لدھیانہ براستہ پانی پت و رہتک (10)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 01 / جولائی / 2024
ہوئے ڈرائیور نے بتایا کہ پنجاب اور ہریانہ میں کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے دہلی پنجاب شاہراہ پر رکاوٹیں ہیں لہٰذا ہمیں متبادل راستوں سے گھوم کر سفر کرنا پڑے گا۔
ڈرائیور کی پریشانی کے برعکس پانی پت کے راستے جانے کا سُن کر دل کو اچھا لگا کہ چلو برصغیر کے ایک اور تاریخ مقام سے گزرنے کا موقع مل جائے گا۔ کیونکہ پانی پت کے مقام پر بابر کے ہاتھوں ابراہیم لودھی کی شکست نے ہندوستان میں طویل مغل دور کا آغاز ہوا تھا۔ پانی پت کے تاریخی مقام سے گزرتے ہوئے ایک بات باربار ذہن میں آرہی تھی کہ جب سکول میں ہمیں تاریخ پڑھائی جاتی تھی تو اُس میں ابراہیم لودھی کو ولن اور بابر کو ہیرو بنا کر کیوں پیش کیا جاتا تھا۔ اس میں تو شک نہیں کہ تاریخ ہمیشہ فاتحین کی ہی لکھی جاتی ہے لیکن بابر اور لودھی کے ہیرو اور ولن کردار کا مطالعہ پاکستان میں تعین کرنے والوں نے کیا پیمانہ اپنایا تھا۔
اگر مذہب مد نظر ہے تو دونوں ہی مسلمان تھے اور دونوں ہی غیر ہندوستانی تھے۔ ایک پشتون اور دوسرا ترک نسل مغل اور دونوں کا کم ازکم پاکستان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور نہ ہی کوئی ایسی دلیل دی جاسکتی ہے کہ مغلوں نے لودھیوں کے مقابلے ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے لیے بہتر رول ادا کیا۔ لیکن اس وقت جب سکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر مطالعہ پاکستان کا رٹا لگایا جاتا تو بابر ایک ہیرو اور ابراہیم لودھی ولن تھا۔ لیکن ہندوستان میں سفر کرتے تو اس رائے میں تبدیلی ہوئی کہ لودھیوں نے بھی بڑی ہمت سے یہاں حکمرانی کی اور تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے اور اتنے ہی عزت واحترام کے مستحق ہیں جنتی مغل حکمرانی۔
اور پانی پت کی جنگ کوئی مسلم اور غیر مسلم معرکہ نہ تھا بلکہ دو حکمرانوں کی ۂوس حکمرانی کا نتیجہ تھی جس میں ایک جیت گیا دوسرا ہار گیا۔
ہماری منزل لدھیانہ شہر کا نام بھی لودھی قبیلہ سے منسوب ہے جو ابتدا میں لودھی انا کہلاتا تھا جو بدلتے بدلتے لدھیانہ بن گیا ۔ اس سفر کے دوران بہت دفعہ مقرر روٹ بدلنا پڑا اور اس طرح شہر روہتک سے بھی گزرنا پڑا جس کے ساتھ یہ نسبت تھی کہ میری مرحومہ والدہ قبل از تقسیم ہند و پاک اپنے والد کی ملازمت کے سلسلہ میں یہاں قیام پذیر رہی تھیں۔ اور اکثر اس شہر کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ تھوڑی سی دیر گاڑی روک کر چند قدم چہل قدمی کر کے دل میں بسی نسبتی عقیدت کو پیش کیا۔
اس سفر کے دوران بہت سے شہروں کے پاس سے گزرنا ہوا جن کے نام سُن رکھے تھے یا پھر تاریخ ہندو پاک کے مطالعہ میں پڑھے تھے۔ کرنال کا نام جب سڑک کنارے اُبھر تو تحریک پاکستان کے مرکزی کردار اور محمد علی جناح کے قریب ترین ساتھی لیاقت علی خان کا نام فورا ذہن میں آیا جو کرنال کے نواب تھے اور جو پاکستان کی خاطر اپنی نوابی اور ریاست کو چھوڑ آئے تھے۔ کرنال کے مقام پر ہی 1739 میں نادر شاہ کی ایرانی فوج نے مغلوں کو شکست دے کر دلی پہ قبضہ کی راہ ہموار کی تھی۔ دلی سے مغرب کی جانب سفر کرتے ہر چند میل پر آپ کو تاریخ کے نقوش ملتے ہیں ۔
سب سے متاثر کُن ان میں سے ملیرکوٹلہ کا شہر ہے۔ اس شہر سے گزرتے سڑک سے واضع طور پر چند مساجد کے مینار نظر آ رہے تھے اور ساتھ عصر کی نماز کی اذان بھی سنائی دی۔ بتایا جاتا ہے کہ ملیر کوٹلہ پنجاب کا واحد شہر ہے جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں ہے۔ ملیر کوٹلہ کی آبادی کا تقریبا 68 فیصد حصہ مسلمانوں پہ مشتمل ہے۔ روایت ہے کہ اس کی وجہ شاید اورنگزیب عالمگیر کے زمانے کا وہ واقع ہے جب سرہند کے گورنر وزیر خان نےگرو گوبند سنگھ کے دو چھوٹے معصوم بیٹوں کو دیوار میں چُن دینے کا حکم دیا تو ملیر کوٹلہ کے نواب شیر محمد خان نے اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے شاہی دربار ترک کر دیا۔ جب یہ خبر گرو گوبند سنگھ تک پہنچی تواُس نے نواب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کرپان اور حکم نامے سے سرفراز کرتے ہوئے دعائیہ الفاظ فرماتے ہوئےکہا کہ نواب کا علاقہ ہمیشہ سرسبز اور شاد آباد رہے گا۔
ملیر کوٹلہ آج اپنی زرخیزی اور خاص کر سبزیاں اُگانے کے لیے مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ ملیر کوٹلہ واحد شہر ہے جو 1947 میں تقسیم پاک و ہند کے وقت فرقہ وارانہ فسادات سے محفوظ رہا اور کوئی مسلمان ہجرت پہ مجبور ہو کر پاکستان نہیں گیا تھا۔ شاید اسی وجہ سے یہ مشرقی پنجاب کا واحد شہر ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں آج بھی مسلمان آباد ہیں۔
(جاری ہے)