پروین شاکر علامتیت کے تناظر میں
- تحریر محمد ذیشان اختر
- جمعرات 20 / جون / 2024
پروین شاکر کے کلام کو علامتیت کے تناظر میں مطالعہ کرنے کی یہ اولین کاوش ہے جو ڈاکٹر زینت صاحبہ کے قلم سے ۲۰۲۱ میں سامنے آئی ہے۔ علامتی عناصر کی یہ تلاش پہلی نظر میں ایک محنت طلب اور باریک بین مطالعے کا ثمر دکھائی دیتا ہے جسے سماجی، مذہبی اور معاشرتی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔
قدیم شعرا کے کلام میں علامتوں کی بازیافت تاریخ کے مطالعے پر بنیاد ہوتی ہے جب کہ جدید شعرا کے کلام میں قدیم و جدید دونوں قسم کی علامات پائی جاتی ہیں۔ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا کے بے محابا و غیر مستند ذرائع کے عادی، ایک عام قاری کے فہم میںپروین شاکر کے کلام میں چڑیا، سورج، بارش، دھنک،رات کا کھانا (ڈنر)، اور اس جیسی کئی اصطلاحات محض لفظی معنیت یا صحافتی معانی لیے ہوتا ہے۔ تاہم جامعاتی سطح پر کیےجانے والے تحقیقی کام، اور وہ بھی اس موقع پر کہ جب پروین شاکر کا کلام بین الاقوامی توجہ حاصل کرچکا ہے، محققین کے لیے ڈاکٹر زینت کی یہ کتاب یقیناً مفید ثابت ہوگی۔
پروین شاکر کی شاعری میں سوچ اور تخلیق کے مابین ایسی مطابقت نظر آتی ہے جو انسانی ذہن کو ایک علامتی رابطےسے وابستہ کرتی چلی جاتی ہے۔ جو شاعر کی شخصیت اور اس کے اکتسابات کی آمیزش اور آویزش کو رشتۂ زماں سے جوڑ دیتا ہے ۔ فکر کی ہر سطح پر ذہنی مشق ایک علامتی عمل ہے جو علامات کے ان تصورات کو نشان کی معنویت عطا کرتی ہے۔ آپ کی شاعری میں نشانات کا استعمال اُن تجربات اور تلازمات کے باعث ہے جسے علامتی نظام میں "لغزش یا پسندیدہ صورت حال" کے میسر نہ آنے کا شاخسانہ بھی قرار دیا جاتاہے جو آپ کےکلام میں گویائی کی ایسی قوت بن کر سامنے آتی ہے جس نے شعر گوئی کو علامتی ہیئت جب کہ شاعر کو تصور و اظہار کی وسیع تر دنیا عطا کی۔ یہی سبب ہے کہ پروین شاکر کے کلام میں موجود سماجی، سیاسی اور مذہبی علامتوں کے علیحدہ و مفصل مطالعے کے متقاضی ہیں ۔
ڈاکٹرزینت نے بھی کتاب کی ابتدا میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ پروین شاکر نے اردو ادب کے ذخیرہ الفاظ اور معنویت کو نئے آہنگ سے روشناس کرایا۔ وہ نیا آہنگ کیا ہے؟ محض ایک انسان کا اپنے جذبات ، مشاہدات اور تجربے کو الفاظ کے ذریعے لفظوں کی پوشاک عطا کرنا، کیا محض اس سے نیا آہنگ پیدا ہوسکتا ہے جو معاشرے کے ایک بڑے گروہ کے نادیدہ خصائص سامنے لائے؟ اس نکتے کی وضاحت کے لیے ڈاکٹر زینت نے باب دوم میں ایک طویل تمہید پیش کی ہے جسے پڑھے بغیرقاری کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ اس کے بعد پروین شاکر کی غزلیات میں علامتی عناصر کی جاب توجہ دلائی گئی ہے اور غزلیات کے بعد پروین شاکر کی شعوری سطح کا مطالعہ ان کی نظموں کی بنیاد پرپیش کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے غزلیات اور نظموں کی علامات کو ایک منفرد و جداگانہ مطالعاتی تعبیر عطا کی ہے۔
پروین شاکر کی علامتوں کو مطالعہ کرنےسے قبل مصنفہ نے بیدل ؔ اور دیگر دکنی شعرا کی علامتوں کی طرف توجہ دلائی ہے جس کا پیشگی مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ خود بیدل ؔ کا یہ کہنا تھا کہ "معنی بغیر لفظ تصور نمی شود"۔ اقبالؔ نے روایتی علامات کو کس طرح زندہ کیا اور انہیں فکری تصور عطا کیا، اس بات کو سمجھانے کے لیے مصنفہ نے پروانہ اور اس پروانے کے خودی سے فنا تک کے سفر کی مختصر لیکن نہایت معنی خیز و تکثیری مثال پیش کی ہے۔ اس سے قبل پروانہ و شمع فکری تصورات کی حامل علامتیں نہیں تھیں اور اولاً اقبال نے انھیں فکری پیکرعطا کیا۔ اسی مقام پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ کوئی شاعر کسی علامت کو کون سا فکری پیکر عطا کرتا ہے اور یہی مصنفہ کے مطالعےکی مضبوط بنیا دبھی نظر آتی ہے۔ اسلوب انصاری صاحب نے ڈاکٹر سلطانہ بخش کی تصنیف "پذیرائی" میں پروین شاکر کے فن کے سلسلے میں تحقیق کی جو دعوت دی تھی، وہ ڈاکٹر زینت نے ڈاکٹر کیتھرائن پیٹرس (ڈربی یونی ورسٹی، برطانیہ) کے بعد پیش کرکے اس سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔
اس کتاب میں علامتوں کے غزل اور نظموں میں استعمال کو درجہ بہ درجہ سمجھایا گیا ہے کہ شعرا کس طرح معاشرے کے ہیجان زدہ اور پیچیدہ مسائل کو علامتوں کے ذریعےبیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ ولیم یارک ٹنڈال نے کہا ہے کہ "قاری کو علامت سے کیا حاصل ہوتا ہے، اس کا انحصار صرف اس پر نہیں ہے کہ مصنف نے علامت میں کیا مفہوم رکھا ہے ، بل کہ قاری کی حسیات اوراس کی خوبی ِ فہم و ادراک سے بھی مشروط ہے۔" یہ کتاب پاکستانی معاشرے، پاکستانی شعراکی علامتی شاعری اور پاکستانی خواتین پر مذہب ، سیاست اور سماج کے اثرات کا مطالعہ کرنے والے طلبہ و محققین کے لیے ناگزیرہے۔ اردو کےجو طلبہ و محققین فرانسیسی و دیگر یورپی شعرا کے کلام، ان کی معاشرت ، مذاہب اور سیاست کا مطالعہ کرتے ہوں، ا ن کے لیے بھی ابتدائی طور پر اس کتاب کو پڑھنا نہایت مفید رہے گا۔