اسانج کی رہائی، آزادی اظہار اور امریکی انصاف

ایک امریکی عدالت نے بدھ کے روز وکی لیکس  کے بانی  جولیان اسانج کو رہا کردیا اور وہ آسٹریلیا پنے خاندان کے پاس پہنچ گئے۔ امریکی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں اسانج نے امریکی خفیہ دستاویزات شائع کرنے کے ’جرم‘ کا اعتراف کیا تھا۔ اسی معاہدے کے تحت انہیں  سوموار کوبرطانوی جیل سے رہا کیاگیا جہاں وہ کسی مقدمے میں سزا کے بغیر پانچ  سال سے قید تھے۔ اس سے پہلے وہ سات سال تک لندن میں ایکواڈور  کے سفارت خانے میں محبوس رہے تھے۔

جولیان اسانج  نے بارہ برس قید و بند اور الزامات کا سامنا کیا اور بالآخر آسٹریلوی حکومت کی مداخلت، امریکی صدر جوبائیڈن کی رضامندی اور انسانی حقوق گروپوں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں وہ   قانون اور طاقت ور حکومتوں کا مقابلہ کرنے کے بعد   رہا ہوگئے  ہیں۔ اب وہ  اپنی بیوی  بچوں کے ساتھ ایک معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ تاہم  جولیان اسانج کی قید و بند اور رہائی سے دنیا بھر میں آزادی رائے اور قانون کی حکمرانی کے درمیان تعلق کے بارے میں کئی سوالات سامنے آئے ہیں۔ جولیان اسانج کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے وکی لیکس کے ذریعے  افغانستان اور عراق جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے  میں  خفیہ امریکی دستاویزات اور ویڈیو  شائع  کیں اور عالمی رائے عامہ کو ایک سپر پاور کا بھیانک چہرہ دکھانے کا حوصلہ کیا۔

امریکہ نے جولیان اسانج پر قومی سلامتی کو نقصان  پہنچانے  اور خفیہ امریکی دستاویزات عام کرنے کے 18 سنگین الزامات عائد کیے تھے۔  ماہرین کے مطابق اگر اسانج کو امریکہ کے حوالے کردیا جاتا تو انہیں 175 سال  تک کی سزا  ہوسکتی تھی۔ امریکی حکومت برطانوی نظام انصاف کو یہ مکمل یقین دلانے میں بھی ناکام رہی تھی کہ امریکہ کے حوالے کرنے کی صورت میں جولیان اسانج کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی یا اس کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھا جائے گا۔    اسانج کو پکڑ کر امریکہ لانے کی کوششیں 2010 سے 2023 تک جاری رہیں۔ اس دوران میں   امریکی حوالگی سے بچنے کے لیے جولیان اسانج نے سویڈن واپس جاکر اپنے خلاف جنسی زیادتی کے مقدمہ کا سامنا کرنے  کرنے سے انکار کیا ۔اور لندن میں جب  انہیں احساس ہؤا کہ  پولیس  ضمانت کے باوجود انہیں گرفتار کرکے سویڈن کے حوالے کرسکتی جہاں سے انہیں امریکہ  بھیجا جاسکتا ہے تو انہوں نے  جون2012  کولندن میں  ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے لی۔

ایکواڈور  نے انہیں اسی سال اگست میں سیاسی پناہ دے دی لیکن برطانوی حکومت نے امریکی درخواست کی وجہ سے انہیں 7 سال تک سفارت خانے سے باہر آنے اور ایکوڈور جانے کی اجازت نہیں دی۔ بلکہ لندن پولیس نے تین سال تک اسانج کے سفارت خانہ سے باہر نکلنے  اور اسے گرفتار کرنے  کی نیت سے تین سال   تک  ایکواڈور ایمبیسی کے باہر پہرہ دیا۔ اس پولیس کارروائی پر کروڑوں پاؤنڈ صرف کیے گئے۔ ۔ البتہ تین سال بعد اس اعلان کے ساتھ پولیس کا پہرہ ختم کردیا گیا کہ اسانج اگر باہر نکلا تو اسے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔

ایکواڈور میں صدر رافائیل  کوریا کے زوال  کے بعد لینن مورینو نے  صدر کا عہدہ سنبھالا اور امریکی حکومت کو خوش کرنے کے لیے  انہوں نے  جولیان اسانج کی سیاسی پناہ ختم کردی اور انہیں سفارت خانہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔  مئی 2019 میں وہ جوں ہی سفارت خانہ سے باہر نکلے برطانوی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ آئیندہ پانچ سالوں میں کسی عدالت نے اسانج کو ضمانت نہیں  دی  ۔ اس دوران میں مختلف عدالتی فورمز پر اسانج کی واپسی  روکنے کا مقدمہ چلتا رہا حتی کہ برطانوی سپریم کورٹ نے مارچ 2022 میں   امریکہ  حوالے کرنے کے فیصلہ کے خلاف   جولیان اسانج کو اپیل کا حق دینے سے انکار کردیا۔ تاہم  اس پیچیدہ معاملہ کا یہ پہلو بے حد دلچسپ پے کہ جوں ہی اسانج کے وکلا اور ہمدرد امریکی حکومت کو کسی قابل قبول حل پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہونے لگے تو برطانوی نظام انصاف میں اسانج کو امریکہ کے سپرد کرنے کے فیصلے پر از سر نو غور شروع ہوگیا۔  اور   اس سال مئی میں برطانوی ہائی کورٹ کے دو ججوں نے انہیں امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل کرنے کا حق  دے دیا۔

  البتہ 26 جون 2024 کو امریکی حکومت کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت یہ اتفاق ہؤا کہ برطانوی حکام اسانج کو رہا کردیں گے  جہاں سے وہ  آسٹریلیا کے قریب  امریکی  جزیرے شمالی ماریانا جائیں گے ۔ایک امریکی عدالت میں انہیں پیش کیا جائے گا۔ عدالت  انہیں اس  ایک جرم کا اعتراف کرنے پر کہ انہوں نے امریکی خفیہ دستاویزات  شائع کی تھیں، پانچ سال دو ماہ   سزا دے گی۔ البتہ برطانوی جیل میں گزارے ہوئے باسٹھ  مہینوں کو  اس سزا میں شمار کرکے انہیں فوری طور  سے رہا کردیا جائے گا۔ اس معاہدے کے عین مطابق اسانج منگل کو برطانیہ سے روانہ ہوکر  بدھ کو شمالی ماریانا کی عدالت میں پیش ہوئے اور پیشگی معاہدے کے مطابق انہیں پانچ سال دو ماہ سزا دے کر اور اسے برطانوی جیل میں گزارے وقت میں شمار کرکے  رہا کرنے کا حکم دیا  گیا۔ اور جج نے اسانج کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا  اظہار کیا۔

ظاہر ہے کہ یہ ساری کارروائی امریکی قانون کے مطابق ہی انجام پائی ہے لیکن دنیا کے اس عام شہری  کے لیے حیرت کا موجب ضرور  ہے جوامریکہ  میں  قانون کی عملداری اور مغربی ممالک کے آزادی رائے کے دعوے  سن سن کر یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ  ان ممالک میں واقعی ہر طاقت ور کے سامنے ’کلمہ حق‘ کہنے کی آزادی ہے اور پورا نظام شدید مخالفت کے باوجود اس کی حمایت میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ لیکن اسانج کے معاملہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کو محض امریکی ظلم اور لاقانونیت کا پردہ فاش کرنے  پر قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے  کا ملزم قرار دے کر میں کیفر کردار تک پہنچانے کا تہیہ کیا جاتا ہے۔ انتقام لینے  پر تلاہؤا امریکہ    اپنے زیر اثر برطانوی حکومت کے ذریعے 12 طویل سال  تک اسانج کو پرصعوبت زندگی گزارنے پر مجبور کردیتاہے۔ لیکن جب خود اسے  یہ معاملہ حل کرنے میں اپنا مفاد دکھائی دیتا ہے تو پہلے سے ’فکسڈ‘ ایک عدالتی کارروائی  کے ڈھونگ کے بعد انہیں رہا کردیاجاتا ہے۔ جزیرہ  شمالی  ماریانا  میں کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی اسی لیے کیا گیاتھا کیوں کہ اسانج امریکہ کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنا چاہتا تھا اور امریکی حکومت اب  آسٹریلیا کے دباؤ اور انسانی حقوق گروہوں کے احتجاج کی وجہ سے اس مشکل سے نکلنا چاہتی تھی۔

دنیابھر میں انصاف اور انسانی حقوق کی دہائی دینے والی امریکی  حکومت  اس معاملے میں  خود ہی تمام  ضابطے اور اصول توڑتی دکھائی  دیتی ہے۔ صدر بائیڈن کو  اس معاملہ میں اگر امریکی انتظامیہ کی زیادتی اور غلط فیصلوں کا ادارک ہوگیا تھا تو  ایک ’جعلی عدالتی کارروائی‘ کی بجائے،  امریکی حکومت الزامات واپس لے کر بھی اسانج کی رہائی یقینی بنا سکتی تھی۔ لیکن  شمالی ماریانا میں امریکی عدالت  میں جج  نے اس معاہدے سے سر مو اختلاف کرنے کی ضرورت  محسوس نہیں کی جس کے تحت اسانج نے ’اعتراف جرم‘ کیا اور انہیں باسٹھ ماہ سزا دے کر ، فوری طور سے رہا کردیا گیا۔ جج عدالتی خود مختاری کا وقار بحال رکھنے کے لیے اس مدت میں چند دن کا اضافہ یا کمی بھی کرسکتی تھیں لیکن  ایسا نہیں ہوسکا۔ یہ مقدمہ امریکی نظام انصاف کی کمزوریوں اور اس پر انتظامی کنٹرول   کی ایک ناگوار اور ناخوشگوار تصویر سامنے لاتا ہے ۔ حالانکہ   مساوی سلوک کی بنیاد پر خود مختارعدالتی نظام میں انصاف فراہم کرنا بنیادی اصول ما ناجاتا ہے۔

اسی طرح آزادی رائے کے حوالے سے بھی وکی لیکس کے اقدامات اور جولیان اسانج کی سزا اور رہائی ایک  نئے مباحثہ کا موضوع بننی چاہئے تاکہ آزادی رائے کی دعویدار حکومتیں اپنے قول و فعل کے تضاد کو پرکھ کر متوازن رویہ اختیار کرنے کے قابل ہوسکیں۔ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالتی برطانیہ یا سویڈن کی حکومتیں  مسلمانوں کی طرف سے آزادی رائے پر مناسب قدغن کی ہر خواہش کو  آزادی رائے سے متصادم قرار دیتی ہیں۔ سویڈن   نے 2010 میں اسانج کے خلاف  جنسی ہراسانی کے الزام میں قانونی کارروائی کا آغاز کیا اور برطانیہ سے اس کی واپسی کے لیے سال ہا سال تک قانونی اور سفارتی جنگ بھی لڑی۔ لیکن 2019 میں  اس مقدمہ کو  کمزور ثبوتوں کی وجہ سے داخل دفتر کردیا گیا۔  

اس معاملہ میں دونوں شکایت کنندگان  اسانج کی دوست تھیں اور ایک خاتون نے تو انہیں اپنے گھر پر ایک ہفتہ سے زیادہ مدت تک  مہمان بھی رکھا تھا۔ تاہم  ’غیر محفوظ‘ جنسی تعلق کی شکایت  کی وجہ سے یہ تنازعہ شروع ہؤا۔ ابتدا میں خواتین صرف اسانج کا طبی معائنہ کروانا چاہتی تھیں تاکہ انہیں  یقین ہو کہ وہ کسی متعددی  بیماری میں مبتلا نہیں ہوئیں لیکن بعد میں شہرت  کے حصول اور  اخباروں سے پیسے  لے کر انٹرویو دینے  کی خبریں بھی سامنے آئیں۔  وکی لیکس اور اسانج کے وکلا نے اسے امریکہ کی طرف سے ’ہنی ٹریپ‘ قرار دیا تھا جس میں امریکی ایجنسیاں ملوث  تھیں۔  البتہ  سویڈش پولیس جو قرآن سوزی کو ’آزادی رائے کے مقدس حق‘ کے نام پر جائز قرار دیتی ہے،  ایک ایسے شخص کو   کمزور اور بے معنی شواہد کی بنیاد پر سال ہا سال تک  ہراساں  کرتی رہی جو دنیا بھر میں آزادی رائے کے حق کی علامت بنا ہؤا تھا۔ درحقیقت سویڈن نے جولیان اسانج کی مشکلات میں اضافہ کرکے آزادی رائے کے اصول سے خود ہی لاتعلقی کا  مظاہرہ کیا ۔  آزادی رائے اور انصاف کے موضوعات پر بحث میں   سویڈن کے طرز عمل  پر غور کرنا بھی ضروری ہوگا۔ دیکھنا پڑے گا کہ  کمزور  اقلیتی گروہوں کا تمسخر اڑانے کی اجازت دینے والا ملک کیوں کر ایک سپر پاور کی خواہش میں  بالواسطہ طور سے آلہ کار بنا۔

جولیان اسانج ایک عام انسان ہے۔ اس سے بے شمارغلطیاں سرزد ہوئی  ہوں گی۔  لیکن اسے برطانیہ میں کسی جرم کے بغیر  بارہ برس  تک قید اور محبوس رہنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا واحد  جرم امریکی استبداد کو سامنے لانا تھا۔  برطانوی عدالتی نظام   امریکی جرائم کا پردہ فاش کرنے والے ایک شخص کو انصاف فراہم نہیں کرسکا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ انصاف ہو یا آزادی رائے،  سیاسی حکومتوں کی ضرورتوں اور وقت کے تقاضوں کی محتاج رہتی ہے۔ اسی  لیے مکمل شفاف انصاف اور آزادی رائے کی جد و جہد ابھی طویل عرصہ تک جاری رکھنے اور اس کی حفاظت کے لیے  چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔