کیا قوم جنرل ضیا کے بھوت سے نجات پاسکے گی؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 04 / جولائی / 2024
47 سال پہلے 5 جولائی کو جنرل ضیاالحق کی شکل میں اس ملک پر طاری ہونے والی سیاہ رات ابھی تک مسلط ہے۔ نہ صرف ایک منتخب حکومت کے خلاف فوج کی بغاوت غلط تھی بلکہ اس دور حکومت میں بعض ایسی روایات کا آغاز ہؤا اور بعض ایسے فیصلے کیے گئے کہ پاکستانی قوم ابھی تک ان کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکی۔ اس مشکل کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی شعوری کوشش بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ہر قوم آگے بڑھنے کے سفر میں غلطیاں کرتی ہے لیکن پاکستانی قوم کے ساتھ معاملہ اس سے الٹ ہوچکا ہے۔ ہم پسپائی کے سفر میں بھی غلطیوں سے گریز نہیں کرتے اور نہ ہی اس مقام سے درگزر کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سے بار بار ٹھوکر کھاچکے ہیں۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ پاکستانی اسکولوں اور درس گاہوں میں ضیا دور کے ان سیاہ گیارہ سالوں کے بارے میں کیاپڑھایا جاتا ہے یا اساتذہ نے شعور کی کون سی نئی راہ کی طرف ملک کے معصوم ذہنوں کی تربیت کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ لیکن تہ در تہ مشکلات کا انبار واضح کرتا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک ماضی قریب کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور نیا راستہ کھوجنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
اگست 1988 میں ضیا الحق کی حادثاتی موت کے بعد اگرچہ متعدد بار نام نہاد جمہوری ادوار دیکھنے کو ملے لیکن اس تمام عرصے میں اسی اسٹبلشمنٹ نے سیاسی عمل کو مسلسل اپنی باندی بنائے رکھا جس کی بنیاد ، ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف ضیاالحق کی بغاوت کے ذریعے رکھی گئی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کوئی بھی سیاسی حکومت اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی ضیا دور کے تمام قوانین اور طریقوں کو ترک کرنے اور ان 11سالوں کے دوران میں ہونے والے اقدامات، آئینی و قانونی تبدیلیوں، افغان جنگ جیسے دوررس نتائج کے حامل مہلک فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے کسی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کرتی ۔ اس سے ان تمام غلطیوں کی تفہیم سے مستقبل کا راستہ ہموار کیا جاسکتا تھا۔ لیکن سیاست دانوں نے جزوی یا محدود اقتدار کو ’اسٹبلشمنٹ‘ کا احسان سمجھا اور ملکی سیاست میں اس اصول کو ’صراط مستقیم‘ کے طور پر تسلیم کرلیا گیا کہ ملک میں فوج ہی واحد منظم ادارہ ہے جو طاقت ہی کا نہیں بلکہ ’علم و دانش ‘کا بھی سرچشمہ ہے۔ اسی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے اور اسی کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنا چاہئے۔
ضیا کی موت کے بعد فوری طور سے اس دور کی غلطیوں کی اصلاح نہ کرنے کا نتیجہ ہی تھا کہ مزید گیارہ سال بعد اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر سیاست دانوں کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ حالانکہ اس وقت ملک پر نواز شریف کی حکومت تھی جو ایک طرح سے پاکستانی سیاست کو فوج ہی کی دین تھے۔ البتہ عوام سے ووٹ لے کر حکومت بنانے والا کوئی شخص یاجماعت کسی نہ کسی سطح پر عوامی احساسات کا خیال رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن کسی فوجی آمر کو ایسی کوئی مجبوری لاحق نہیں ہوتی۔ پرویز مشرف نے ملک کے دونوں اہم سیاسی لیڈروں کو بدنام کرنے کی پوری کوشش کی اور انہیں جلاوطن کرکے ملکی سیاست سے بے دخل کرنے کا اہتمام بھی کیا گیا ۔ البتہ یہ کوششیں پوری طرح بارآور نہیں ہوئیں۔ اگر فوجی آمر اپنے عزائم میں پوری طرح کامیاب نہیں ہؤا تو ملکی سیاست دان بھی کوئی واضح حکمت عملی بنا کر ملک کے سفر کو آسان بنانے میں سرخرو نہیں ہوئے۔
2006 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے لندن میں میثاق جمہوریت پر اتفاق کرکے اگرچہ ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی اپنی سی کوشش کی ۔ معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ میثاق جمہوریت میں فوج کا دائرہ کار محدود کیا جائے۔ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت لانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبے ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 12 اکتوبر 1999 کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمین کے کیسوں کا جائزہ لے۔ اس معاہدہ میں تو ملکی جوہری اثاثوں کو بھی سول کنٹرول میں لانے کی بات کی گئی تھی اور سفارش کی گئی کہ ’ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کے تحت موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل دیاجائے تاکہ مستقبل میں جوہری رازوں کی چوری کے امکان کو ختم کیا جا سکے‘۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ اس معاہدے کی بیشتر شقات پر عمل نہیں ہوسکا۔ اگرچہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں سے انصاف کرنے اور پارلیمنٹ کو خود مختار بنانے کی کوشش ضرور کی گئی لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کو اصل خطرہ صدر کی بجائے آرمی چیف سے ہوتا ہے جسے اگرچہ وزیر اعظم مقرر کرتا ہے لیکن اس کے بعد وہ اسی کے اشارہ ابرو پر عمل کرنے کا پابند ہوجاتا ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد سیاست دانوں کی کمزوری کی ابتدا تو اسی وقت ہوگئی تھی جب بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف سے این آر او لینے اور معاہدہ کرنے کے بعد وطن واپس آنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ ان کے دماغ میں ضرور اصلاح احوال کا کوئی ٹھوس منصوبہ ہو گا لیکن تقدیر اور بعض درپردہ عناصر نے انہیں ان منصوبوں پر عملی جامہ پہنانے کی مہلت نہیں دی اور انہیں دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کردیا گیا۔ آصف زرداری نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگا کر اگرچہ ملک کو ایک بڑے سیاسی انتشار سے محفوظ رکھا لیکن بعد میں کسی بھی سیاسی لیڈر نے آمریت کے مضمرات سے نجات پانے کی کوشش نہیں کی۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کےبدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ یہ بحران ایک دور حکومت یا چند سال میں پیدا نہیں ہؤا بلکہ اس کا آغاز 5 جولائی 1977 کی اس تقریر سے ہؤا تھا جس میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایک فوجی آمر خلوص نیت سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانے کا وعدہ کررہا تھا لیکن بعد کے وقت نے ثابت کیا کہ اس وقت بھی اس کے دماغ میں ملک پر طویل حکمرانی کا منصوبہ چل رہا تھا۔ پاک فوج نے کبھی اپنے ایسے بدنیت اور آئین دشمن لیڈروں کا احتساب کرنے اور ان کے اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کی۔ بلکہ اگر ملک پر براہ راست حکومت قائم نہیں کی گئی تو بالواسطہ طور سے سیاسی حکومتوں کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کیا گیا۔ اسی کھینچا تانی نے ملک کو زوال کی ایسی منزل پر لاکھڑا کیا ہے جہاں دوست دشمن کی پہچان کرنا مشکل ہے اور منزل کا راستہ صرف آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں تک محدود ہوچکا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف معیشت بحال کرنے، سرمایہ کاری لانے اور سیاسی مخالفین سے بات چیت کرنے کے اعلان کرتے رہتے ہیں۔ اب شنگھائی سربراہی کانفرنس میں وہ دنیا سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مدد کرنے اور طالبان حکومت سے مثبت حکمت عملی اختیار کرنے کی اپیل کررہے ہیں لیکن پاکستان کی ایسی گزارشات صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو جن اصلاحات کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہئے، وہ اسے دوسرے ملکوں کی مدد سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں دنیا کی توجہ دہشت گردی کی علتوں کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی ہے لیکن ملک میں ان عوامل سے نمٹنے کا کوئی قومی منصوبہ پیش نظر نہیں ہے جس سے مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی کی روک تھام اور اسی کے نتیجے میں ایسی خوں ریزی ختم کرنے کا اہتمام ہوسکے جسے دہشت گردی کہا جاتا ہے۔
ضیاالحق کے دور کا بدترین کام ملکی سیاسی امور میں عسکری قیادت کا عمل دخل شروع کرنا تھا۔ ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی گروہ بنانے یا سیاسی پارٹیوں کو زیر دام رکھنے کے لیے شدت پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی کا طریقہ شرو ع کیا گیا۔ یہ سلسلہ اب تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ فوجی ادارے سیاسی پارٹیاں توڑنے اور بنوانے کے الزامات کا برا بھی نہیں مانتے لیکن شدت پسند گروہوں کے سلسلہ میں کنی کترانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ ملکی عدلیہ نے فیض آباد دھرنے کے تناظر میں اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت عظمی کی خواہش و کوشش کے باوجود اس معاملہ کے ایک بھی اہم کردار کو براہ راست پوچھ گچھ کے لیے طلب نہیں کیا جاسکا۔
اب عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کی باتیں مختلف عدالتی فورمز سے ضرور سننے کو ملتی ہیں لیکن عدلیہ بطور ادارہ یا ملکی پارلیمنٹ اس معاملے پر کوئی لائحہ عمل بنانے میں کامیاب نہیں ہے۔ حتی کہ سیاسی تقسیم کے موجودہ ماحول میں اس اہم موضوع پر کوئی سنجیدہ مکالمہ بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔ یوں لگتا ہے کہ ملک میں اہل دانش یا تو خوف سے منہ چھپانے وبند رکھنے پر مجبور ہیں یا سیاسی تقسیم میں کسی ایک گروہ کا حصہ بن کر اپنی قدر و قیمت کھوتے جارہے ہیں۔ ملک میں بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے جزیات پر دلائل و تقاریر کا طوفان واضح کرتا ہے کہ کیسے سیاسی ، صحافتی اور دانشور طبقات خود ہی راستہ کھوٹا کرنے اور مسائل میں اضافہ کاسبب بن رہے ہیں۔
فوج کو ملکی سیاست میں اہم اسٹیک ہولڈر بنانا جنرل ضیا الحق کا تحفہ ہے۔ اس طریقے کو عملیت پسندی کا نام دے کر قابل قبول بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ ملکی سیاست کو ان بیماریوں سے نجات دلاکر ہی فلاح کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے جو ایک طویل آمرانہ دور میں قومی مزاج، سیاست وسماجی رویوں کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ ملک کو ضیا کے بھوت سے نجات دلانا ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ البتہ یہ کام کرنے کے لیے پہلے یہ تسلیم پڑے گا کہ ضیا الحق ملک میں اسلامی سربلندی کے کسی منشور پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ مذہب کی آڑ میں انہوں نے سیاست و سماج پر اپنے پنجے گاڑنے کا اہتمام کیا تھا۔
اس وقت جو بھی سیاست میں فوج کے تعاون کو مجبوری کہتا ہے، اور مذہبی انتہاپسندی کو سیاسی ضرورت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ درحقیقت ضیاالحق کے ورثے کو آگے بڑھانے کا کام ہی کررہا ہوتاہے۔ حالانکہ پاکستان کی مشکلات کا آغاز اس دور کے غلط فیصلوں سے ہؤا جنہیں تبدیل کرکے ہی جمہوری نظام اور سماجی فلاح کا مقصد حاصل ہوگا۔