پنجاب کی دھرتی شہیدوں کے خون سے سیراب ہے (11)
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 03 / جولائی / 2024
مختلف پولیس ناکوں اور کسانوں کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے اور گھومتے گھماتے پنجاب میں داخل ہوئے۔ اس طرح بڑی شاہراہوں سے ہٹ کر سفر کرنے سے ہریانہ اور پنجاب کے کئی علاقوں سے گزرتے ہوئے یہاں کی وسیع و عریض زرخیزی اور زرعی ترقی کے مناظر دیکھنے کا موقع ملا جو شاید موٹر وے پہ چلتے نظروں سے اُوجھل رہتے۔
یہ دیکھ کر اور پاکستانی پنجاب سے آگاہی رکھتے ہوئے متحدہ پنجاب کی زرخیزی کے گُن گائے جانے کی وجہ سمجھ آتی ہے اور یہ بھی کہ برطانوی دور حکومت میں پنجاب کو سونے کی چڑیا کیوں کہا جاتا تھا۔ جب پنجاب 2/3 ہندوستان کی ضروریات خوراک پوری کرتا تھا۔ آج کا بھارتی پنجاب تقسیم پاک وہند کے وقت والا پنجاب نہیں رہا بلکہ اب یہ تین صوبوں ہریانہ، پنجاب اور ہماچل میں بٹ چکا ہے۔ تقسیم پاک وہند کے وقت بنگال اور پنجاب دو ایسےصوبے تھے جو تقسیم ہوئے اور ان کے اندر سب سے زیادہ خونریزی اور نسل کشی کے دل خراش و اندوہناک واقعات رونما ہوئے تھے۔ جس سے صدیوں پرانے معاشرے قتل و غارت سے تہس نہس ہو گئے اور نسلوں سے ایک محلے اور گلی میں ساتھ رہنے والوں نے اپنے ہاتھ ہمسایوں کے خون سے رنگ لیے۔
اس کے علاوہ نقل مکانی کرنے والے راہ گزرتے قافلوں پر حملہ آور ہو کر بھی خون کی ندیاں بہائیں گئیں۔ یہ سب کچھ سرحد کی دونوں اطراف ہوا اور ایک ہی طرح کی انسانیت سوز خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اس طرح انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی اس بد نصیب خطے کا بدنما داغ بنی۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1947 میں امرتسر و جالندھر میں مسلمانوں کی آبادی 50 فیصد تک تھی جبکہ آج ایک فیصد سے بھی کم ہے اور اسی طرح پاکستان کے شہر راولپنڈی میں 1947 میں ہندو اور سکھ آبادی اکثریت میں تھی جو آج صفر کے برابرہے۔ بھارت کے موجودہ 28 صوبوں میں آبادی کے لحاظ سے پنجاب 16 نمبر پر ہےجس کی کل آبادی تین کڑور ستر لاکھ ہے۔ جس میں 58فیصد سکھ 38 فیصد ہندو اور 2 فیصد مسلمانوں ہیں۔ اس کا دارالحکومت چندی گڑھ ہے جو پنجاب کے علاوہ ہریانہ کا بھی دارالحکومت ہے۔ پنجاب بھارت کا واحد صوبہ ہے جس میں ہندو آبادی کی اکثریت نہیں ہے۔
پنجاب کے حوالے سے ایک بات بڑی تکلیف دہ کی جاتی ہے، وہ یہ کہ پنجاب نے ہر آنے والے فاتح کو قبول کیا اور مزاحمت نہیں کی۔ یہ بات میرے نزدیک بے علمی پر مبنی اور پنجاب سے ناانصافی ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ بات سب سے پہلے کس نے کی اور لوگوں نے اسے دہرانا فیشن کیوں بنا لیا۔ کیونکہ اگر تاریخ کو دیکھیں تو یونان سے چلنے والے فاتح عالم سکندر اعظم کے اگر کسی نے دانت کھٹے کیے ہیں تو وہ پنجاب کا راجہ پورس تھا جو دریا جہلم کے کنارے پنجاب کے دفاع میں ایسی مردانگی و بہادری سے لڑا کہ سکندر اعظم فتح پانے کے باوجود حوصلہ ہار کر آگے بڑھنے سے رُک گیا۔ اور واپس یونان کا رخ کر لیا۔ اسی طرح دیکھیں تو پنجاب کی دھرتی پہ حملہ آوروں اور پنجاب والوں کے درمیان ان گنت معرکے ہوئے۔ پنجاب کا دُلابھٹی، رائے احمد کھرل اور بھگت سنگھ اپنا تعارف آپ ہیں۔
اور پنجاب کے دانشوروں کا تو کیا ہی کہنا ۔ بابا فرید ہو یا وارث شاہ، کبیرداس ہو یا میاں محمد بخش یا پھر گرونانک۔ سب نے برملا کلمہ حق بولنے کا راستہ دکھایا ۔ جدید دور کے شعرا اور اہل ادب بھی کسی سے کم نہ تھے۔ پنجاب کی دھرتی نے جتنا خون دیا ہے شاید ہی کسی اور خطے نے دیا ہو۔ پنجاب کی مٹی کو زرخیز بنانے کے لیے پانچ دریاؤں کا پانی ہی نہیں بلکہ اس کو یہاں پہ بہائی گئی خون کی ندیاں بھی سیراب کرتی رہی ہیں۔
پنجاب میں داخل ہو کر کچھ تھوڑا تھوڑا سا پاکستان کا ماحول نظر آنے لگتا ہے۔ لوگوں کے خدوخال اور لباس کے علاوہ بازاروں اور عمارات کا ساختی ڈھانچہ بھی جانا پہچانا لگنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اور پھر پنجابی زبان اور گاڑیوں سے گونجتا پنجابی میوزک کا شور اپنائیت کا احساس دلاتا ہے۔ دوپہر کے وقت لدھیانہ شہر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جو ہمارے سفر بھارت کی اصل منزل اور میزبان شہر تھا۔ کیونکہ اسی شہر کے رہنے والے ناروے میں اپنے ہمسایوں کی دعوت پر ایک شادی میں شرکت کے لیے بھارت کا رخت سفر باندھا تھا۔
(جاری ہے)