ان سنگھ کا قلعہ اور بھارتی شہریوں کا فخر (8)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 21 / جون / 2024
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں ہندو انتہاپسندوں کے علاوہ عام شہریوں کا رویہ متعصبانہ نہیں اور اکثریت مسلمانوں سے منفی امتیاز اور آئے دن مسلم لنچنگ اور فرقہ وارانہ فسادات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کی حب الوطنی کی معترف ہے۔لیکن بھارت میں سوائے ایک مخصوص دانشور طبقہ کے اقلیتوں کے حق میں کوئی موثر آواز نہیں اُٹھ پا رہی۔
ایودھیا واقعہ رونما ہونے کے باوجود مسلمان نے اپنی بھارتی شناخت پہ فخر نہیں چھوڑا،لیکن مسلمان سماجی سیاسی اور تعلیمی میدان میں انحطاط کا شکار ہیں اور اپنے جائز مقام کے لیے کٹھن جدوجہد کر رہے ہیں۔ایک بات جس پہ ہر بھارتی مسلمان معترض ہے،وہ مسلم کمیونٹی میں اتفاق و اتحاد کا فقدان اور سیاسی انتشار ہے۔اس وقت بھارتی مسلمان کسی ملک گیر مسلم قیادت کی عدم موجودگی پہ مایوس ہیں۔ بہرحال ہندوستان میں کوئی ایک بھی مسلمان ایسا نہیں ملا جو اپنے ملک سے متعلق کوئی بدگمانی رکھتا ہو۔میرے نزدیک یہ بہت مثبت بات ہے۔راہ چلتے صرف آنکھیں ہی نہیں کان بھی کُھلے رکھنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
جے پور سے تھوڑے فاصلے پر مشہور امبر قلعہ ہے جو جےپور کے راجاؤں کا پایہ تخت تھا۔یہ قلعہ چیل کا ٹیلہ نامی پہاڑی کی چوٹی پر ہے۔ اس کے فن تعمیر سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ کئی مراحل میں تعمیر ہوا ہوگا کیونکہ مختلف عمارات کثیر عصری فن تعمیر کی عکاس ہیں۔ امبر کے محل میں مغل فن تعمیر کی واضع جھلک ملتی ہے۔ اس میں گھومتے شاہی قلعہ لاہور کا احساس اُبھرتا ہے۔ اس کا شیش محل تو ہر جُز کے اعتبار سے لاہور کا شیش محل ہی لگتا ہے۔ لیکن اس کو ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ پایا۔اور اسی بدولت لاہور کے شیش محل سے زیادہ پُر کشش دکھائی دیا۔یہ قلعہ اکبر کے معروف اور قابل اعتماد جرنیل مان سنگھ نے 1592 میں تعمیر کروایا تھا اور مشہور ہے کہ یہاں پر اپنی بارہ بیویوں کے ساتھ رہتا تھا۔ م
ان سنگھ اکبر کے نورتنوں میں سے تھا اور سب سے قابل اعتماد سپہ سالار تھا۔ وہ بنگال، بہار،اُڑیسہ اور کابل کا صوبیداربھی رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ کابل سے والپسی پر اُس نے بڑی تعداد میں وہاں سے لائق اور قابل افراد کو ساتھ لا کر جےپور میں آباد کیا اور آج کے جےپور کی مسلم آبادی کا بڑا حصہ اُنہیں کی نسل سے ہے۔قلعہ کے تین اطراف ایک طویل دفاعی فصیل ہے جو دیوار چین کے بعد ایشیا کی دوسری بڑی اور طویل حفاظتی دیوار تصور کی جاتی ہے جو امبر محل کو جےگڑھ قلعہ سے ملاتی ہے۔
امبر محل کے شمال میں گہری وادی میں امبر شہر آباد ہے جس میں موجود گھروں میں جودھ بائی کا آبائی گھر بھی ہے جواکبربادشاہ کی بیوی، شہنشاہ جہانگیر کی ماں اور مان سنگھ کی پھوپھی تھی۔ شاید قابلیت کے ساتھ اس رشتہ داری کی ہی وجہ سے اکبر نے جہانگیر کو تربیت کے لیے مان سنگھ کی سرپرستی میں دیا تھا۔ قلعہ سے واپسی پر لے جانے والی گاڑیاں واپس داخلی دروازے کے باہر پہنچانے کی بجائے ایک تجارتی مارکیٹ میں لے گئیں جہاں پر پہلے سے منتظرافراد خوش آمدید کہہ کر اندر لے گئےجہاں پرنجومی براجمان تھے، جنہوں نے سب سے پہلے یہ تسلی دی کہ وہ قسمت کا حال بغیر کسی معاوضہ کے بتاتے ہیں۔ اور جےپور آنے والے سیاحوں کے لیے مہارانی کی مہمان نوازی کا حصہ ہے۔
اپنا ہاتھ دکھا کر اپنے اندر ان گنت اور بے پناہ خوبیوں سے آگاہی ہوئی جن سے خود ناواقف ہوں۔خوبیاں بتانے کے بعد مارکیٹ سے خاص خریداری تجویز ہوئی۔جس سے بھاگ جاگیں گے نجومیوں کی پیشگوئیوں پہ اپنے محدود علم نجوم کی شیخی کرنے پہ بے تکلفی کا ماحول بن گیا اور چائے آتے ہی کچھ دکاندار بھی شامل محفل ہوگئے۔اور بھارت کی معروضی سیاست اور معاشرتی حالات پر گفتگو سے کافی کچھ سمجھنے کو ملا۔ تقریبا ًتمام شرکا بی جے پی کے حامی تھے۔ دوران گفتگو پہلی بارمحسوس ہوا کہ شایدبی جے پی اپنے عروج کو دیکھ چکی ہے کیونکہ جب آپ کے حمایتیوں میں گرمجوشی کا فقدان نظر آئے تو پھر عوام میں مقبولیت کم ہوناکوئی عجب نہیں رہتا۔
جس کا ثبوت الیکشن کے نتائج میں سامنے آیا۔ اسی محفل میں محسوس ہوا کہ بی جے پی کی حمایت صرف ہندو شدت پسندی پر ہی مبنی نہیں بلکہ اس میں معاشی اور صنعتی ترقی کا بھی دخل ہے۔ ایک بات پہ بھارتی قابل داد ہیں کہ وہ اپنے ملک کی ہمیشہ مثبت تصویر پیش کرتے ہیں اور تعریف کرتے زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں:
بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
(جاری ہے)