خواجہ غریب نواز کی درگاہ پر حاضری (10)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- منگل 25 / جون / 2024
درگاہ خواجہ غریب نواز کے احاطے میں داخل ہونے کے لیے شمال کی طرف سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سفید رنگ کے بلند محرابی دروازہ سے گزرنا ہوتا ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے یہ احساس ہوتا ہے کہ درگاہ کسی زمانہ میں ایک ٹیلہ نما پہاڑی پر ہوگی جو اب گنجان آبادی میں بدل چکی ہے۔
آخری سیڑھی پہ کھڑے ہو کر پیچھے بازار کی جانب نظر ڈالی تو زائرین کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیا جس میں ہر مذہب اور نسل کےلوگ تھے۔ زائرین کا اتنا بڑا جم غفیر یا تو حرم شریف یا پھر کربلا معلی کے بعد یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مزارکے صحن میں مغرب کی جانب شاہ جہاں کی تعمیر کردہ اکبری مسجد ہے اور جنوب میں لنگر خانہ جبکہ مشرقی حصہ میں حجرے اور چند دکانوں کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی دیگ بھی ہے جس میں 4800 کلو تبرک تیار ہوتا ہے۔
مزار کی طرف بڑھنے سے پہلے ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے دکان سے پھولوں کی ایک ٹوکری خریدی تو دُکاندار نے اپنی طرف سے دو عدد زعفرانی رومال اور ایک پیکٹ شیرینی مکھانے بطور تبرک تحفہ عنایت کیے۔ درگاہ کے خادم خاص کی زیر قیادت زائرین کی بھیڑ سے بچتے معتقدین خاص کے مزار میں داخلے کے لیے مختص دروازے سے بغیر دھکم پیل کےاندرجانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ خواجہ غریب نواز کی مرقد اقدس پہ اُن کے قدموں میں کھڑے ہو کر جذبات فرحت کے ساتھ مزار کی اندرونی زیارت کی۔ سلطان الہند کے مزار کا اگر برصغیر کے دوسرے مزاروں سے موازنہ کیا جائے تو یہ پاکستان کے کسی قصبے کی خانقاہ سے بڑا نہ تھا۔ شاید اس کی لاہور کے داتا دربار اور دوسرے درباروں کی طرح وسعت دینے کے لیے تعمیر نو نہیں ہوئی اور یہ اپنی ابتدائی حالت میں ہی ہے۔
زائرین کی تعداد اور پیش کردہ نذرانوں سے اندازہ لگایا جائے تو اس کے لیے مالی وسائل کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں ہونی چاہیے، شاید کوئی اور مصلحت ہو۔ البتہ مزار کے اندر سونے چاندی سے تزئین نمایاں ہے۔ ہمارے میزبان قبر کے گرد لگے جنگلے کے اندر داخل ہوئے اور وہاں پر پہلے سے موجود مولانا صاحب سے نہ جانے سرگوشی میں کیا کہا کہ اُن محترم نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں آگے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے جنگلے کے ساتھ قبر کے قریب کھڑے ہونے کا موقع فراہم کر دیا، جہاں سے بڑے آرام کے ساتھ قبر پر گل افشانی کی اور فاتحہ پڑھی۔ اُنہی محترم نے ہمارے ہاتھ سے خالی ٹوکری لے کر ایک طرف رکھی اور زعفرانی رومال قبر سے مس کرکے واپس تھما دیے۔
اس رسم کی ادائیگی کے بعد باہر آئے تو صحن میں قوالی کی محفل جمی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر اس سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہمارے میزبان دربار کے حجرہ میں لے گئے اور چائے سے تواضع فرمائی ۔ قوالی برصغیر پاک وہند میں سلسلہ چشتیہ کی نسبت خاص ہے۔ اور اس کا سہرا خواجہ غریب نواز کے سر باندھا جاتا ہے۔ گو قوالی کا باضابط آغاز امیر خسرو سے منسوب ہے۔ لیکن خواجہ معین الدین چشتی نےسب سے پہلے سماع کو اپنی مذہبی تبلیغ کا حصہ بنایا تھا جس کا مقصد غیرعرب مسلمانوں کو اسلام کے قریب لانا تھا جو اپنی آبائی ثقافت اور مذہبی رسومات کے مطابق بھجن اور گیت کے عادی تھے۔
خواجہ معین الدین چشتی ایران کے علاقہ سیستان میں ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے اور غالب امکان ہے کہ اُن کی تیرہویں صدی میں ہندوستان آمد کی وجہ وسط ایشیا میں منگولوں کا قہر اور بربریت تھی جس سے بچنے کے لیےلوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔ خواجہ معین الدین چشتی اعلیٰ پائے کے معلم، واعظ، عالم، مبلغ، فلسفی، روحانی پیشوا اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ وہ اپنی نجی زندگی میں بہت ہی قانع اور انکسار پسند تھے۔ غریبوں سے خاص شفقت اور بندہ پروری کرنے پر لوگوں نے اُنہیں غریب نواز کالقب دیا۔ اپنی انہی خصوصیات کی بدولت برصغیر کے سب سے بڑے ولی اور صوفی سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کی مذہبی و رفاہی خدمات اور تبلیغ کی بنا لاکھوں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
آج اُن کی مرقد اقدس کی بدولت سرزمین اجمیرکروڑں عقیدتمندوں کی منزل ہے جو ان کی روحانیت کا فیض پانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ آپ کی داتا گنج بخش علی ہجویری سے عقیدت ونسبت خاص تھی جس کا اظہار خواجہ معین الدین چشتی نے اُن کی شان میں اپنے اس شہرہ آفاق شعر میں کیا:
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما