فوج، عدلیہ اور سیاسی پارٹیاں

2008 سے لے کر آج تک پاکستانی فوج اور عدلیہ کافی حد تک آئین پاکستان کے تحت کام کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستانی سیاست دان آئین پاکستان کو صرف اقتدار میں آنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جب یہ سیاست دان اقتدار میں آجاتے ہیں تو پھر مکمل طور پر ڈکٹیٹر بن جاتے ہیں اور ملکی فیصلے پارلیمان، منتخب نمائیندوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ اپنے ہی تعینات شدہ مشیروں سے ڈنگ ٹپاؤ  پالیسی سے ملک چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جو تنخواہ لیتے ہیں، وہ کام پورا کرتے ہیں، اپنی پوری ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ڈیوٹی پر پوری حاضری دیتے ہیں۔ جبکہ سیاست دان پارلیمان کے ممبر بننے کے بعد تنخواہ اور دوسری سہولتیں پوری لیتے ہیں لیکن اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتے۔

حالات یہ ہیں کہ نواز شریف اور عمران خان وزیراعظم ہونے کے باوجود ملکی پارلیمان میں بہت کم حاضر ہوئے۔ فوج اور عدلیہ کے ملازمین کسی حد تک منصفانہ قواعد و ضوابط، کسی اصول کے تحت اداروں میں ترقی کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی سیاسی پارٹیوں میں عہدے دار کسی اصول یا انصاف کے طریقے کار سے آگے نہیں آتے  بلکہ جو پارٹی ممبران پارٹی لیڈر شپ کی خوشامد کریں گے اور جو سرمایہ لگائیں گے وہ پارٹی کے عہدے اور اسمبلی کا ٹکٹ حاصل کر لے گا۔

فوج اور عدلیہ میں ہر سطح پر اختیارات کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم ہے۔ جبکہ پاکستانی سیاسی پارٹیوں میں سب اختیارات ایک آمر پارٹی لیڈر کے پاس ہوتے ہیں۔  یہ آمر پارٹی لیڈر کسی بھی وقت پارٹی کی کسی سطح کی تنظیم کو ختم کر سکتا ہے اور نئے عہدے پر نئے عہدے دار تعینات کرسکتا ہے۔ یہ پارٹی لیڈر ایسا کرتے وقت کسی بھی پارٹی ارکان سے مشاورت کا پابند نہیں۔

فوج ، عدلیہ اور دوسرے ریاستی آرگن پاکستان بننے کے بعد ریاستی اداروں میں ڈھل چکے، جس کی وجہ سے ان اداروں میں ادارتی معمول کے مطابق ہر سطح پر ملازمین کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ملازمین اپنی مقررہ مدت پر ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔ ان ریاستی اداروں میں کوئی بھی ڈائریکٹر، منیجر 8، 10 سال سے زائد اپنی ملازمت پر نہیں رہ سکا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی ملکی سیاسی منظر نامے میں 50 سال، 40 سال ، 25 سال رہنے کے باوجود سیاسی ادارہ نہیں بن سکی ۔ ہر پارٹی کا لیڈر 30 سال ، 40 سال سے پارٹی چیئرمین کی سیٹ پر براجمان ہے اور اس کے اردگرد بھی وہی چہرے ہوتے ہیں جو اس کے خود تعینات کردہ ہیں۔

کہنے کا مقصد سیاست پر بات کرنے والا ہر شہری یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرے گا کہ جب تک سیاسی پارٹیاں سیاسی ادارے نہیں بنیں گی ، ان کا اندرونی تنظیمی ڈھانچہ سیاسی کارکنان کی مشاورت سے نہیں تشکیل پائے گا، اس وقت تک یہ سیاسی پارٹیاں فوج یا کسی دوسرے بیوروکریٹ ادارے کا مقابلہ کسی بھی بحران، سیاسی بے یقینی صورتحال کے وقت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ سیاسی ادارہ کمزور  ہے۔  اس کی بنیاد میں سیاسی کارکنوں کی دلجمعی اور دلچسپی کم ہے۔

یہ سیاسی پارٹیاں صرف ایک خاندان یا ایک شخصیت کے گرد چل رہی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی اس کمزوری کو اسٹیبلشمنٹ بخوبی جانتی ہے۔ کہ ان سیاسی پارٹیوں کی عوام میں پذیرائی نہیں۔ اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو جب چاہے مرغا بنا لیتی ہے۔