کسی بھی ’آپریشن‘ کیلئے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے: بیرسٹر گوہر

  • اتوار 23 / جون / 2024

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کسی بھی آپریشن کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا آپریشن استحکام شروع ہورہا ہے، پہلے بھی جب آپریشن ہورہے تھے اور آئین میں ترمیم کی گئی تھی تو اس میں بھی پارلیمان کے کردار کا ذکر ہے۔ کوئی بھی آپریشن ہو، چاہے انٹیلیجنس بیسڈ ہو یا کوئی خاص تاثیر میں ہو تو اس کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

ہمیں پوائنٹ آف آرڈر میں یہ نقطہ نظر اٹھانا تھا کہ ہماری عسکری قیادت نے جیسے پہلے پارلیمان میں آکر ان کیمرہ بریفنگ دی، ان کو بتایا کہ کیا صورتحال ہے۔ ویسے ہی اب ہو۔ لیکن ہمیں بات نہیں کرنے دی گئی۔ چاہے کوئی بھی کمیٹی ہو وہ پارلیمان سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ تو کوئی بھی آپریشن پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر شروع نہ ہو۔

واضح رہے گزشتہ روز وزیر اعظم نے آپریشن ’عزم استحکام‘ کے آغاز کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی قومی مہم کو دوبارہ متحرک اور دوبارہ متحرک کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

2000 کی دہائی کے وسط سے پاک فوج کی طرف سے شروع کی جانے والی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے سلسلے میں عزم استحکام ایک نیا منصوبہ ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں ضرب عضب شامل ہے، جو 2014 میں جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے شروع کیا تھا۔ اور ردالفساد 2017 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں شروع کیا تھا۔

اگرچہ ان کارروائیوں نے حکمت عملی سے کامیابیاں حاصل کیں، جن میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور اعلیٰ قیمتی اہداف کا خاتمہ شامل ہے۔ لیکن وہ ملک سے عسکریت پسندی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکیں۔

اپیکس کمیٹی کے تازہ فیصلے پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی طور پر کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے۔ اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، آپ اتنا بڑا فیصلہ کر رہے ہیں مگر پارلیمان کو خاطر میں نہیں لاتے۔ تو یہ پارلیمان کس لیے ہے؟ میں نے کل مولانا سے بھی بات کی اور ابھی میں نے ایوان کے اندر خورشید شاہ اور رانا تنویر سے بھی بات کی ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟

اسد قیصر نے بتایا کہ ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی۔ بہت سے آپریشنز ہوچکے ہیں، آج تک کون سا آپریشن کامیاب ہوا ہے؟ ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ہیں، ایک طرف یہ آپریشن کر رہے دوسری طرف فاٹاا ور پاٹا پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔ آج میڈیا بھی کنٹرول ہے، پی ٹی وی کے لوگ خاص اینگل پر کیمرہ لگاتے ہیں اور چیزیں چلاتے نہیں ہیں۔ یہ مارشل لا کی ذہنیت ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی فیصلہ ہوا ہے تو پارلیمان میں لایا جائے اور اسے اعتماد میں لیا جائے۔