’آپریشن عزم استحکام‘ شروع کرنے کا فیصلہ

  • اتوار 23 / جون / 2024

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں دہشتگردی کے خلاف ’آپریشن عزم استحکام‘ کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر صوبائی حکومتیں بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔

ہفتہ کو وزیراعظم کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کی بقا کے لیے شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ناگزیر ہے۔ کسی کو بھی ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل جمعے کو دارالحکومت اسلام آباد میں ’پاک چین مشاورتی میکانزم‘ نامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہمسایہ ملک چین کے وزیر لیو جیان چاؤ نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو اندرونی استحکام اور بہتر سکیورٹی سے مشروط قرار دیا تھا۔ اس مطالبے کے فوراً بعد پاکستان میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی۔ پھر سنیچر کو نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف فوج پر ڈالنے کی بجائے صوبوں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی بات کی۔

اجلاس کے اعلامیے میں نہ صرف ملک میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ایس او پیز وضع کرنے کی بات کی گئی ہے بلکہ دہشتگردی کے خاتمے لیے ایک نئے فوجی آپریشن ’عزمِ استحکام‘  کا بھی اعلان کیا گیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’ہمالیہ سے اونچی‘ دوستی کے باوجود چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے یہاں اندرونی استحکام کا مطالبہ کیوں کیا اور کیا یہ اب بھی پاکستان میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے؟ جمعے کو اسلام آباد میں ’پاک چین مشاورتی میکانزم‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر لیوجیان چاؤ نے کہا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ترقی کے لیے ’اندرونی استحکام ضروری ہے۔‘

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اہم رکن اور وزیر نے پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کے سامنے یہ واضح کیا کہ ’سرمایہ کاری کے لیے سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔بہتر سکیورٹی سے تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔‘

پاکستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ کیے بغیر چینی وزیر نے کہا کہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر چلنا ہو گا۔ چینی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق سکیورٹی خطرات بڑی رکاوٹیں ہیں۔ لوگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ’اعتماد سونے سے بھی زیادہ قیمتی شے ہے۔ پاکستان کے معاملے میں بنیادی طور سکیورٹی صورتحال ایسی شے ہے جو چینی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہے۔ ہمیں اس صورتحال کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا اور سی پیک فرینڈلی میڈیا انوائرمنٹ یقینی بنانا ہو گا۔‘

اسی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے سی پیک پر تمام جماعتوں کے اتفاق پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سی پیک کے دوسرے مرحلے سے پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوگی۔‘ خیال رہے کہ اس اجلاس میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر اور رؤف حسن بھی موجود تھے۔

سی پیک کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار خرم خسین کا خیال ہے کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان اور چین کے موقف میں تضاد ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان کہتا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری آئے گی۔ جبکہ چین کہتا ہے کہ اپنا گھر درست کرو۔ اب وہ سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لے رہا۔‘

ان کے مطابق چین چاہتا ہے کہ اسے اب قرضے واپس ملیں جبکہ پاکستان اس طرح اپنا موقف پیش کر رہا ہے کہ جیسے چینی قطار میں لگ کر بس سرمایہ کاری کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔

چینی وزیر کے خطاب کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے بھی ایک اعلامیہ جاری ہوا تھا جس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سکیورٹی امور کے حوالے سے اجلاس میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں متعلقہ اداروں کی جانب سے سکیورٹی پلان اور مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں ملک میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔