مودی سرکار تیسری بار
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 21 / جون / 2024
انڈین انتخابات: مودی سرکار تیسری بار“ کے عنوان سے قسط وار ایک سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ درویش کو چناؤ سے پہلے بھی اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا کہ مودی پنڈت نہرو کا ریکارڈ برابر کرتے ہوئے تیسری بار بھارت کے پردھان منتری منتخب ہوجائیں گے الجھاؤ صرف اس ایشو پر تھا کہ بی جے پی یا ان کا الائنس این ڈی اے کتنی سیٹیں حاصل کرپائیں گے۔
چناؤ سے پہلے فضا بہرحال اس نوعیت کی بنی ہوئی تھی کہ حکمران پارٹی یا الائنس دو تہائی اکثریت حاصل کرجائیں گے اس حوالے سے جو سروے سامنے آرہے تھے وہ لایعنی نہ تھے لیکن اپوزیشن کی یہ تشویش کہ ایسی بڑی کامیابی کی صورت میں بی جے پی آئین کو بدل ڈالے گی، گراس روٹ لیول تک اثرانداز ہوگئی۔ اس طرح چار جون کو جو انتخابی نتائج آئے وہ بشمول این ڈی اے سب کیلیے حیرت انگیز ضرور تھے تشویش ناک نہ تھے۔ بھارتی جنتا نے حکمران اتحاد کو جتوا کر مودی کی وزارتِ عظمیٰ تو پکی کردی مگر سبھیدان بدلنے کی شکتی ان سے لے لی۔
اسے انڈین ڈیموکریسی کی خوبصورتی قرار دیتے ہوئے خوش آئند کہاجانا چاہیے تھا مگر انڈیا سے بڑھ کر یہاں پاکستان میں ہمارے لوگوں نے پروپیگنڈہ کا طوفان کھڑے کردیا کہ مودی ہار گیا اور یہ بھی کہ اب اگر اس کی حکومت بن بھی گئی تو وہ مہمان اداکار جیسی ہوگی۔ اس نوع کی جلی کٹی سنانے والے وہ لوگ تھے جو انڈین پالیٹکس کی اندرونی صورتحال سے آگہی نہیں رکھتے۔ ہمارے لوگ اسے اپنے چھانگا مانگا یا جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی والی ہارس ٹریڈنگ جیسا سمجھتے اور بیان کرتے رہے بلاشبہ سیاست میں پکے دوست ہوتے ہیں نہ دشمن اور دنیا بھر کی جمہوریتوں میں سیاسی جوڑ توڑ ایک فطری عمل ہے لیکن ہماری عسکری آمریت کی ماری پاکستانی سیاست اور انڈیا کی سیاست میں کچھ فرق تو بہرحال ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔
درویش نے اس پر تجزیہ تحریر کرتے ہوئے اپنے اخبار جنگ کو ارسال کیا لیکن بیچ میں کچھ دوسرے ایشوز آگئے اس لیے وہ ہنوز شامل اشاعت نہیں ہوسکا بہرحال اب یہ ملاحظہ ہو۔ ’اس کے بعد جائزہ لیتے ہیں کہ حکومتی اتھارٹی کس طرح بدستور پرائم منسٹر مودی کے ہاتھوں میں ہی رہے گی اور وہ آگے چل کر کیا کرنے جارہے ہیں بالخصوص اتنک واد کے خلاف، ہمارے لوگوں کیلیے یہ زیادہ اہم ہو گا۔ ہمارے لوگوں کو بھارت سے جو بھی معاملات کرنے ہیں وہ کسی اور کے ساتھ نہیں مودی اور صرف مودی کے ساتھ ہی کرنا ہوں گے۔ ان کے آرمی چیف کا تو ہمارے عام آدمی کو نام بھی نہیں معلوم، اوتھ سرمنی میں وہ پانچویں لائن میں بیٹھے ہوۓ تھے شاہ رخ خان سے بھی پیچھے، کیا پاکستان میں یہ ممکن ہے؟ یہاں تو خود پرائم منسٹر کی کوئی حیثیت نہیں ہے طاقتور کے سامنے۔
شیو سینا کی 9 سیٹیں بی جے پی حکومت کے لیے ایک طرح سے ہم خیال اتحادیوں جیسی ہوں گی۔ بہار میں نتیش کمار کی جنتا دل کے پاس 12 سیٹیں ہیں جبکہ آندھیراپردیش میں چندربابو نائیڈو کے تلگو دیشم کی 16نشستیں مودی سرکار کے لیے معاون ہوں گی ۔گو ان کے تقاضوں کا لحاظ مودی سرکار کو رکھنا ہوگا اس طرح کچھ آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے لوک سبھا نمائندے بھی اپوزیشن کی بجائے حکمران اتحاد کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ دوسری طرح انڈی الائنس کا یہ حال ہے کہ ممتا بنیرجی کی ترنمول کانگریس اپنی جیتی ہوئی 29سیٹوں کے ساتھ اپنی الگ حیثیت کی حامل ہے جو خود کو راھول گاندھی کے زیر اثر نہیں دیکھتی ہیں الیکشن رزلٹ کے فوری بعد ہونے والے ”انڈیا“ اجلاس میں وہ خود شریک نہیں ہوئیں جس کے کارن راہول کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہم سکتہ یا حکومت میں نہیں جارہے اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ ان حوالوں سے جو لوگ ابہام پیدا کررہے تھے ،وہ سب کلیئر ہوچکا ہے نریندرامودی پنڈت جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ برابر کرتے ہوئے 9 جون کو اپنی ہیٹرک کے ساتھ تیسری مرتبہ پرائم منسٹر انڈیا کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ انہوں نے اپنا سابقہ دس سالہ ترقیاتی ایجنڈا آئندہ بھی جاری و ساری رکھنا ہے اور اپنی سابقہ کوتاہیوں سے سیکھتے ہوئے بی جے پی کی پہلی پاپولیریٹی کو کس طرح بحال کرنا ہے۔ اپنے سے دور جانے والوں کو کیسے قریب لانا ہے۔
ایک منجھے ہوئے گراس روٹ لیول سے اٹھ کر آنے والے جہاندیدہ سیاست دان نریندرامودی، اٹل بہاری واجپائی کی طرح کولیشن کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کے متعلق جو شدید پروپیگنڈہ کیاگیا ہے کہ جیسے وہ بے بس و مجبور ہوکر لولی لنگڑی حکومت بنانے جارہے ہوں۔ جن لوگوں نے چناؤ کے فوری بعد این ڈی اے کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کو ملاحظہ کیا ہے ،وہ بہار کے رہنما نتیش کمار اور آندھراپردیش کے پاپولر لیڈر چندرابابو نائیڈو کے اظہارِ خیال اور باڈی لینگویج سے بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔ اور نریندرامودی کا حکومت سازی میں اعتماد بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے بڑھیا ثبوت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سابقہ ادوار کی پالیسیوں کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے تمام اہم یا کلیدی وزارتوں پر اپنے قابلِ اعتماد انہی ساتھیوں کو بٹھایا ہے جو پہلے سے چلے آرہے تھے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ وزیر خارجہ جے شنکر اسی طرح فنانس منسٹر اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرسمیت تمام بڑی وزارتیں جوں کی توں رکھی ہیں۔ 72بہتر رکنی کونسل آف منسٹرز میں61 اکسٹھ وزارتیں بی جے پی کو سونپی گئی ہیں دیگر گیارہ این ڈے اے کے اتحادی ساتھیوں کو، تمام اتحادی مودی کے واری صدقے جارہے ہیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش اگر آج ہمارے مقابلے میں کہیں بہتر ترقی کررہے ہیں یا اپنے عوام کے مسائل اور دکھوں کو دور کرنے کے لیے ان کی حکومتیں بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹھوس آوٹ پٹ دے رہی ہیں تو دیگر وجوہ کے ساتھ اس کی ایک اہم وجہ ہر دو ممالک کی حکومتوں کا تسلسل و استحکام ہے۔ جن ملکوں میں حکومتوں کو اپنے بچاؤ کے لالے پڑے ہوں اور یہ تک معلوم نہیں ہو کہ ماورائی طاقتیں نہ جانے کب کیا کردیں یا خلائی مخلوق کے تیور کب بدل جائیں وہاں بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ایسے ہی ڈیرے ڈال لیتے ہیں جیسے ہمارےاس تضادستان میں۔(جاری)