فارم 45 یا 47 حکومت کی حکمرانی
- تحریر محمد طارق
- بدھ 26 / جون / 2024
پاکستان میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کی حکمرانی میں ملک میں 60 دن گزارنے کا اتفاق ہوا- اورسیز میں رہتے ہوئے، میڈیا، سوشل میڈیا کی بھرپور کوریج سے بیرون ملک رہتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پاکستان میں انتہا درجے کی افراتفری ہے۔
ریاستی انتظامی، سیکورٹی ڈھانچہ مفلوج ہے ، ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ عام لوگ کوئی کام نہیں کر رہے، نوجوان ملک میں انقلاب آنے کا انتظار کررہے ہیں۔ جن نوجوانوں یا لوگوں کو انقلاب آنے کی توقع نہیں وہ بیرون ممالک جا چکے یا جاننے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں خو شحالی لا سکیں۔
لیکن جب اپریل 2024 کے آخر میں پاکستان کی زمین پر قدم رکھا تو چند دن بعد ہی محسوس ہوا کہ پاکستان کے بارے میں جو کچھ پاکستانی میڈیا، سوشل میڈیا اپنے ناظرین سے زیادہ ویورز حاصل کرنے کے چکر میں غیر ذمہ دارانہ صحافت ، ہیجان خیز لیڈ نیوز اور منفی پروپیگنڈہ کے ذریعے دکھا اور بتا رہا ہے۔ اس کا پاکستان کے زمینی حقائق، عام لوگوں کی روز مرہ زندگی کے حالات سے دور کا تعلق نہیں۔
ہم نے 60 روز پاکستان میں گزارنے کے بعد جو مشاہدہ کیا، وہ یہ ہے پاکستان ایسے ہی چل رہا ہے جیسے 1998 - 2002 میں تھا۔ بلکہ اجتماعی حکومتی نظام میں کچھ بہتری نظر آئی۔ خاص کرایئرپورٹس پر خوش اخلاق عملہ دیکھنے کو ملا، فلائٹس بروقت آ اور جا رہی تھیں۔ سرکاری ہسپتالوں ، سکولوں کا معیار اور خدمات بہتر ہوئی۔ ریسکیو 1122 اور نادار اچھا کام کررہی ہیں۔
معشیت
ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ، سیاست دانوں اور حکومتوں کی ترجیحات میں نوجوانوں کے لیے روزگار پروجیکٹس پر کام نہ کرنے کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی ہے۔ دن میں ایک یا دو گھنٹے بجلی بند ہوتی ہوئی دیکھنے کو ملی۔
ملک میں گوشت، سبزیوں، فروٹ ، گروسری، الیکٹرانک ، کتابوں کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو ملا، جس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ملک میں کاروبار بہتری کی طرف گامزن ہے۔
8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد مرکز میں مضبوط حکومت آنے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام میں کمی آئی، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں، تاجروں نے کاروبار میں انوسٹ کرنا شروع کیا، جس سے چھوٹے کاروباری طبقے کی سیلز، آمدن میں اضافہ شروع ہوا۔
ملک میں نچلی سطح پر بااختیار منتخب بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے، عام لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل ہونے میں مشکلات دیکھنے میں آئیں۔ محکمہ مال، پٹوار، پولیس میں سفارش، رشوت خوری جاری ہے۔
سیاست
مرکز ، سندھ، پنجاب، بلوچستان میں مسلم ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومتیں اسمبلیوں میں عددی اکثریت رکھنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور حمایت سے ملکی ریاستی انتظامی نظام پر مکمل کنٹرول رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگلے 5 سالوں میں اپوزیشن یا تحریک انصاف مرکز یا صوبوں میں عوامی تحریک، احتجاج، مظاہروں سے حکومت کو کوئی نقصان پہنچانے یا حکومت کو بذریعہ عوامی احتجاج ختم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
اگلے 5 سالوں میں مرکز یا صوبوں میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہونے کے امکانات اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں اگر ان دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان کوئی بڑا سیاسی تنازعہ نہ کھڑا ہو جائے، جس کے فی الحال امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف عوام میں کافی حمایت رکھنے کے باوجود، ماضی قریب میں اپنی قیادت کی طرف سے غلط سیاسی فیصلوں، غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ایسی پوزیشن میں آکھڑی ہوئی ہے کہ میڈیا، سوشل میڈیا میں مسلسل ٹاپ ٹرینڈ کے باوجود عملی سیاست میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔