مودی سرکار تیسری بار (3)
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 23 / جون / 2024
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں حالیہ انتخابی پراسس اور ان کے نتائج پر بحث مباحثہ تو ابھی جاری رہے گا مگر کچھ باتیں انڈین ڈیموکریسی کے لیے اگر تشویشناک نہیں بھی ہیں تو چیلنجز ضرور ہیں۔
مثال کے طور پر لوک سبھا میں پہنچنے والے ایسے نمائندے جن پر ٹیررازم کے واضح ثبوتوں کے ساتھ الزامات ہیں بلکہ وہ جیلوں میں بند ہیں اور عدالتوں میں دہشت گردی کے حوالے سے سنگین ٹرائلز کا سامنا کر رہے ہیں۔ جیسے کہ پنجاب سے اکتیس سالہ سکھ خالصہ شدت پسند امرت پال سنگھ جو پہلے تو پگڑی اور داڑھی کے بغیر روزگار کیلیے متحدہ عرب امارات میں بھی رہ چکا ہے۔ لیکن مخصوص مفادات کے زیر اثر اب خود کو بھنڈرانوالہ کے وارث کی حیثیت سے دیکھنے لگا ہے۔ “وارث پنجاب دے” کا خود ساختہ لیڈر شعلہ بیاں مقرر ہے اور بظاہر منشیات کے خلاف کھلے تشدد کے ساتھ اندر خانے خالصتانی نعرے لگاتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود دو لاکھ کے فرق سے جیت کر لوک سبھا میں پہنچا ہے۔ اتنا بڑا ملزم لوک سبھا کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے عدالتی و قانونی بندشوں سے نکل کر ہی جائے گا۔ اسی طرح جیل میں بند عدالت میں دہشت گردی کے ٹرائل کا سامنا کرنے والا، کشمیری شدت پسند شیخ عبدالرشید جو کشمیر کے پاپولر لیڈر سابق وزیراعلیٰ شیخ عمر عبداللہ کو بھاری مارجن سے شکست دے کر لوک سبھا کی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیاہے۔ اور شریمتی اندرا گاندھی کے قاتل کا بیٹاسربجیت سنگھ خالصہ بھی لوک سبھا میں پہنچ گیا ہے۔ قاتل کا بیٹا یا عزیز ہونا تو کوئی جرم نہیں ہے لیکن اگر کسی مقبولیت یا پاپولیریٹی کی بنیاد قتل جیسا گھناؤنا جرم ہوتو بات غور طلب ضرور ہوجاتی ہے۔
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ہمارے کچھ شدت پسند ہندو بھائی ساورکر یا اس سے بھی بڑھ کر نتھورام گوڈسے کو ہیرو کا درجہ دینے لگ جاتے ہیں۔ توجہیات تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہیں لیکن اگر آپ اہنسا، عدم تشدد یا نان وائیولینس کی ہیومن ویلیوز پر ایمان رکھتے ہیں۔ عظمتِ انسانی کی حرمت کے دعویدار یا پرچارک ہیں تو پھر نتھورام گوڈسے چھوڑ آپ کس منہ سے بھگت سنگھ یا کسی علم دین جیسے خونی کو اپنا ہیرو یا لیڈر قرار دے سکتے ہیں؟ اگر آپ ایسی حرکات کرتے ہیں تو پھر یہ سلسلہ کہیں رکے گا نہیں پھر کوئی بھی خونی یا اتنک وادی اگر ایک کمیونٹی کی نظروں میں سفاک مجرم قرار پائے گا۔ تو دوسرے گروہ کے نزدیک وہ ہیرو یا لیڈر کا مقام حاصل کرلے گا۔
اصلیت کا تعین کبھی نہ ہوپائے گا سوائے اس کے کہ ایک معیار طے کرلیاجائے کہ جو بھی رائج الوقت قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کسی کی جان لیتا ہے، چاہے کتنے ہی قومی جذبے سے ہو، وہ تشدد یا وائیولینس کا مرتکب قاتل مجرم گردانا جائے گا۔ جب تک جبر یا تشدد کے خلاف یہ واضح اصولی سوچ یا اپروچ ہمارے خطے میں مضبوط نہیں ہوپاتی یہاں جرنیل سنگھ، امرت پال سنگھ اور برہان وانی جیسے متشدد سوچ کے علمبردار ہیرو بن کر پاپولیریٹی کا ووٹ حاصل کرتے رہیں گے۔ سچائی سے پرکھاجائے تو اندراگاندھی کے قاتل کا بیٹا پنجاب سے جیتا ہے یا امرت پال سنگھ اور شیخ عبدالرشید جیسے تشدد پسندوں نے لوک سبھا چناؤ میں بھاری ووٹ لیا ہے تو اس مقبولیت کی جڑیں اسی خوفناک اپروچ میں پیوست ہیں۔ اس میں فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ہمارے اس خطے سے تب تک ٹیررازم رک نہیں پائے گا جب تک ہم نان وائیولینس کی کامل اپروچ کو پوری طرح اپنا نہیں لیتے۔
ا س امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی قیادت نے دیش کے دوسرے راجیوں سے بڑھ کر پنجاب بالخصوص جموں و کشمیر کے لیے کام کیا ہے۔ یہاں کے انفراسٹرکچر کو بدلا ہے، سڑکیں اور ہائی ویز بن رہی ہیں، ایجوکیشن، ہیلتھ، انڈسٹری اور زراعت کو ترقی دیتے ہوئے مختلف النوع سہولیات بہم پہنچائی ہیں۔ خود پردھان منتری مودی ان دنوں کشمیر یاترا پر ہیں اور وہ امرناتھ یاترا پر آنے والوں کی رکھشاو سلامتی کے لیے پریشان ہیں کہ ان پر یہاں کوئی اتنک وادی حملہ نہ ہوجائے۔ وہ جموں و کشمیر کے لیے بی جے پی حکومت کی خدمات گنوارہے ہیں۔ پچاس سے زائد ڈگری کالجز کے قیام کو اپنی حکومتی کارکردگی کا کارنامہ بتلارہےہیں۔ ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ٹورازم اور سپورٹس کے لیے شاندار عمارات اور سپورٹس سنٹرز کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ساڑھے چار ہزار نوجوانوں کو خصوصی طور پر ٹرینڈ کیا گیا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔
کشمیر تو بھارتی ترقی کا کیپیٹل بننے جارہا ہے پہلے جو وفاق کی طرف سے فنڈز آتے تھے وہ عوام کی ترقی و بہبود پر خرچ نہیں ہوتے تھے، بیچ والے انہیں لے اڑتے تھے۔ اب ہم کشمیری جنتا کے لیے کام کررہے ہیں جن ہاتھوں میں گلیل تھی ہم اُن ہاتھوں میں روزی کمانے کا ہنر ڈال رہے ہیں تاکہ وہ اپنی اور اپنے پریوار کی سیوا کرسکیں۔ امن اور انسانیت کے دشمنوں کو جموں و کشمیر کی ترقی نہیں بھاتی، ہم انہیں سبق سکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن کشمیری جنتا کی ترقی سے منہ نہیں موڑیں گے تاکہ ان کی آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیے مضبوط بنیادیں رکھ کر جائیں۔ دوریاں دل کی ہوں یا دلی کی، ہر دوری کو مٹائیں گے۔
عالمی یوگا ڈے کے حوالے سے پرائم منسٹر مودی نے ڈل جھیل پر عوام کے ساتھ یوگا میں شرکت کی اور کہا کہ اب یہاں سپورٹس کاروں کے شو ہورہے ہیں، لال چوک پر بچے کھیل رہے ہیں، آٹھ سو کشمیری نوجوانوں نے کھیلوں میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ بازاروں ، مارکیٹوں اور سینماہالوں میں رونقیں لوٹ آئی ہیں ہمارے کشمیری بچوں اور بچیوں کے چہرے کھل اُٹھے ہیں۔ کشمیری جنتا نے حالیہ الیکشن میں ریکارڈ شرکت کی ہے۔ کسی خوف اور ڈر کے بغیر ووٹنگ میں حصہ لیا ہے۔ اب یہاں اگلے چناؤ بھی آنے والے ہیں لوکل باڈیز اور کشمیر اسمبلی کے الیکشن بھی ہونے والے ہیں جن میں آپ اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنی نئی سرکار چنیں گے۔ اٹل جی نے آپ کو انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کا سبق دیا تھا۔ آج بھی ہم اسی پر چل رہے ہیں۔ جموں اور کشمیر میں یہ جو بدلاؤ آیا ہے یہ ہماری پچھلی دس برسوں کی محنت کا پھل ہے۔ کشمیری بچوں کے دشمن وہ تھے جنہوں نے یہاں 370کی دیوار کھڑی کی تھی۔ سب کو بانٹنے والی یہ دیوار اب ٹوٹ چکی ہے۔ اب پورے دیش کے ساتھ مل کر یہاں جنتا کو ڈیموکریسی اور ڈویلپمنٹ کے فائدے پہنچیں گے۔
اس سب کے باوجود سوال یہ ہے کہ حالیہ الیکشن 2024 میں بی جے پی کو کوئی سیٹ کشمیر سے ملی ہے نہ پنجاب سے۔ بشمول مودی کیا بی جے پی کی قیادت کو اس پر غور کرتے ہوئے ان وجوہ تک نہیں پہنچنا چاہیے جن کے کارن یہاں شدت پسندوں کے لیے آج بھی کسی نہ کسی حد تک ہمدردی پائی جاتی ہے۔ آخر بی جے پی نے پنجاب میں اکالی دل کو ساتھ جوڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟کشمیر کی لوکل قیادت اپنے ساتھ کیوں کھڑی نہیں کر پائی؟ (جاری ہے)