اجمیر شریف کی حاضری پر زعفرانی جھنڈوں سے استقبال (9)

جےپور میں قیام کےتیسرے دن صبع کے وقت اجمیرشریف جانے کے لیے سفر کے آغاز پہ ایک خاص مسرت ہو رہی تھی۔ کیونکہ جب سے غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی کے نام سے آشنائی ہوئی اور ان کی زندگی کے قصے سنے تھے تو ان کے آستانے پہ حاضری کی تمنا دل میں پل رہی تھی۔

16فروری بروز جمعہ 2024 کو اس گھڑی کے آنے پہ بہت ہی خوشی محسوس ہو رہی تھی اور انڈیا میں موجودگی کا یہ دن یادگار لگ رہا تھا۔ جےپور سے اجمیر شریف 135کلومیٹر کے فاصلے پہ واقع ہے۔ راجستھان کا علاقہ بھی یوپی کی طرح کافی زرخیز  ہے لیکن یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ پہاڑی سلسےبھی نظر آتے ہیں۔ زمین کی سطح بڑی حد تک اپنے پوٹھوہار کی طرح ہے۔ جےپور سے اجمیر شریف پہنچنے میں توقع کے برعکس وقت زیادہ صرف ہوا جس کی وجہ سڑک کی تعمیر نو اور جگہ جگہ مرمتی کی وجہ سے ٹریفک کا رُک جانا تھا۔

جب اجمیر شریف میں داخل ہوئے تو بڑی تعداد میں لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی سے فارغ ہو کر گھروں کو جا رہےتھے۔ ہماری منزل درگاہ خواجہ غریب نواز تھی اور سڑک کنارے چلتے راہگیروں سے پوچھ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ ابھی شہر کے اندر تھوڑا ہی سفر کیا تھا تو سامنے سے ہندو شدت پسند نوجوانوں کا زعفرانی جھنڈے اُٹھائےایک ڈنڈا بردار جلوس نمودار ہوا۔ ماتھے پہ زعفرانی رنگ کی پٹیاں باندھے نوجوان ہاتھ میں ڈنڈے تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور ایک ٹرک پہ لگے اسپیکر سے بلند آواز بھجن بھج رہے تھے۔ اس جلوس کا مقصود شاید جمعہ کے دن اپنی طاقت کا مظاہرہ تھا۔ جلوس کو دیکھتے ہی ڈرائیور  نے گاڑی کو سڑک سے اتار کر ایک طرف روک لیا اور جب میں نے تصویر کے لیے فون نکالا تو پریشانی کے عالم میں مجھے ایسا کرنے سے اجتناب کا کہا۔ بلکہ کہا کہ سر اس طرف دیکھیں بھی نہیں کیونکہ یہ تشدد اور جھگڑے کے لیے کوئی بھی بہانہ تراشنے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

جلوس کوئی اتنا بڑا نہ تھا لہٰذا جلدی گزر گیا اور ہم درگاہ خواجہ غریب نوا ز کی طرف چل دیے۔ شہر میں کافی گہماگہمی تھی اور بھیڑ کی وجہ سے گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ جب ایک چوک میں پہنچ کر درگاہ کی صحیح سمت دریافت کرنے ہی والے تھے کہ ایک صاحب اچانک کہیں سے نمودار ہوئے اور بغیر پوچھے گاڑی کا اگلا دروازہ کھول کر کہا کہ صاحب آپ خواجہ غریب نواز کے مہمان لگ رہے ہیں اور ایک ہی سانس میں اپنا تعارف درگاہ کا خادم خاص اور سید زادہ ہونے کا کہہ کر چھلانگ لگائی اور گاڑی کی اگلی نشست پر براجمان ہو گئے۔ اور ڈرائیور کو ایک سمت چلنے کی ہدایات دینے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ سوچنے کا موقع ہی نہ ملا اور پھر زعفرانی جھنڈوں کے جلوس سے ٹکرانے کے بعد کالی قراقلی ٹوپی والے سید زادے کا ہاتھ تھامنا اور پھر اوپر سے ان کا یہ دعوئ کہ وہ درگاہ کے متولی بھی ہیں، بہت بھلا ہی لگا ۔

وہ گاڑی کو اپنی زیر نگرانی ایک بوسیدہ سی حویلی میں لے گئے جو گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے وقف تھی۔ وہاں پارکنگ کی فیس پیشگی میں ادا کروا کر ہمیں ایک چاند گاڑی نما رکشہ میں بٹھا کر خود ایک کونے میں کھڑے ایک موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کر کے ہمارے آگے آگے چل پڑے۔ اور اجمیر کے گُنجان محلوں کی تنگ گلیوں میں سے لے کر درگاہ سلطان الہند خواجہ غریب نواز کی جانب گامزن ہوئے۔ موصوف گلی میں آگے اور دائیں بائیں سے آنے والے راہگیروں سائیکل سواروں اور رکشہ والوں کو ایسے ہٹا رہے تھے جیسے وہ کسی مہاراجہ کی سواری کے حفاظتی پیش دستہ کی قیادت کر رہے ہوں۔ کوئی دس منٹ تنگ اور ناہموار گلیوں کی جسمانی جوڑ کو ہلانے والی مسافت کے بعد اچانک رکشہ رُک گیا اور سید زادہ صاحب ہمیں رکشہ سے اتار کر ساتھ لیتے ہوئے پیدل چل پڑے کیونکہ اب بازار میں اتنی بھیڑ تھی کہ ان کے حکم سے رکشہ کے لیے راستہ بننا ناممکن ہو گیا تھا ۔

تھوڑی دیر پیدل چلنے کے بعد ہم درگاہ خواجہ غریب نواز کے صدر دروازہ کے پاس زائرین کے جم غفیر میں جا شامل ہوئے۔ سب سے پہلے ہم  نے اپنے جوتے وہاں پر تیس روپے اجرت کی ادائیگی کے عوض جمع کروا کر رسید لی۔ اور درگاہ میں داخل ہونے کے لیے قطار میں لگ گئے۔ اس مرحلہ کا عبور ہونا بھی محترم سید زادے کی ہی قیادت کا مرہون منت تھا کیونکہ عقیدت خواجہ غریب نواز میں سر شار بھیڑ میں کسی سے راستہ طلب کرنا اور دھکوں سے بچنا محال تھا۔  لیکن سلطان الہند کے در  پر اُن کےعقیدتمندوں کے ہاتھوں ملنے والے دھکوں پہ کوئی ملال نہیں ہو رہا تھا۔