حکومت کچھ اپنے سائز پر بھی غور کرے!

بجٹ پیش کرنے کے بعد حکومت پر  سب سے بڑی تنقید یہ ہوئی کہ اس نے تنخواہ دار طبقے اور عوام سے  اضافی وسائل کے لیے ٹیکسز  اور ان کی شرح میں اضافہ کیا لیکن ان سیکٹرز کو ہاتھ نہیں لگایا جن کا تعلق ان بالائی طبقات اور بااثر حلقوں سے تھا۔

جو ہمیشہ ہر حال میں پھلے پھولے، ملک کنگال ہوتا رہا لیکن یہ مالدار اور خوشحال تر ہوتے گئے۔ پانامہ پیپیرز کی گواہیاں ان کا کچھ بگاڑ سکیں نہ دوبئی لیکس سے کچھ فرق پڑا۔ دوسری بڑی تنقید یہ ہوئی کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کرنا گوارا نہ کی۔ وزیراعظم ہاؤس کے لیے بجٹ میں اضافے سے لے کر تمام  حکومتی اخراجات میں کسی قسم کی کوئی کٹوتی، سادگی یا خزانہ خالی ہونے کی مجبوری کا شائبہ تک نہ ملا۔ جواب آں  غزل کے طور پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ اب ان کی نظر ایسی وزارتوں پر پڑنی شروع ہو گئی ہے جہاں 50 فیصد تک کرپشن بھی ہوتی ہے۔ پی ڈبلیو ڈی کا نام انہوں نے واشگاف انداز میں لیا ۔ مزید یقین دہانی بھی کرائی کہ اگلے چند ہفتوں میں کئی اور ایسی وزارتیں یا ڈویژن ڈھونڈ نکالیں گے جو قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ 

 اس سے قبل مارچ میں حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو جائزہ لے رہی ہے کہ حکومتی اخراجات میں کہاں کہاں اور کس انداز میں کمی کی جا سکتی ہے۔  اس کمیٹی میں شامل وفاقی سیکرٹریز سے کسی کو کیا امید ہو سکتی ہے۔ تاہم ڈاکٹر قیصر بنگالی سمیت نجی شعبے کے شامل ماہرین سے یہ توقع ضرور ہے کہ وہ چند ٹھوس اقدامات کی نشاندہی کر سکیں جن سے حکومت کا بے ہنگم پھیلا ہوا حجم کم کرنے اور وسائل کو نانا جی کی فاتحہ کا سامان غنیمت سمجھ کر ہاتھ صاف کرنے سے روکنے کی کوئی ترکیب ہوسکے ۔ پنجاب حکومت نے بھی وفاقی حکومت کی تائید میں ایسی ہی ایک کمیٹی بنا ڈالی ہے جو 60 دنوں میں کھوج لگائے گی کہ کون کون سے وزارتیں ضم ہوسکتی ہیں اور کون کون سے ڈیپارٹمنٹ آلتو فالتو ہیں۔ 

ہمیں وفاقی اور پنجاب حکومت کی نیک نیتی پر شک نہیں تاہم حافظہ یہ چغلی کھانے سے باز نہیں آ رہا کہ ایسے اعلانات ماضی میں بھی اسی تواتر اور خوش گمانی کے ساتھ کئے جاتے رہے۔ لیکن بعد میں رات گئی بات گئی والی بات ہوئی۔ دائروں کا سفر کبھی نہیں رکا ۔ اس عید پر اپنے ابائی شہر کمالیہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب نے ایسے ہی ایک "دائرے" کا ذکر کیا۔ 2019 کی ایک رپورٹ جو گزشتہ حکومت کے دور میں ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ترتیب پائی کہ کس طرح حکومتی سائز اور اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ بقول ان کے یہ ایک عمدہ رپورٹ ہے لیکن 2019 کے بعد سے رپورٹ پڑی کی پڑی رہ گئی۔

وزیر خزانہ  کا ارادہ ہے کہ اس رپورٹ سے مستفید ہوں۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی کئی سال وزارتی سٹیٹس کے ساتھ اس سے ملتے جلتے کام پر مامور رہے کہ  بیوروکریسی میں کیا اصلاحات لائی جا سکتی ہیں اور کیسے حکومتی  حجم  کنٹرول کیا جائے ۔ ایک رپورٹ بھی بنی لیکن وہ رپورٹ بھی سرد خانے میں چلی گئی۔ دو تین سال کی آنیاں جانیاں، اجلاسوں ،ملاقاتوں اور سیمینارز کے طویل سلسلے کا حاصل  یہ رپورٹ مگر کسی کام نہ آئی۔  ہمیں یاد ہے کہ جب بھی آئی ایم ایف کے کسی نئے پیکج کا ذکر ہوتا ہے تو اصلاحات کا منترا شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے ہماری بدگمانی میں کہیں سے کچھ خوش گمانی در آئے کہ اس بار معاملہ جوں کا توں نہ رہے۔

سیاسی حکومتوں کے بہت سے فیصلے اور عملی اقدامات وقتی سیاست اور ضرورت کے تابع ہوتے ہیں۔ سیاست کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ حافظہ اور زبان بھی حسب ضرورت یادداشت اور بیان کے جوہر دکھانے پر قادر ہوتی ہے۔ کابینہ مختصر رکھنے کے الیکشنی دعوے اقتدار سنبھالنے کے بعد غائب غلہ ہو جاتے ہیں۔ وزیروں کی فوج ظفر موج کو وزارتیں بانٹنے کے عمل میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی اور اہم و غیر اہم وزارتوں میں سے کئی بچہ وزارتیں اور ڈویژن برآمد کئے گئے۔ ظاہر ہے ان وزارتوں اور ڈویژن کے لئیے سیکریٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز سے سیکشن آفیسر اور چپراسیوں اور چوکیداروں کی ایک فوج ظفر موج درکار ہو جاتی یے۔ انہیں کار سرکار چلانے کے لئے عملے کے ساتھ ساتھ بلڈنگز، گاڑیاں اور دیگر ضروری معاملات کے لیے فنڈز بھی درکار ہوتے ہیں۔ یہ روش بالاتزام تمام سیاسی  حکومتوں کے دور میں جاری و ساری رہی۔  اس روش سے ہٹنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ مضبوط دل ، ارادہ اور ہمت چاہیے۔ دیکھتے ہیں بیان کی حد تک ہمت ہے یا عمل درامد کے لیے بھی یہ ہمت سلامت رہتی ہے!

تازہ ترین منظر ہے:  بجٹ پیش ہونے سے عین دو گھنٹے قبل  ہی پی  نے بجٹ سیشن میں شامل ہونے سے انکار  کر دیا۔  اسحاق ڈار انہیں بمشکل علامتی شرکت پر آمادہ کر سکے۔ جمعرات کو پیپلز پارٹی کے وفد کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات تھی۔ مطالبات کی فہرست کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم بھی دہرایا گیا۔ یہ دو واقعات  ایک طرح کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح ماضی میں سیاسی مصلحتیں اور مجبوریاں بہت سے ایسے فیصلے کرواتی رہی ہیں جن کی مالی قیمت،  بجٹ خسارے ،مایوس کن گورننس اور کھلم کھلا کرپشن کی صورت میں ملک کے حصے آتے رہے۔

نون لیگ کے پچھلے دونوں ادوار میں پنجاب کے وزیراعلی ہوتے ہوئے شہباز شریف نے درجنوں خودمختار کمپنیز کی بنیادیں رکھیں ۔ وہی کام جو حکومتی ادارے کر رہے تھے، چن چن کر ان اداروں کے حوالے کر دیے گئے ۔ حکومت ختم ہوئی تو ان اداروں میں کرپشن اور وسائل کے غلط استعمال کی کہانیاں مقدمات تک پہنچیں۔ 

 مقامی حکومتیں دنیا بھر میں مقامی معاملات کے لیے پہلی ترجیح ہیں۔ ہماری تمام سیاسی جماعتیں منشور کی حد تک مقامی حکومتوں کی حامی ہیں لیکن حکومت میں آتے ہی وہ مقامی حکومتوں کے تمام اختیارات اور وسائل خود استعمال کرنے پر بضد ہو جاتی ہیں۔ صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی جیسی بنیادی سہولیات کی ذمہ داری  مقامی حکومتوں کے تحت قائم کارپوریشن جیسے اداروں کی ہیں جو یہ کام گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی سے کرتے ائے ہیں۔ سیاسی حکومتوں کو مگر اپنے سیاسی مفادات اس قدر عزیز ہوتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کے ادارے عضو معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔  اس کے باوجود ان کی بلڈنگز ، سٹاف، تنخواہیں اور جاری اخراجات ادا بھی ہو رہے ہیں۔

عوام کی سوجھ بوجھ اب سرکاری میڈیا پر نشر بیان یا تقریر من و عن تسلیم کرنے میں متامل ہے۔ اپنی جیب پر بجلی، گیس، تیل سمیت ہر شئے پر سیلز ٹیکس ادا کرنے کے بعد خاندان کی نان نفقے, کھانے پینے ، تعلیم اور صحت کے لیے ہلکان ہونا پڑتا ہے۔ عوام کو تب ہی یقین ہوگا اگر سینکڑوں ارب کی سبسیڈیڑ، استثناء اور حکومتی ٹھاٹھ باٹھ میں واقعتاً کمی ہو تاکہ ان پر ڈالا گیا بوجھ حقیقی معنوں میں کم ہو۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، وقت فیصلہ کر دے گا۔