جڑانوالہ: ’پر تشدد واقعات کو فروغ دینے‘ کے جرم میں مسیحی شخص کو سزائے موت سنا دی گئی

  • سوموار 01 / جولائی / 2024

ساہیوال کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک مسیحی نوجوان کو سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹ شیئر کرنے پر سزائے موت سنادی ہے۔ عدالت کے مطابق اس پوسٹ کی وجہ سے گزشتہ سال اگست میں جڑانوالہ ٹاؤن میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

ساہیوال کی عدالت کے خصوصی جج ضیا اللہ خان نے فیصلہ سناتے ہوئے نوجوان کو 22 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

واضح رہے کہ اگست 2023  میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزامات کے بعد جڑانوالہ میں ہجوم نے درجنوں عیسائی گھروں اور 20 کے قریب گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کر کر انہیں نذر آتش کردیا تھا۔ پنجاب پولیس نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ جڑانوالہ میں اقلیتی برادری پر حملوں کے لیے لگ بھگ 135 شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اقلیتی اتحاد کے چیئرمین ایڈووکیٹ اکمل بھٹی کے مطابق، زیادہ تر ملزمان یا تو بری ہو چکے ہیں یا ضمانت پر رہا ہیں۔ مشکل سے 12 افراد اس وقت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مارچ میں، فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے دو مسیحی بھائیوں کو بری کر دیا تھا جنہیں ظاہری طور پر بے حرمتی کے الزام میں ’پھنسایا‘ گیا تھا۔ پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ دونوں کو ذاتی دشمنی پر توہین مذہب کے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔

سزا پانے والے مجرم پر ڈیرہ رحیم پولیس کے سب انسپکٹر عامر فاروق کی شکایت پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کرنے کا الزام تھا، جس میں مبینہ طور پر گستاخانہ مواد موجود تھا، انہیں پولیس نے انٹیلی جنس اطلاعات پر فسادات کے 3 دن بعد پکڑا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اسے دفعہ 295 (سی) کے تحت سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے، دفعہ 295 (اے) کے تحت 10 سال قید، الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت 7 سال قید اور 7(1) اے ٹی اے (جی) کے تحت 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔

شکایت کنندہ عامر فاروق، جو اب غلہ منڈی پولیس میں بطور ایس ایچ او خدمات انجام دے رہے ہیں،  نے ڈان کو بتایا کہ اگرچہ مجرم نے گستاخانہ مواد تیار نہیں کیا، لیکن اس نے اسے ٹک ٹاک پر شیئر کیا۔ جہاں سے یہ وائرل ہوا۔