نوآبادیاتی عہد کا ایک گمشدہ تہذیبی مرقع

رمز کی وضاحت کے لیے کسی شخصیت کی خلّاقانہ جبلّت کے سرچشموں میں کہانی بیانی یا داستان گو ئی ایسے مابعد الطبیعاتی طرز ِ احساس کے ساتھ جگہ بناتی ہےکہ وہ تمثیل کی مظہریت کو سرمدیت اور بلیغ اشاریت کا وصف عطا کرتی ہے۔داستان کا مطالعہ حیات و ممات کے تکثیری پہلوؤں اور اس کی بوقلمونیوں پر محیط و منطبق ہوتا ہے اور اس کی آقافیت میں حقیقت نگاری او ر بیان میں شعری طلسم کا احساس، اپنی مکمل ہم آہنگی اور توازن کے امتزاج کے ساتھ شامل ہوتا ہے ۔

کہانی کے بیان میں واقیعت و توازن کا یہ احساس قر آن کریم کی سورۃ الاعراف کی اس آیت سے بھی ہوتا ہے کہ "پس کہانیاں سناتے رہو تاکہ لوگ غور وفکر کریں"۔ انیس اشفاق صاحب کے ناول ’پری ناز اور پرندے‘ کے مطالعے سے داستانی فضاؤں کی اس فینٹیسی اور حقیقت کا ملاپ نظر آتا ہے جس نے زمانیت و مکانیت کو حقیقت اور فرضیت، ہر دوکی صورت اس قدر تابندگی کے ساتھ عطا کی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے گزرے وقت کو خود پر طاری کر لیاہے اور وقت کی اس یکجائی کی ذمہ داری سے بخوبی عہدہ بر آ بھی ہوئے ہیں۔"پری نا ز اور پرندے " کی اشاعت محترم گگن شاہد اور محترم امر شاہد  کی نگرانی میں ایک نہایت باوقار ادارے، بک کارنر جہلم سے ۲۰۲۴ میں ہوئی۔ انیس اشفاق صاحب کی دیگر کتب بھی اسی وقیع ادارے کا اشاعتی کارنامہ ہے جس میں "دکھیارے" وغیرہ شامل ہیں ۔

’پری ناز اور پرندے‘ کے اس داستانی مرقعے کی ہر سطر میں صدیوں کی معاشرت، تہذیب اور فکر و تخیل کی وحدت کا گہرا اور پائیدار اَحساس موجود ہے اور اس کے بیان کے اغراض و مقصد کے اظہارات میں افتراقات اور اشتراکات کو بیان کرتے ہوئے فینٹیسی کی تکنیک کوپری ناز اور اس کے پرندوں کی کہانی کی تشکیل و تعمیر اور اس کی پیش کش کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ شعور اور ماورائے شعور، دونوں سطحوں پر مختلف زمانوں اور مختلف شخصیات کی مدد سے سماجیاتی تغیرات اور انسانی پہچان کی آگہی کو باہم دِگر مربوط دکھایا گیا ہے ۔

اس داستانی واقعے کےلمحہ ٔ موجود میں حقیقت نگاری کا احساس بھی جاگزیں ہے اور ماضی کے واقعات اپنی بیانیہ خوبیوں سے مرصع ہوکر گزشتہ و خیالی ہونے کے باوجود اپنے زمانے کے تراشے ہوئے کرداروں کا آنکھوں دیکھا حا ل معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر تارا چند نے لکھا تھا کہ مغلوں کی سلطنت کے زوال کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں کہا جاسکتا۔ اس نے اقتصادی، مجلسی اوراخلاقی اعتبار سے دور رَس نتائج پیدا کیے۔ زندگی کے شریفانہ دستور اور معاشرت کے پرانے ضابطے جن کی بنیاد بہت حد تک خوش حالی اور فارغ البالی پر تھی، آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے ۔ لوٹ مار،قتل عام اور خونریزی نے روزمرہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی:

چور اُچکے سکھ مرہٹے ، شاہ گدا زَر خواہاں ہیں

چیَن سے ہیں جو کچھ نہیں کرتے ، فقر ہی اِک دولت ہے اَب

(میرؔ)

انیس اشفاق صاحب کی تحاریرمیں سماجیاتی اور جغرافیائی طرزِ عمل، اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سےزمانیت ، مکانیت اور حسّیت کے مخصوص، لازم اور لامحدود تصورات سے وابستہ ہے جس کے تحت انسانوں کے نزدیک وقت کابرتاؤ اپنی اختلافی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کو مدنظر رکھا جائے تو وقت کا دائروی اور خَطی تصور اس ناول کے مختلف کردار وں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے کہ یہ کرداراپنی علیحدہ شناخت کے ساتھ ساتھ وقت کے مختلف النوع اور کثیر سمتی صورت حال سے بھی نبرد آزما ہیں،مثلاً فلک آراء نے تمام تر رمزِ حیات کا مطالعہ نہایت کم عمری میں کرلیا تھااور باقی ماندہ زندگی، یکسانیت کے ساتھ ان رمزوں کی آگاہی و آشنائی کی منتظر رہیں،جبکہ فرش آراء نے کہانیاں سنیں اور ان کہانیوں کی تکمیل و آگاہی کے سفر میں زندگی کے مختلف روپ کا مظاہرہ بھی کیا اور اسے حتی الامکان خود پر برتا بھی ۔

وقت کے اس سفر کو بیان کرتے ہوئے انیس اشفاق صاحب نےقارئین کو کسی بھی مغالطے یا واہمے میں مبتلا نہیں کیا ہے بلکہ وقت کے گزرنے میںآپ نے متعلقہ ثقافت اور انسانی فطرت کی اکتشاف و بازیافت کا احساس نمایاںتر کیا ہے اور انسانی فطرت کے ان شورش آسا رَمزوں کو اعلیٰ ترین قوتوں کی شکل میں مربوط و منظم اور معروضی نظام ِ فکر کا بیانیہ عطا کیا ہے جو تمثیلی انداز میں نفسیاتی بصیرت کا شعور عام کرکے انسانی زندگی میں نصب العین کو مرکزیت عطا کرتا ہے۔ مرزا اطہر بیگ نے اپنے ناول "غلام باغ " میں یہ سطور لکھی ہیں کہ "ماضی محض تأسف ہے یا پھر کبھی کبھار یہ احساسِ فخر بھی بن جاتا ہے۔ " اسی طرح انیس اشفاق نے بھی اپنے ناول میں وقت اور کرداریت کو مقام و مرتبہ، مناصب اور ماضی ، حال اور مستقبل کی تقسیم کاری میں فطری ، ضروری ، مناسب اور برمحل مقام عطا کیا ہے۔ مثلاً منشی امیر احمدعرضی نویس کا قصہ بیان کرتے ہوئے انیس اشفاق صاحب کے الفاظ کی تاثریت و کیفیت اور پھر فرش آرا کا کتبے پہ یہ الفاظ کندہ کروانا کہ ’امیرِ قرطاس و قلم، منشی امیر احمد عرضی نویس مرحوم کی عرضی نویسی کا شہرہ ہر طرف تھا۔ کہاجاتا ہے ان کا لکھا ہوا لفظ پھانسی کا پھندہ کھلوا دیتا۔ کیسے کیسوں کی جان بخشی ہوئی اور کالے خان کی معافی میں منشی جی کے لکھے پر جو سلطانی فیصلہ ہوا ، اس کا حرف حرف لکھنؤ میں سب کی زبان پر ہے‘۔ اس مرکزیت کے اقداری تصورات اور اس کی کشش و گریز میں یہ پہلو نمایاں ہے کہ دنیاوی حالات و واقعات کے فطری رجحان سے معمور اس ظاہری نظام کے علاوہ ایک مخفی نظام کی کار فرمائی بھی اپنے دوجذبی رحجان  

کے ساتھ اسی تسلسل اور پیہم صورت میں موجود ہے جس میں افادیت اور اہمیت ، ہردو اپنے تشکیلات کے لیے کوشاں ہے۔

انیس اشفا ق صاحب کے اس ناول کے مطالعے سے ہندوستانی معاشرت کی وہ تصویر بھی سامنے آتی ہے کہ جب کارل مارکس یہ الفاظ ادا کیے تھے کہ  ’انگلستان اگر دوسری اقوام کے ساتھ پرُامن تعلقات رکھےتو کہیں کم خرچ پر ان کا استحصال کرسکتا ہے۔‘ گویا استحصال کی روایت لازمی تھی جس سے صرف ِ نظر ممکن نہیں۔ انگریزی عہد کے انتشار کی کیفیت جو عوام و خواص، ہر دو کو یکساں سطح پر متاثر کر رہی تھی، اس تناظر میں آپ نے ناول میں اس نو آبادیاتی نظام کی وضاحت بھی کی ہے اور انسانی فکر و تصورات، انسانی نفسیات ، اس کے برتاؤ اوراس کے رَویّوں کے بتدریج ارتقا پر روشنی ڈالی ہے۔ حال سے ماضی کی جانب مراجعت کرتے ہوئے ایجادی قفس ، پہاڑی مینا، کالے خان، شاہین شہرزاد، باہر ی پرندے اور طاؤس چمن جیسے رائج الوقت اخلاقیات اور اقدار کے مظاہرات کی شکستگی کے علامتی اظہارات ،حال اور ماضی کے درمیان ایک پیوستہ ربط کا مظہر ہیں جو ماضی کی بازیافت، گزرانِ حال اور مستقبل کے امکانات میں مخفی واقعات و حوادث کو نئے زاویوں اور نئی فکر و شعور سے ہمکنار کرتا ہے۔

نو آبادیات کے فلسفے کو زمانی و مکانی نقطہ ٔ نظر سے ناول کے کینوَس پر جس داستانی اختصار کےساتھ انیس اشفاق صاحب نے بیان کیا ہے اور جن صیغوں و کرداروں کی مدد سے واقعات کا عمل تشکیل و تکمیل تک رسائی پاتا ہے، اس کے افادی پہلوؤں میں تقدس اورعلویت کا احساس، ناول کی معنویت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ انسانی جبلت اور شناخت کےتہذیبی ارضیت و ثقافتی ماہیئت کے بیانیہ احساس نے آپ کے ناول ’ پری ناز اور پرندے‘ کو ایک ایسے عہد کا اشاریہ بنادیا ہے جو جاہ و جلال اور انتشار، ہر دو کیفیات کا گواہ تھا۔