سوات میں توہین قرآن کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں شہری قتل

  • جمعہ 21 / جون / 2024

سوات کے قصبے مدین میں گزشتہ روز توہینِ مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعے کا اب تک مقدمہ درج نہیں ہو سکا۔ تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جمعرات کی شب مشتعل ہجوم نے مدین تھانے پر حملہ کر کے پولیس کی تحویل میں موجود ایک شخص کو گولیاں مار کر لاش کو آگ لگا دی تھی۔ ہجوم نے تھانے میں توڑ پھوڑ کے بعد املاک کو بھی جلا دیا تھا۔

ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے شخص کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ مقتول پر قرآن کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مدین کے سینئر پولیس عہدیدار عطاء اللہ شمس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا ہے جب کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات ڈاکٹر زاہد اللہ نے جمعے کو میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی سرکاری طور پر جاری کردہ بیان میں واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ڈی پی او کے مطابق مدین میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جس پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات ہے۔

مقتول پر توہینِ قرآن کا الزام لگنے کے بعد جمعرات کو پولیس نے اسے حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا تھا۔ لیکن اس دوران درجنوں افراد نے اس کا تعاقب کر کے پولیس تھانے پر حملہ کر دیا۔ ڈی پی او سوات ڈاکٹر زاہد اللہ نے بتایا کہ مقامی پولیس اہلکاروں نے اطلاع ملنے پر مبینہ ملزم کو تھانے منتقل کر دیا تھا مگر مشتعل افراد پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول کر ملزم کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

مشتعل ہجوم میں شامل بعض افراد مسلح تھے اور انہوں نے ملزم کو پہلے فائرنگ کر کے ہلاک کیا جس کے بعد لاش کو آگ لگا دی۔ ہجوم نے پولیس تھانے میں توڑ پھوڑ کی اور مختلف حصوں کو بھی آگ لگائی۔ ڈی پی او کے مطابق مشتعل افراد نے پولیس وین کو بھی آگ لگائی جب کہ واقعے میں مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے سوات واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان گنڈاپور کو فوری طور پر تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔