ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان صدارتی مباحثے میں کون حاوی رہا؟
جمعرات کو صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مباحثے میں صدر کی عمر اور صحت کے بارے میں خدشات قوی ہوئے ہیں۔
جمعرات کی شام ہونے والے صدارتی مباحثے میں صدر بائیڈن ایک واضح اور آسان ہدف کے ساتھ داخل ہوئے تھے تاہم وہ اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام نظر آئے۔ پوری بحث کے دوران وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھے اور ان کی باتیں مبہم تھیں۔
بحث کے دوران بائیڈن کی ٹیم نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر زکام کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی آواز خراب اور مبہم سنائی دی رہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو بھی لیکن بظاہر یہ ایک بہانہ لگ رہا تھا۔
تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے مباحثے کے دوران مسلسل ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے جو بائیڈن اپنی باتوں پر قابو نہیں رکھ پا رہے تھے۔ ان کی جانب سے دیے جانے والے کچھ جوابات تو انتہائی بےتکے تھے۔ مباحثے کے دوران ایک سوال کا جواب انہوں نے یہ کہہ کر ختم کردیا کہ ’ہم نے آخرکار میڈیکیئر کو ہرا دیا۔‘ قابلِ ذکر بات یہ ہے میڈیکیئر امریکی حکومت کے زیر انتظام بزرگوں کی صحت کی دیکھ بھال کا پروگرام ہے۔
اس مباحثے کے فوراً بعد جو بائیڈن کی سابقہ کمیونیکیشن ڈائریکٹر کیٹ بیڈنگ فیلڈ سی این این پر موجود تھیں۔ انہوں نے صاف الفاظ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ بحث کسی بھی صورت جو بائیڈن کے لیے مثبت ثابت نہیں ہوئی۔ جو بائیڈن کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ثابت کرنا تھا کہ بطورِ صدر کام کرنے کے لیے ان میں نہ صرف توانائی ہے بلکہ وہ صحت مند بھی ہیں لیکن بائیڈن ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
جیسے جیسے بحث آگے بڑھی، اپنی ہار کو جیت میں بدلنے کی کوشش میں کسی شکست خوردہ باکسر کی طرح جو بائیڈن نے بھی کھیل کی رفتار میں تبدیلی لانے کی کوشش کی اور اپنے حریف پر تیزی سے وار کیے۔ ان میں سے کچھ وار تو اپنے ہدف پر لگے جنہوں نے شاید سابق صدر کو غصہ بھی دلا دیا۔
مباحثے میں زیرِ بحث آنے والے ابتدائی چند موضوعات میں معیشت اور امیگریشن جیسے اہم مسائل شامل تھے۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر بیشتر امریکی جو بائیڈن سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد کرتے ہیں اور اس بات نے امریکی صدر کے لیے مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا۔
ٹرمپ نے بائیڈن کے ایک اور جواب کے بعد طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’مـجھے نہیں سمجھ آئی کہ انہوں نے اس جملے کے آخر میں کیا کہا ہے، اور میرے خیال میں شاید یہ خود بھی نہیں جانتے۔‘
بحث کے دوران بعض اوقات صدر بائیڈن مؤثر طریقے سے ریپبلکن امیدوار پر وار کرنے اور انہیں غصہ دلانے میں کامیاب رہے۔ ایک ایسے ہی موقع پر جو بائیڈن نے ٹرمپ کو سابق پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کیس میں ہونے والی سزا کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کسی ’آوارہ بِلے‘ جیسے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے غصے سے جواب دیا کہ ’میں نے کسی پورن سٹار کے ساتھ سیکس نہیں کیا ہے۔‘
جب ڈونلڈ ٹرمپ سے 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو اس پر وہ بیک فٹ پر نظر آئے۔ اںہوں نے ابتدائی طور پر کیپیٹل ہل فسادات کے متعلق اپنی ذمہ داری کے بارے میں سوال کو صدر بائیڈن کے ریکارڈ کی مذمت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، تاہم صدر بائیڈن نے انہیں ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا۔
یہ مباحثہ امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں الیکشن سے کہیں پہلے منعقد ہونے والے مباحثوں میں سے یہ ایک تھا۔ بائیڈن کی ٹیم کی خواہش تھی کہ اس بحث کی ساری توجہ ٹرمپ پر مرکوز رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال اور افراتفری کے بارے میں امریکی ووٹرز کو یاد دلایا جا سکے۔
تاہم اس بحث کے بعد لگتا ہے کہ سابق صدر کی نسبت اب لوگ جو بائیڈن کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ بات کریں گے۔ بائیڈن ٹیم کی جانب سے مباحثے کے جلد آغاز کی ایک اور وجہ یہ تھی اگر ان کا امیدوار اس میں بری کارکردگی دکھائے تو ان کے پاس اس دھچکے سے باہر نکلنے کے لیے زیادہ وقت ہو۔ شاید یہ واحد بات ہے جس سے ان کو کچھ ریلیف ملے۔
ڈیموکریٹس کا کنونشن اگست میں ہوگا اور اس وقت شاید وہ امریکیوں کو بائیڈن کا مزید سکرپٹڈ وژن پیش کر سکیں۔