عدت کیس میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی درخواست مسترد
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ کیس کی مرکزی اپیلیں تاحال زیر سماعت ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا۔ بعد ازاں عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کے پاس سزا معطلی کا کوئی جواز موجود نہیں۔ بشریٰ بی بی کا خاتون ہونا سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا جواز نہیں۔ عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔ سزا معطلی یا ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران مقدمے کے میرٹ پر بات نہیں کی جا سکتی۔ دونوں ملزمان کو دی گئی سزا نہ تو قلیل مدتی ہے، نہ ہی وہ سزا کا زیادہ حصہ بھگت چکے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت میں نکاح سے متعلق کیس میں رواں سال 3 فروری کو عام انتخابات سے 4 روز قبل 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی جسے انہوں نے چیلنج کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عدت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف درخواستیں مسترد ہونے پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ہم اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنےکا قانونی حق رکھتے ہیں اور ہم اپنے وکلا کے ذریعے اس کو چیلنج کریں گے۔