دنیا خواتین کے حقوق بھول کر تعلقات استوار کرے: افغان طالبان

  • سوموار 01 / جولائی / 2024

طالبان کی جانب سے مغربی ممالک سے زیادہ روابط کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت دوحہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں کانفرنس سے خطاب میں ذبیح اللہ مجاہد نے زور دیا کہ افغانستان کے منجمد بین الاقوامی فنڈ جاری کیے جائیں اور اس کے بینکنگ کے نظام پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان بین الاقوامی معاشی نظام سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل سے آنے والے وفد کے سربراہ ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کی پابندیاں افغانستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں جو ان کی حکومت کا ہدف ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے خطاب میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار یا ان پر سفر پابندیوں کا واضح الفاظ میں ذکر نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے ثقافتی، مذہبی اور پالیسی کا اختلاف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق افغانستان کا داخلی مسئلہ ہے۔

اتوار کو شروع ہونے والی کانفرنس میں افغانستان میں 2021 سے برسرِ اقتدار طالبان نے اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں کو نقطۂ نظر کا اختلاف قرار دے کر مسترد کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں لگ بھگ دو درجن ممالک کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندوں کی دو روزہ کانفرنس قطر میں شروع ہو گئی ہے جس میں افغان طالبان کا وفد بھی شریک ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ طالبان نے افغانستان سے متعلق کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ کانفرنس کا سلسلہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شروع کیا جسے عمومی طور پر ’دوحہ پروسیس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

مذاکرات کی صدارت اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل روز میری ڈی کارلو کر رہی ہیں۔ اس کانفرنس میں شریک مندوبین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان کی شرکت اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی عدم شرکت اور طالبان کی شرکت پر افغانستان میں موجود خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور افغانستان سے باہر بھی کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوامِ متحدہ نے رواں برس فروری میں بھی اسی طرح کی ایک کانفرنس منقعد کی تھی جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ افغانستان کے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے کارکنان کی شرکت کے سبب طالبان نے اس کانفرنس میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اس بار کانفرنس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو مدعو نہیں کیا۔ گزشتہ برس مئی میں جب اس عمل کا پہلا راؤنڈ تھا تو طالبان کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے برسرِ اقتدار آتے ہی امریکہ نے افغان سینٹرل بینک کے سات ارب ڈالر منجمد کر دیے تھے۔ بائیڈن انتظامیہ نے 2022 میں اس میں سے آدھی رقم سوئٹرزلینڈ میں ایک ٹرسٹ ’افغان عوام کے لیے فنڈ‘ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی تھی۔ باقی رقم اب بھی امریکہ میں منجمد ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے ایک حالیہ رپورٹ میں طالبان کی سخت گیر پابندیوں کو ’پوری عام آبادی پر حملہ‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ سے تعبیر کیا تھا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے خطاب میں کہا کہ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے بعض ممالک کو اسلامی امارات کے اقدامات سے پریشانی ہو سکتی ہے۔ پالیسی کے اختلاف کو اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ طاقت ور ممالک اپنی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان عوام پر سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھا دیں جس سے ہماری قوم کی زندگی بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کو اپنا مؤقف نرم کرنے کے لیے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی تعلقات سے الگ رکھیں۔

طالبان کے ترجمان نے روس، چین اور دیگر ممالک سے اپنے بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان مغرب کے ساتھ بھی روابط کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک بھی اسی طرح باہمی دو طرفہ مفادات کو ترجیح دیں گے۔

اتوار کو کانفرنس کے آغاز سے قبل طالبان کے وفد نے روس، سعودی عرب، بھارت اور ازبکستان کے مندوبین سے بھی دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ افغانستان میں امریکہ کی دو دہائیوں تک جاری رکھنے والی جنگ کے خاتمے کے بعد اگست 2021 میں برسرِ اقتدار آنے والے طالبان کی عبوری حکومت کو کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ البتہ افغانستان میں 16 ممالک کے سفارتی مشن موجود ہیں اور چین وہ واحد ملک ہے جہاں طالبان کا سفیر مقرر ہے جب کہ بیجنگ نے بھی کابل میں اپنا سفیر مقرر کیا ہے۔