ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اختراع ہی ختم کردیں گے: وزیر خزانہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اختراع ہی ختم کردیں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر ورلڈ بینک نے داسو کے لیے منظور کیے، آئی ایف سی نے پی ٹی سی ایل کے لیے 40 کروڑ ڈالرز منظور کیے ہیں۔ میکرو اسٹیبلیٹی کو ہم نے مستقل کرنا ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے۔ جو میکرو اشارے ہیں وہ اگے پیچھے ہوگئے تو ہم مائیکرو مغیرات پر ضرور آئیں گے لیکن اگر میکرو اسٹیبلیٹی رک گئی تو مشکل ہوجائے گا۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بجٹ کے جو اصول میں نے بتائے اس میں 3 چیزیں ہیں کہ ایک تو ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے جانا چاہتے ہیں اگلے 3 سال میں۔ اسی طرح ایل این جی، پاور سیکٹر ، پیٹرولیم اصلاحات انتہائی اہم ہیں۔ 10 کھرب روپے بہت ہیں اگر اس قسم کی لیکیج ملک میں نہ ہورہی ہو تو۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کام ہمارا کرنے کا ہے کہ لیکجز کو، کرپشن کو، چوری کو کیسے بند کرنا ہے تو اس معاملے پر ٹھوس اقدامات لیے جارہے ہیں۔ اب موبائل ایپ پر سب کام ہورہا ہے، یہی مقصد ہے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کا کہ جتنے کم لوگ اس عمل میں شامل ہوں گے اتنی ہی کرپشن کم ہوگی۔ ایف بی آر حکام اور ٹیکس دہندہ گان دونوں چوری میں ملوث ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے۔ غیرملکی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی بہتری کواب پائیدارمعاشی استحکام کی طرف لےجاناہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے نان فائلرز کی اصطلاح سمجھ نہیں آتی، ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 میں جو مفتاح نے ریٹیلرز پر ٹیکس کا قدم اٹھایا تھا وہ ہونا چاہیے تھا۔ کل تک 42 ہزار ریٹیلرز رجسٹر ہوگئے، ریٹیلرز پر یکم جولائی سے ٹیکس لگے گا۔ حکومت کے اخراجات کی بھی بات کرنا چاہتا ہوں۔ وزرا نے تو سیلری لینے سے انکار کردیا اور ہم اپنے یوٹیلیٹی بلز بھی خود دے رہے ہیں۔ یہ علامتی چیزیں ہیں، ہم نے پی ایس ڈی پی کو کاٹا تاکہ پبلک اخراجات کو کم کیا جائے۔ پنشن بجٹ کا حصہ نہیں تھا لیکن ای سی سی میں یہ فیصلہ ہوا، یہ بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، اس میں ہم نے اقدامات لیے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کوئی کمپنی نقصان میں جاتی ہے تو اس پر ٹیکس نہیں ہوگا۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ آئی ایم کا ہمارا آخری پروگرام ہوگا۔ روڈ ٹو مارکیٹ کے لیے 3 چیزیں ہیں۔ ان میں سے سے پہلے ایکسپورٹس آتی ہیں۔ ہم ایکسپورٹس کی صنعت کو ٹیکس رجیم میں لے آئیں، ان کی ایکسپورٹس پر ٹیکس نہیں بلکہ انکم پر ٹیکس ہے۔ اگر کسی کمپنی کا نقصان ہوتا ہے تو ان کو ٹیکس نہیں دینا پڑے گا، ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈ میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام کو آگے لے کر جارہے ہیں۔ اس پر مثبت پیش رفت ہوری ہے۔ ہماری معیشت در آمد پر منحصر کرتی ہے۔ ہمیں گروتھ نہیں بلکہ پائیداری کی طرف جانا ہے۔ اضافی ٹیکس سے کافی لوگوں پر دباؤ بڑھا ہے، میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر اضافی بوجھ ہے اور جیسے ہی ہمیں مالیاتی اسپیس ملے گی تو ہم ان کو ریلیف فراہم کریں گے۔