریافت کیا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرسکتے؟ کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازعہ بنانا لازمی ہے؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازع تھا، رجسڑار ہائی کورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں؟ چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر بیٹھ جاتے تو تنازع کا کوئی حل نکل آتا۔ بیٹھ کر بات کرتے تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتے، کیا چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کا ملنا منع ہے؟

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائی کورٹس کو خطوط لکھے، تنازع نہیں ہوا، لاہور ہائی کورٹ کے علاوہ کہیں تنازع نہیں ہوا، بلوچستان ہائی کورٹ میں تو ٹربیونلز کی کارروائی مکمل ہونے کو ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ کوئی انا کا مسئلہ ہے؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آرڈیننس سے کام چلانا ہے تو پارلیمان کو بند کر دیں۔ آرڈیننس لانا پارلیمان کی توہین ہے۔ آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے۔ آرٹیکل 219 سیکشن سی نے بالکل واضح کر دیا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ٹربیونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر ریمارکس دیے کہ ریٹائرڈ ججزکا قانون کب بنایا گیا؟ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جاسکتا ہے؟ آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی ؟ کیا ایمرجنسی تھی ؟ الیکشن ایکٹ توپارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی؟

وکیل نے بتایا کہ آرڈیننس کابینہ اور وزیر اعظم کی خواہش تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے یا کابینہ کی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارلیمان کی وقعت زیادہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائی کورٹ کے فیصلے کی نفی کی گئی ہے۔ پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کدھر سے آگیا؟ کوئی ایمر جنسی ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے، یہ بھی تو الیکشن میں مداخلت ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ معطل کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ 3 رکنی کمیٹی کو بھجوا دیا۔

بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا۔ حکم نامے کے مطابق الیکشن کمیشن نے 29 مئی کی لاہور ہائی کورٹ کی ججمنٹ پر اپیل دائر کی، الیکشن کمیشن نے استدعا کہ الیکشن ٹربیونل کی تعیناتی کا کیا ہائیکورٹ اختیار رکھتا یا نہیں؟ الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ الجہاد کیس، ریاض الحق کیس کی روشنی میں دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی تشریح قانون کے مطابق نہیں۔

حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق رٹ پٹیشن نہیں بنتی کیونکہ کنسلٹیشن جاری تھی۔ سلمان اکرم راجا آئندہ سماعت پر خود دلائل دیں گے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ الیکشن کمیشن جوڈیشل باڈی نہیں جو ججز، ٹریبونل لگائے۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق الیکشن کمیشن کو انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنی چاہیے تھی نہ کہ براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرتے۔

حکم نامے کے مطابق سلمان اکرم راجا نے استدعا کی کہ 5 رکنی لارجر بینچ پریکٹس اینڈ پروسیجر 2023 کے ذریعے قانون کی تشریح کرے۔ سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ لیگل تشریح کاہے، فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اپیلیں پریکٹس آینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی کو بھجوائی جاتی ہیں۔ تین رکنی کمیٹی جلد از جلد لارجر بینچ تشکیل دے۔ الیکشن کمیشن تمام ہائیکورٹس کا ٹربیونل سے متعلق نوٹیفکیشنز عدالت میں جمع کروائے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔