برطانیہ کے عام انتخابات لیبر پارٹی بڑی اکثریت سے جیت گئی
برطانیہ میں عام انتخابات کے نتاِئج کے مطابق لیبر پارٹی نے فتح حاصل کر لی ہے۔ سر کیئر سٹامر ملک کے اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ لیبر پارٹی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ 326 نشستیں حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر برطانیہ کے عام انتخابات میں کامیاب ہو گئی ہے۔
وسطی لندن میں خطاب کرتے ہوئے ملک کے اگلے وزیر اعظم کیئر سٹامر نے کہا کہ ’تبدیلی کا آغاز ہو رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سچ بولوں تو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اس سے قبل اپنے حلقے میں جیت کے بعد تقریر کرتے ہوئے کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے عام انتخابات میں شکست قبول کرلی ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی یہ عام انتخابات جیت چکی ہے اور میں نے سر کیئر سٹامر کو فون کر کے انھیں مبارک باد دے دی ہے۔ میں اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔
اب تک 650 میں سے 500 سے زائد نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے مطابق لیبر پارٹی کو دیگر جماعتوں پر 166 نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو صرف 136 نشستیں ملنے کی توقع ہے اور یہ تاریخی طور پر ان کی عام انتخابات میں اب تک کی بدترین شکست ہے۔
سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنما سٹیفن فلن نے انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو ’سٹامر سونامی بہا لے گیا ہے۔‘ اس سے قبل بی بی سی نے پیشگوئی کی تھی کہ لیبر پارٹی کو دیگر جماعتوں پر 160 سے زائد سیٹوں کی برتری حاصل ہو گی۔
واضح رہے کہ یہ ایگزٹ پول انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے تقریباً 130 پولنگ سٹیشنوں کے ووٹروں کے ڈیٹا پر مبنی تھے۔ اس پول میں شمالی آئرلینڈ کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ پچھلے پانچ عام انتخابات کے دوران ایگزٹ پول بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوئے تھے۔
دوسری جانب لبرل ڈیموکریٹس کا 56 ارکان کے ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ سکاٹش نیشنل پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد کم ہو کر 10 تک محدود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا جبکہ ریفارم یو کے پارٹی کو 13 سیٹیں ملنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔
2019 میں بورس جانسن کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی کو 80 سیٹوں کی برتری حاصل ہوئی تھی۔
2010 کے بعد پہلی بار لیبر پارٹی کا وزیر اعظم منتخب ہوگا۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کو اپنی مستقبل کی سمت تعین کرنا پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ رشی سونک کو پارٹی عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔