توہین مذہب تنازعہ کی تاریخ پر عطا انصاری کی کتاب

توہین مذہب کے حوالے سے عطا انصاری کی  نارویجئن کتاب Blasfemi-stridens blodige historie کا ترجمہ ’ توہین مذہب تنازعہ  کی خوں آشام تاریخ‘کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں ماہرین  لسانیات بیٹھے ہیں، اس لیے میں نے اپنے شبے  اور کم مائیگی کا اظہار بھی ساتھ ہی کردیا  ہے۔

تاہم  کتاب کے عنوان کا ترجمہ پیش کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جانا جاسکے کہ اس کتاب کا موضوع کیا ہے اور اس میں  ایک تجربہ کار صحافی نے کون سی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

توہین مذہب کے حوالے سے شروع ہونے والا تنازعہ ہمارے عہد کے اہم ترین اور شاید سب سے زیادہ حساس پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ ابھی تک اس مسئلہ کا کوئی حل  تلاش نہیں کیا جاسکا۔ شاید اسی لیے عطا نے بھی اپنی کتاب کے آخر میں یہ مشورہ دیا ہے کہ:

’ہاتھی گنے رغبت سے کھاتے ہیں۔ وہ غول کی شکل میں گھومتے ہیں اور اگر انہیں رس دار گنوں کا کھیت دکھائی دے جائے تو وہ دیوانے ہوجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر  ہاتھیوں کا غول گنےکھانے سے زیادہ انہیں تباہ کرتا ہے۔  ایک جمہوری معاشرے میں  اکثریت بھی گنے کے کھیت میں ہاتھیوں  کے غول  جیسا رویہ اختیار کرسکتی ہے۔  جو کھاتے کم ہیں، تباہ زیادہ کرتے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ ہم ہاتھیوں کے گروہ کی طرح کا طرز عمل اختیار نہ کریں‘۔

کتاب کے اس اختتامی  پیرے سے دو  نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں:

 ایک یہ کہ  عطا انصاری کی یہ کتاب  مذہبی انتہاپسندی کی علتوں کا ذکر   کرنے اور ان کا جائزہ لینے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے یورپ میں رہتے ہوئے اسی انتہاپسندی کے عواقب میں ابھرنے والی  اسلاموفوبیا بحث کا احاطہ کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

دوسرے یہ کہ ایک دیانت دار صحافی کی طرح پوری تصویر ہمارے سامنے لانے  کے بعد انہوں نے کم از کم مغربی معاشروں کی حد تک مختلف سماجی گروہوں  کے باہمی تعلق میں توازن کی ذمہ داری اکثریت پر عائد کی ہے۔  یعنی یہ اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہوئے خود ایسے رویوں کے فروغ کا سبب  نہ بنے جو معاشرے میں نفرت کے فروغ، ایک گروہ کو مورد الزام ٹھہرانے کے رجحان اور  آزادی رائے کے نام پر  معاشرتی انتشار بڑھانے کا سبب بنے۔

عطا انصاری کی یہ کتاب چونکہ  ایک سیاسی و سماجی مباحثہ کا حصہ ہے ، اس لیے ان کے اس  اختتامی نتیجہ سے  اختلاف کی گنجائش موجود رہے گی۔ کسی بھی موضوع پر بحث کی خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ اس میں ہر فریق کسی بھی موضوع پر اپنی رائے دیتا ہے لیکن دوسرے کی رائے کا احترام بھی کرتا ہے۔ یورپ میں عام طور سے اس رویہ کو جمہوری مزاج کا حصہ بنا لیا گیا ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کیسے  مذہبی انتہا پسندی کے نام پر اپنی طرز کا ’جہاد‘کرنے والے گروہ ، مسلمانوں کے خلاف ایک دوسری طرز کی انتہاپسندی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح یہ دونوں انتہائیں معاشرے کے لیے مسائل کا سبب  بنتی  ہیں۔ البتہ  ایک فرق ملحوظ خاطر رکھنا اہم ہے۔ اس کا حوالہ دیے بغیر بطور مسلمان یا بطور  پاکستانی مسلمان،  ہم اس موضوع کو نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی  اس حوالے سے کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔

وہ پہلو یہ ہے کہ اسلام کے خلاف سرگرم  یورپ کے بیشتر انتہاپسند گروہ صرف الزام تراشی، گھٹیا بیانات، قرآن سوزی جیسے سنسنی خیز مظاہرے کرنے   تک محدود رہتے ہیں۔ اسی لیے وہ آزادی رائے کے نام پر اپنے منفی خیالات عام کرنے کا  مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ  اگر کوئی انتہا پسند گروہ یا فرد  کسی مذہبی گروہ سے ناپسندیدگی کی بنیاد  اس پر حملہ آور ہوتا ہے یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو نہ صرف  پولیس اور قانون اس کے خلاف  کارروائی کرتا ہے بلکہ پورا معاشرہ دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔

یاد کیجئے 10 اگست2019 کو جب بیرم کے النور اسلامک سنٹر میں ایک انتہاپسند نوجوان نے حملہ کیا تھا تو نہ صرف پولیس حرکت میں آئی اور اس شخص کو گرفتار کرکے عدالت سے اسے مناسب سزا دلوائی گئی بلکہ وزیر اعظم سے لے کر شاہی خاندان نے مسلمانوں اور مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔

بدقسمتی سے پاکستان یا کسی مسلمان معاشرے میں اختلاف اور تشدد کے درمیان ایسے فرق کی کوئی مثال سامنے لانا مشکل ہے۔ یہی ایک بنیادی نکتہ ہے جس پر غور  اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔  

خاص طور سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے جو صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے اور  جیسے اقلیتی مذہبی گروہوں کے  ساتھ  تعصب و تشدد کے علاوہ محض الزام تراشی پر لوگوں کو زندہ جلا دینے کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں،   ان کے ہوتے اس بحث میں توازن لانا ممکن نہیں ہے۔ جب کوئی معاشرہ  قانون شکنی کی سرپرستی کرے اور گروہی انصاف کو جائز سمجھنا شروع کردے تو اس کے زوال کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے  ہمیں اپنی جنم بھومی پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات اور رویے ہراساں  و پریشان کرتے ہیں۔

یہ ایک طویل بحث ہے۔ ایک کتاب کی تعارفی تقریب میں اس بحث کے تمام پہلوؤں سے انصاف ممکن نہیں ۔  اس لیے میرا خیال ہے کہ میں عطاانصاری کی کتاب کے بارے میں چند تاثرات آپ کے سامنے رکھ دوں۔

ایک تو یہ  کتاب سادہ، سلیس اور رواں زبان میں لکھی گئی ہے اور پوری کتاب میں نہایت سنجیدہ مباحث کو دلچسپ اور دوستانہ انداز میں  بیان  کیا گیا  ہے۔ اس طرح قاری کی طبیعت پر بوجھ نہیں پڑتا اور کتاب کا مطالعہ جاری رکھنے کی  خواہش بیدار رہتی ہے۔

دوسرے عطا انصاری نے ایک غیر جانبدار صحافی کے طور پر  واقعات کو رپورٹ کیا ہے ، اپنا تجزیہ پیش کیا ہے لیکن ہر وقوعہ کے پس منظر تک جانے اور یہ سمجھنے کی کوشش  کی ہے کہ ہمارے عہد میں مذہبی انتہا پسندی کا آغاز کیسے ہؤا اور یہ موجودہ شدت پسندی تک کیوں کر پہنچی۔ ظاہر ہے  کہ یہ کتاب اس موضوع پر حرف آخر نہیں لیکن ہمیں اس عہد کی ایک اہم  بحث کو سمجھنے اور اس سے سبق سیکھنے  میں مدد دیتی ہے۔

اس کتاب  کی تیسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس  میں توازن تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلاً اگر فرانس میں مسلمان گروہوں میں شدت پسندی پائی جاتی ہے یا وہ  احتجاج کرتے  ہوئے  تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو کیا اس کی ساری ذمہ داری محض اسلام اور مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے یا فرانسیسی معاشرے اور حکومت کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔

اس طرح عطا انصاری نے کامیابی سے مذہبی انتہاپسندی اور  اسلام و مسلمانوں سے نفرت کے رجحان کے درمیان تعلق  اور   پس پردہ عوامل جاننے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کے سدباب  کا اہتمام ہوسکے۔  ان خوبیوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس کتاب کا  جستہ جستہ مطالعہ کیا جائے اور تمام دوستوں کو اسے پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔

(یہ مضمون 22 جون کو حلقہ ارباب ذوق ناروے کے زیر اہتمام عطا انصاری کی کتاب کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا۔ تقریب کا عنوان ’مکالمہ‘ رکھا گیا تھا۔ دو اڑھائی گھنٹے پر محیط اس اجلاس میں توہین مذہب، اقلیتوں کی صورت حال اور پاکستان کے حالات پر بامعنی اور صحت مند بحث ہوئی)